عورت بارے کپتان کی سوچ تضادات کا شکار کیوں؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عورتوں کے کم کپڑوں کو ریپ کی وجہ قرار دینے سے جنم لینے والا تنازعہ گھٹنے کی بجائے بڑھتا ہی چلا جارہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس طرح کا بیان پہلی مرتبہ نہیں دیا بلکہ تیسری مرتبہ دیا ہے۔
اس حوالے سے عمران خان کی سوچ پر تنقید کرتے ہوئے معروف ناول نگار اور لکھاری محمد حنیف نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ بار بار عورتوں کے کپڑوں کی پیمائش کرنے کی بجائے اپنے ملک کا قانون پڑھیں اور پھر اپنی قوم کے مردوں کو بھی اس سے ڈرائیں۔ اسکے علاوہ بہتر ہو گا کہ وہ کبھی کبھی اللہ کے عذاب کا بھی ذکر کر دیا کریں تا کہ ہم جیسوں کی بیمار ذہنیت کو کچھ افاقہ ہو۔حنیف بی بی سی کے لیے اپنی تحریر بعنوان ‘عمران خان اور علم جنسیات، میں لکھتے ہیں کہ عمران خان نے ساری زندگی ناممکنات کے ساتھ جنگ لڑی ہے۔ انہوں نے جب کرکٹ کھیلنے کی ابتدا کی تو انکے ہر کزن نے کہا کہ تیرا کچھ بھی نہیں بن سکتا۔
پہلی دفعہ اپنے شہر لاہور میں انٹرنیشنل میچ میں بیٹنگ کے لیے اترے تو زیرو پر آؤٹ ہو کر پویلین واپس گئے اور بقول ان کے پچ سے پویلین تک واپس ان کی زندگی کی سب سے لمبی واک تھی۔ اس کے بعد جو ہوا وہ کون نہیں جانتا۔ کرکٹ کی دنیا کے سکندرِ اعظم بن کر وہ اپنی والدہ کے نام پر کینسر ہسپتال بنانے نکلے تو لوگوں نے کہا خان صدمے میں پاگل ہو گیا ہے لیکن خان نے سکول کے بچوں سے چندہ لے کر ہسپتال بنایا۔ جب سیاست میں آئے تو بیس سال تک ان کے دشمن تو کیا دوست بھی یہی کہتے رہے کہ اس بندے کو سیاست نہیں آتی۔ اس دوران مرحوم حمید گل جیسے اتالیق بھی آئے لیکن دل چھوڑ گئے اور یہ کہتے پائے گئے کہ اگر یہ بندہ برطانیہ میں ہوتا تو کب کا وزیراعظم بن گیا ہوتا لیکن پاکستان کی سیاست میں ہمشیہ ہی خوار رہے گا کیونکہ یہ سیدھا سادھا آدمی ہے جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ اب آپ بتائیں کہ پاکستان کی سیاست کے وہ گرگے کہاں ہیں اور وہ سیدھا سادھا منہ پھٹ انسان کہاں بیٹھا ہے۔ الیکٹڈ سلیکٹڈ کی بحث چھوڑیں، یہ بتائیں کہ کیا کسی نے پاکستان میں اتنا طاقتور وزیراعظم پہلے دیکھا ہے۔ عمران کے سیاسی دشمن یا تو جیلوں کو جا رہے ہیں یا ضمانت کروا کر جیل سے نکلنے کی فکر میں ہیں۔ جو زیادہ دور اندیش ہیں وہ پس پردہ چلے گئے، جو باقی بچے ہیں وہ سیاسی میدان میں ان کا مقابلہ کرنے کے بجائے کبھی ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہیں کبھی ہاتھ باندھ کر جنرل باجوہ کی طرف۔ خان صاحب اپنے سارے سیاسی دشمنوں کو پچھاڑ چکے۔ اب ان کا ایک دشمن بچا ہے اور وہ ہے ان کی اپنی زبان۔ خان صاحب اکثر فرماتے ہیں کہ مغرب کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور اب ہم تو کیا مغرب والے بھی مان گئے ہیں۔ محمد حنیف کہتے ہیں کہ بل گیٹس رات کو اس وقت تک سوتا نہیں جب تک خان صاحب سے فون پر بات نہ کرلے۔ امریکی صدر جو بائیڈن اس کشمکش میں زندگی گزار رہےبہیں کہ اسے فون کروں یا نہ کروں کیونکہ یہ بندہ مغرب کو مجھ سے زیادہ سمجھتا ہے۔ خان نے ابھی پچھلے ہفتے فرمایا کہ بہت سارے پاکستانیوں سے زیادہ ہندوستان کو سمجھتا ہوں کیونکہ جتنا پیار مجھے انڈیا میں ملا ہے کسی کو نہیں ملا۔
