غیرقانونی تعیناتیاں، شاہدخاقان عباسی کے خلاف ریفرنس کی منظوری

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق ایم ڈی شیخ عمران الحق، ڈپٹی ایم ڈی یعقوب ستار اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنےکی منظوری دے دی۔اسلام آباد میں نیب چیئرمین (ر) جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایگز یکٹو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا۔نیب کے ایگز یکٹو بورڈ کے اجلاس میں بدعنوانی کے 3 ریفرنسز کی منظوری دی گئی۔
نیب کی پریس ریلیز کے مطابق سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے وفاقی حکومت کے مقررہ کردہ طریقہ کار اور قوانین کے خلاف وزری کرتے ہوئے سابق ایم ڈی پی ایس او اور ڈپٹی ایم ڈی پی ایس او کو تعینات کیا۔نیب کے مطابق سابق ایم ڈی پی ایس او اور ڈی ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی سے قومی خزانے کو 13 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
علاوہ ازیں پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بورڈ آف ریونیو حکومت سندھ کے سابق سینئر رکن غلام علی شاہ پاشاہ، لینڈ یوٹیلائزیشن کے سابق سیکریٹری عبدالصبحان میمن، حیدرآباد کے سابق ڈسٹرکٹ افسر محمد سالک سمیت دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔نیب کے مطابق مذکورہ افسران نے قومی خزانے کو 12 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔
علاوہ ازیں نیب کے مطابق تیسرے ریفرنس میں 8 سرکاری افسران کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس بھی دائر کرنے کی منظوری دی گئی جس سے قومی خزانے کو 4 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔اس ضمن میں مزید بتایا گیا کہ نیب کے اجلاس میں 2 انوسٹی گیشنز کی منظوری بھی دی گئی۔فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سابق اسپیشل اسٹٹنٹ وزیراعلی سندھ، التمش میڈیکل سوسائٹی کے مالکان، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشنز کی منظور دی گئی۔
پریس ریلیز میں چیئرمین نیب (ر)جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں خصوصاً ورلڈ اکنامک فورم کی حالیہ رپورٹ میں نیب کی آگاہی اور تدارک کی پالیسی کو سراہا ہے جو نیب کے لیے اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کی سزا دلوانے کی مجموعی شرح تقریباً 70 فیصد ہے اور نیب مضاربہ/ مشارکہ کے 45 ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے عوام کی لوٹی گئی اربوں روپے کی رقوم برآمد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
واضح رہے کہ نیب کراچی نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) میں غیرقانونی تعیناتی سے متعلق ایک اور ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی تھی۔نیب کے اعلامیے میں کہا گیا کہ شاہد خاقان عباسی نے وفاقی حکومت کے مقررہ کردہ طریقہ کار اور قوانین کے خلاف وزری کرتے ہوئے شیخ عمران الحق کو پی ایس او کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم ایل این جی اسکینڈل میں نیب کی حراست میں ہیں۔ان پر الزام ہے کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے تب انہوں نے ایل این جی ٹرمینل کا 15 سالہ ٹھیکہ تفویض کرتے وقت قوانین کو مد نظر نہیں رکھا۔نیب نے مذکورہ مقدمہ 2016 میں بند کردیا تھا تاہم 2018 میں دوبارہ کھول دیا گیا۔
