عوامی مسائل پر قانون سازی صفر، نکے کے ابا کے لئے سب حاضر

اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی تحریک انصاف حکومت نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق بل محض تین دنوں میں پاس کروا لیا مگر دوسری طرف کپتان کے ڈیڑھ سالہ اقتدار کے دوران صرف چھ بل ہی ایکٹ آف پارلیمنٹ بن سکے۔ ان چھ بلوں میں سے بھی ایک بھی بل ایسا نہیں ہے جو عام آدمی کی فلاح و بہبود، اصلاحاتی پالیسی یا معاشی ایجنڈے کی تکمیل سے متعلق ہو۔
آرمی ترمیمی ایکٹ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران وہ پہلا قانون تھا جس کی منظوری کے لیے نہ صرف تحریک انصاف بلکہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں یعنی پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ممبران اسمبلی بھاگتے ہوئے قومی اسمبلی اور پھر سینٹ میں پہنچے تا کہ بھائی لوگوں کو راضی رکھ سکیں۔ تاہم اس بل کی منظوری کے وقت نہ تو آصف زرداری ایوان میں موجود تھے، نہ ہی بلاول بھٹو اور نہ ہی شہباز شریف۔ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت نے یہ مقدس فریضہ ادا کرنے کی ذمہ داری اپنے ممبران پر ڈالی۔ تاہم مسلم لیگ میں کم از کم شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی صورت میں دو اصول پرست سیاستدان ایسے نکلے جنہوں نے قید میں ہونے کے باوجود اسمبلی سے آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری میں حصہ دار بننے سے انکار کر دیا۔
ظلم اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں تحریک انصاف کی حکومت نے تمام ضروری معاملات صدارتی آرڈیننسوں کے ذریعے چلائے اور اسمبلی سے قانون سازی کی زحمت گوارہ نہیں کی حالانکہ 84 دیگر بلز پچھلے کئی مہینوں سے قومی اسمبلی کی منظوری کے لیے سپیکر کے پاس زیرالتوا ہیں۔ حیرت ہے کہ عام آدمی کے حقوق کے تحفظ کے نام پر قائم کی گئی پارلیمنٹ نے ایک طاقتور شخصیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے آرمی چیف اور دیگر سروسز چیفس کی مدت ملازمت، توسیع اور ریٹائرمنٹ سے متعلق تین بل تومحض تین دن میں ہی منظور کرلیے ہیں لیکن اسی پارلیمنٹ میں موجود 84 دیگر بلز کے بارے میں یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں قانون سازی کے عمل میں حکومت کا ساتھ نہیں دیتیں۔ مگر جب معاملہ نکے کے ابا کا ہو تو حکومت اور اپوزیشن فورا ایک پیج پر آگئیں اور محض تین دن میں ملک کے وسیع تر مفاد میں میں قانون سازی ہو گئی۔
افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کے 17 ماہ میں قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے 38 بل پیش کیے گئے جن میں سے صرف 17 پاس ہوئے اور دو فنانس بلوں سمیت محض 8 ہی ایکٹ آف پارلیمنٹ بن سکے یعنی ان میں سے چھ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا۔
اس دوران ارکان کی جانب سے 63 نجی بل قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے جن میں سے ایک بھی پاس نہ ہوسکا۔ ان میں سے متعدد کا تعلق عام شہریوں کی زندگیوں سے ہے جن کی منظوری کی صورت میں ان کو روز مرہ کے معاملات میں خاصی سہولت ہو گی۔
ایک طویل عرصے سے زیر التوا بلوں میں سر فہرست ’زینب الرٹ‘ بل ہے جو قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب کے نام پر بچوں کے تحفظ کے لیے اپریل 2019 میں پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت پارلیمان نے اس بل کو اہم قرار دیا تھا لیکن یہ اب بھی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں زیر بحث ہے، اور اس کی منظوری کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔
اسی طرح جائیداد میں خواتین کے حصہ کے تحفظ اور اس حوالے سے کسی بھی تنازعے کے تیز ترین حل، وفاقی دارالحکومت کی خواتین کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینے کے لیے خواتین کی مخصوص نشست کے حوالے سے آئینی ترمیم، اور’وسل بلور ایکٹ‘ جس کے تحت کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو پکڑی گئی رقم میں سے حصہ دینے کی تجویز ہے، بھی ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کے منتظر ہیں۔
اس حوالے سے اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک دوسرے کو بلوں کی منظوری میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن نکے کے ابا کے حوالے سے پیش ہونے والی ترامیم کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں تعاون مثالی نظر آیا۔
اب تک ایکٹ آف پارلیمنٹ بننے والے قوانین میں سے پہلے سال صرف ایک فنانس بل اور دوسرا بل بچوں میں تمباکو نوشی کی ممانعت سے متعلق بل تھا۔ دوسرے سال میں بھی سینما میں تمباکو نوشی کی ممانعت، الیکشن کمیشن سے متعلق دو ترمیمی بل اور دو فنانس بل شامل ہیں۔
ایکٹ آف پارلیمنٹ بننے والے بلوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو منی لانڈرنگ، لوٹی ہوئی رقوم کی واپسی، حکومتی اصلاحاتی پالیسی اور حکومتی معاشی ایجنڈے کی تکمیل سے متعلق ہو۔
موجودہ حکومت نے 13 اگست 2018 کو شروع ہونے والے پہلے پارلیمانی سال میں 19 بل پیش کیے۔ ان میں دو فنانس بل کے علاوہ آٹھ منظور ہو سکے۔ دوسرے پارلیمانی سال میں اب تک حکومت نے 19 بل پیش کیے ہیں جن میں سات بل منظور کیے گئے ہیں۔ ان سات میں سے تین دن منگل سات جنوری کو 12 منٹ کے مختصر دورانیے میں پاس کرائے گئے ہیں جبکہ ایک ’بیرونی ممالک کے ساتھ قانونی معاونت کا بل‘ جو کئی ماہ پہلے پارلیمان میں پیش کیا گیا تھا گذشتہ روز پاس کیا گیا۔
اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت نے اب تک صدارتی آرڈینینسز پر انحصار کیا ہے۔ حکومت نے مجموعی طور پر جاری کیے گئے آرڈینینسز میں سے 27 پارلیمان میں پیش کیے ہیں جن میں سے 16 قومی اسمبلی میں جبکہ 11 سینیٹ میں پیش کیے گئے ہیں جبکہ متعدد آرڈینینس ابھی تک ایوان میں پیش کیے جانا باقی ہیں۔
سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے تین جنوری کو پیش کیے گیے تینوں بل حکومت ایک ہی دن میں منظور کروانا چاہتی تھی لیکن تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر اس میں مزید دو دن لگ گئے اور سات جنوری کو قومی اسمبلی نے ان بلوں کی بلا تاخیر منظوری دے دی۔ ایسے میں عام شہری کس طرح جمہوری عمل اور پارلیمنٹ پر اعتماد کا اظہار کرے گا جہاں فرد واحد کے لئے چند دنوں میں ہی قانون میں ترامیم ہو جائیں اور عوام کے لئے مسائل کی دلدل گہر ی سے گہری ہوتی جائے۔
