فارن فنڈنگ کیس بھارت اوراسرائیل کے پیسے کا کیس ہے

پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے سربرہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس دراصل اسرائیل اور ہندوستان کے پیسے کا کیس ہے، جو کہتا ہے کہ اسرائیل کو برا نہ کہو ان کی وکالت کرنے والوں پر لعنت ہے، پاکستان کو بین الاقوامی منصوبے کے تحت دیوالیہ پن کی طرف دھکیلا گیا ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا یہ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں یہ ملک کے کسی خاص حصے کی مشکلات نہیں بلکہ پورا پاکستان بحرانوں اور معاشی مشکلات کی طرف دھکیلا گیا ہے اور میں وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو بین الاقوامی منصوبے کے تحت دیوالیہ پن کی طرف دھکیلا گیا ہے۔

انکا کہناتھا جو قوتیں آج دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں اور پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں ہم نے ان سازشوں کا مقابلہ کرکے اس سازش کو پیچھے دھکیلا ہے،ہم ان سازشیوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو پاکستان کی سیاست میں دوبارہ ابھرنے نہیں دیں گے، عمران نیازی کی حکومت اب ایک قصہ بن چکی ہے، اس کی جماعت و قیادت نے نئی نسل کو سوائے گالیوں اور بدتمیزیوں کے اور کوئی درس نہیں دیا اور ان کی تربیت گاہ میں ہماری نئی نسل کو یہی کچھ ملا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا ہم ایک فتنے کا مقابلہ کر رہے ہیں جہاں اس کا ایک کارکن کہتا ہے کہ اگر (عمران خان) پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرے تو میں اس پر کلمہ پڑھ لوں،پورے ملک نے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا ہے، کیا وجہ ہے کہ آج پاکستان کی سیاست میں مذہی، سیکیولر، قوم پرست، دائین و بائیں بازو سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ سب اکٹھے ہیں، سب کے اکٹھے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سب لوگ اس (عمران خان) کو فتنہ سمجھتے ہیں ورنہ ہم سب لوگوں کے درمیان سوچ و نظریے کا اختلاف ہے، لیکن آج سب اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ اس فتنے سے پاکستان کو بچا سکیں۔

امیر جےیو آئی نے کہاابھی ممنوعہ فنڈنگ کیس آیا جس میں اس نے اسرائیل اور بھارت سمیت ان کے دوستوں سے پیسے لیے مگر کوئی ریکارڈ نہیں جبکہ نواز شریف کے خلاف ایک پاناما کیس آتا ہے تو عدالت ان کو اقامہ کیس پر نااہل قرار دیتی ہے مگر یہاں پر گھپلوں کے پہاڑ ہونے کے باوجود بھی خاموشی ہے، یہ خاموشی بھی بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کیا وجہ ہے الیکشن کیشن ابھی تک ممنوعہ فنڈنگ پر فیصلہ نہیں سنا رہا، آج ایک برطانوی اخبار ‘فنانشل ٹائمز ‘ نے پوری خبر شائع کی ہے کہ ابراج گروپ نے ووٹن کرکٹ اکاؤنٹ کے ذریعے فلاحی کاموں پر پیسے جمع کیے اور وہ عمران خان کی پارٹی فنڈ میں جمع ہوئے تو اس پر خاموشی کیوں ہے۔

Back to top button