خان صاحب کے ان دعوؤں کے تصویری ثبوت موجود ہیں۔ خان صاحب کھل کر کہتے ہیں کہ پہلے میں گمراہ تھا پر میں راہ راست پر آ گیا۔ ان کے چاہنے والے اور ان کو ووٹ ڈالنے والے اور ووٹ ڈلوانے والے ان کی اس ادا کو پسند کرتے ہیں کہ وہ ایک پاکستانی مرد کی بولی بولتے ہیں جسے پنجابی میں جٹکا بھی بولتے ہیں یعنی جٹ کا انداز اور خان صاحب یہ باتیں رواں انگریزی میں بولتے ہیں۔ جٹکا بولنے سے جٹ برداری کی توہین مقصود نہیں ہے ویسے بھی جٹ اپنی توہین کا بندوبست گھر سے کر کے چلتے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ خان صاحب ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک اخلاقی مشعل راہ بھی ہیں۔ ہمارے نوجوان ان کی بات اس لیے بھی زیادہ سنتے ہیں کیونکہ وہ کسی مولوی کے گھر پیدا نہیں ہوئے، کسی مدرسے سے اخلاق سیکھ کر نہیں آئے۔ مشرق اور مغرب کو کھنگال کر اپنا راستہ خود چنا ہے۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ عمران خان عورتون کے ریپ کی اصل وجہ کوئی ایک مرتبہ نہیں بلکہ تین دفعہ بتا چکے ہیں اور انکا اصرار ہے کہ اصل مسئلہ عورتوں کا فحش کپڑے پہننا ہے کیونکہ عریاں عورت کو دیکھ کر مرد خود پر قابو رکھ ہی نہیں سکتا کیونکہ مرد کوئی روبوٹ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے۔ لیکن حنیف کے خیال میں لگتا یوں ہے کہ یا تو عمران کا ذہن اپنے گمراہ ماضی کے کسی ڈسکو میں بھٹک رہا ہے یا انکی زبان انکی صاف اور نیک نیت کا ساتھ نہیں دیتی۔ ناقدین کی نہ سنیں کسی دن اپنی پارٹی کی متحرک خواتین کو گول میز کے اردگرد بٹھا کر تھوڑی دیر کے لیےاپنا منہ بند کر کے سنیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے تو ان کو وہی سنائی دے گا جو معاشرے میں سب کو پتہ ہے۔ یہ سننے کو ملے گا کہ جب یہ سب ہوا تب میں صرف چار سال کی تھی اور میں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی، میں آٹھ سال کی تھی اور دوپٹہ بھی کیا ہوا تھا، میں چالیس سال کی تھی اور مین نے چادر بھی اوڑھ رکھی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ زیادہ تر عورتیں اپنے گھروں میں بیٹھے، محلے میں، یا کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔
حنیف کہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت نے اس مسئلے پر قانون سازی سخت کر دی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اسے ایک کریہہ فعل سمجھتے ہیں لیکن آخرکار ان کی زبان پر وہ بات آ جاتی ہے جو پاکستان کےلونڈے اور مرد سننا چاہتے ہیں کہ میں تو عورت کو دیکھ کر بے بس ہو گیا تھا، مجھے یود پر کوئی قابو نہیں رہ گیا تھا۔
حنیف کا کہنا ہے کہ خان صاحب یقینی طور پر خود اپنی نفسانی خواہشات مار کر اس رتبے تک پہنچے ہیں لہازا یا تو وہ اپنے پارسا کردار کی مثال دیں یا پھر اپنے ملک کے قانون سے ریپ کی نیت رکھنے والوں کو ڈرائیں۔ ان کو یہ تو پتا ہی ہو گا کہ ہر مرد کو ہر نو سیکنڈ کے بعد کوئی گندا خیال آتا ہے لیکن وہ اس پر عمل اس لیے نہیں کرتا کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ عورت تھپڑ مار دے گی، شور مچائے گی، گھر میں محلے میں بدنامی ہو گی، کوئی زیادہ ہمت والی ہوئی تو تھانے کچہری پہنچ جائے گی۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کم از کم کاغذوں میں تو ایک قانون موجود ہے جو مرد کو ریپ کی سخت سزا یاد دلاتا ہے۔ لہازا حنیف کہتے ہیں کہ عمران کو چاہیے کہ وہ بار بار عورت کے کپڑوں کی پیمائش کرنے کی بجائے اپنا قانون پڑھ لیں اور پھر قوم کے مردوں کو بھی اس قانون سے ڈرائیں۔ اسکے علاوہ کبھی کبھی انہیں چاہیئے کہ اللہ کے عذاب کا بھی ذکر کر دیا کریں تا کہ ہماری بیمار ذہنیت کو کچھ افاقہ ہو سکے۔
