غلام پاکستانی قوم کی کہانی جو خود کو آزاد سمجھتی ہے


برصغیر میں برطانوی راج کے خاتمے اور پاکستان کو جغرافیائی طور آزاد ہوئے 73 برس مکمل ہو گئے۔ تاہم آج بھی پاکستانی قوم ذہنی غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ جناح کے خوابوں کے برعکس پاکستان میں غربت، بے روزگاری، قانون کی پامالی، مذہبی استحصال، جمہوری آزادیوں پر پہرے، سیاست میں فوجی مداخلت، میڈیا پر پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی جیسے مسائل برقرار ہیں لیکن ہر حکومت پاکستانی عوام کو یہی یقین دلاتے اور تلقین کرتے دکھائی دیتی ہے کہ وہ ایک آزاد قوم ہے لہذا کھل کر جشن آزادی منائے۔ لیکن کڑوا سچ تو یہ ہے کہ اس ذہنی طور پر غلام قوم کے حکمران بھی کسی طاقتور کے غلام ہیں۔
یہ حقیقت پاکستان کے غلام حکمران اور غلام ذہن رکھنے والے عوام بھی اچھی طرح جانتے ہیں لیکن اس سے آنکھیں چرانے میں ہی عافیت اور بھلائی سمجھتے ہیں۔ زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ دراصل پاکستانی قوم جن لوگوں کی غلام ہے وہ بھی آگے کسی کی غلامی کر رہے ہیں اور غلام سوچ رکھنے والے ہمیں غلامی سے نہ نکالنا چاہتے ہیں نہ خود نکلنا چاہتے ہیں۔
پاکستانی قوم 14 اگست کو اپنا جشن یوم آزادی مناتی ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ قیام پاکستان کے 74 برس بعد بھی وہ ایک غلام قوم ہے۔ ہر سال اگست کا مہینہ عجب خوشی اور شادمانی لے کر آتا ہے،چار سو خوشیاں اور نغمے گنگنائے جاتے ہیں۔ بوڑھے، نوجوان حتی کہ بچے بھی خوشی  سے نہال ہوتے ہیں جنہیں بچپن سے ہی بتایا جاتا ہے کہ اس مہینے میں ایک دن ایسا ہے کہ جب ہمارا ملک آزاد ہوا تھا۔ لیکن 14 اگست اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی مسخ شدہ تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ لیکن یہ آزادی کس سے حاصل کی، اور کیوں اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔
ہم آزادی کی تحریک کے دوران محمد علی جناح کی پوری جدوجہد کا خلاصہ کریں تو وہ تین الفاظ کے گرد گھومتی ہے جو قائدِ کے پاکستان کا بنیادی تصور بھی ہیں: پہلا قانون کی حکمرانی، دوسرا جمہوریت اور تیسرا مذہبی آزادی- اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جناح کے پاکستان میں یہ تین چیزیں آج مفقود ہیں۔ انہی تین تصورات پر جناح بیک وقت حکومتِ برطانیہ سے بھی لڑتے رہے اور پھر ہندووں سے بھی لڑے لیکن آج کے پاکستان میں نہ تو قانون کی حاکمیت ہے، نہ ہی حقیقی جمہوریت ہے اور نہ ہی اقلیتوں کو مذہبی آزادیاں حاصل ہیں۔ لیکن ذہنی طور پر غلام پاکستانی قوم پھر بھی بڑے زورشور سے نام نہاد آزادی کا جشن مناتی ہے۔
قائد اعظم کی قیادت میں ہمیں آزاد مملکت تو مل گئی لیکن ہم شخصی اور ذہنی آزادی حاصل کرنے میں آج دن تک ناکام ہیں۔
ہم نے محمد علی جناح کو قائد اعظم تو بنا دیا لیکن پاکستان کو ان کے خوابوں کی تعبیر دینے میں ناکام رہے۔ جناح اپنے حصے کا کام کرکے سرخرو ہو گئے لیکن ہم ان کے خوابوں کے مطابق نہ تو پاکستان میں قانون کی حاکمیت قائم کر پائے ہیں، نہ حقیقی جمہوری نظام لا پائے ہیں اور نہ ہی اقلیتوں کو ان کے دینی عقائد کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی دے پائے ہیں۔ دنیا کی ہر قوم کسی نہ کسی اصول و ضابطہ کی پابند ہو چکی لیکن ہماری جغرافیائی آزادی کی تاریخ ہمارے عمل و کردار کی گواہ ہے کہ ہمارے ملک میں فوجی آمروں کو آئین توڑنے کی آزادی ہے، سیاستدان کو منافقت کرنے کی آزادی ہے، وکیل کو مجرم کا دفاع کرنے کی آزادی ہے، جج کو انصاف فروخت کرنے کی آزادی ہے، مذہبی ملّاں کو دین فروخت کرنے کی آزادی ہے، سیکولر ملّاں کو شر پھیلانے کی آزادی ہے، کالم نگار کو جھوٹ بولنے کی آزادی ہے، صحافی کو ضمیر فروشی کی آزادی ہے، چور کو چوری کی آزادی ہے، ڈاکو کو ڈاکہ زنی کی آزادی ہے، پولیس کو رشوت لینے اور کسی کو جان سے مارنے کی آزادی ہے، ڈاکٹر کو کسی مجبور مریض سے من مانی فیس لینے کی آزادی ہے اور معلم کو تعلیم فروخت کرنے کی آزادی ہے-
لہذا پاکستان کی جغرافیائی آزادی کا دن منانے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ اصل آزادی سوچ اور ذہن کی ہوتی ہے جس پر پاکستان میں کڑے پہرے لگا دیے گئے ہیں۔ عوام کو یہ بھی سمجھنا چاہیئے کہ پاکستان کا اصل جشن آزادی اس روز منایا جائے گا جب ملک میں جناح کے تصورات کے عین مطابق قانون کی حکمرانی ہوگی، جمہوریت کا بول بالا ہوگا اور اقلیتوں کو مذہبی آزادیاں حاصل ہو ں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button