سب سے بڑے عدالتی فورم کا جسٹس بندیال پرعدم اعتماد

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہی ڈی ایم اے اتحاد کی جانب سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر گزشتہ ہفتے اظہار عدم اعتماد کے بعد اب ملک کے سب سے بڑے عدالتی فورم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے بھی جسٹس بندیال پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ 28 جولائی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اہم ترین اجلاس میں پیش آیا جس کی سربراہی عمر عطا بندیال کر رہے تھے۔ چیف جسٹس نے حسب سابق سپریم کورٹ میں پانچ ججز کی اسامیوں پر تعیناتی کے لیے جن جج حضرات کے نام تجویز کیے وہ واضح طور پر سنیارٹی اصول کے خلاف تھے چنانچہ کمیشن کے 9 میں سے 5 اراکین نے جونیئر ججوں کے نام مسترد کر دیے جس کے بعد جسٹس بندیال اجلاس ادھورا چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کی کارروائی کور کرنے والے سینئر صحافی اسد علی طور اس واقعے کو چیف جسٹس بندیال پر اظہار عدم اعتماد کے مترادف قرار دیتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے ہی گھر میں ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
سپریم کورٹ میں منعقد ہونے والے اس جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی صدارت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کی۔ ان کے ساتھ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سجاد علی شاہ، ریٹائرڈ جسٹس سرمد جلال عثمانی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین، جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپین اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے اس اہم اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس شروع ہوا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے نامزد کردہ پانچ ججوں کے ناموں کا اعلان کیا۔ ان میں پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان، لاہور ہائیکورٹ سے جسٹس شاہد وحید، سندھ ہائیکورٹ سے جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس نعمت اللہ شامل تھے۔
چیف جسٹس بندیال نے جوڈیشل کمیشن کے شرکا سے کہا کہ اگر کسی کو ان ناموں پر اعتراض ہے تو وہ اپنی بات اس فورم پر رکھ سکتا ہے۔ اس پر ریٹائرڈ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ وہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کے نام کو مسترد کرتے ہیں جبکہ وہ باقی چار ناموں کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ اسکے بعد جسٹس اعجاز الاحسن کی باری آئی تو انہوں نے صرف ایک جملہ بولا اور کہا کہ میں ان تمام ناموں کو ویلکم کرتا ہوں۔ اگلی باری جسٹس سجاد علی شاہ کی تھی جو کہ 14 اگست 2022 کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کے بارے میں پہلے سے بار کونسلز کا اعتراض تھا کہ چونکہ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں، اسلئے اپنا جانشین خود کیسے تعینات کر سکتے ہیں۔ تاہم جسٹس سجاد بے شرمی سے اجلاس میں شریک ہوئے اور انہوں نے پانچوں ناموں پر چیف جسٹس بندیال کی حمایت کی۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف علی کی باری آئی تو انہوں نے پانچوں ججز کی نامزدگی کو مسترد کر دیا۔ انکے بعد جسٹس طارق مسعود کھوسہ نے بھی جسٹس بندیال کے پیش کردہ پانچوں ناموں کو مسترد کر دیا۔ یاد رہے کہ جسٹس طارق مسعود کھوسہ سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد تیسرے سینئر ترین جج ہیں۔ انہوں نے ان نامزدگیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سنیارٹی کے اصول کو ایک مرتبہ پھر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نامزد کردہ ججوں کے بارے میں بتایا کہ انکے بہت سارے فیصلے سپریم کورٹ سے رد ہو چکے ہیں اور ان فیصلوں سے بھی پتہ چلتا ہے کہ کون سا جج کتنا قابل ہے۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان کا کیس اگلے اجلاس کے لیے مؤخر کر دیا جائے اور باقی سب ججز کے نام مسترد کر دیے جائیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی باری آئی تو انہوں نے کہا کہ میں جسٹس طارق مسعود کی تمام باتوں سے اتفاق کرتا ہوں اور میرا ماننا ہے کہ جب بار بار سنیارٹی کا نکتہ اٹھایا جا چکا ہے تو پھر چیف جسٹس سینئر ججز کی بجائے چوتھے، چھٹے اور ساتویں نمبر کے ججز کے نام کیوں لے کر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کا حق مارنے کی کوشش ہو رہی ہے ان سینئر ججز کے فیصلوں کی بار کونسلز بھی تعریف کرتی ہیں، وہ قابل ججز ہیں، اور ان کے ناموں پر کوئی داغ نہیں، لیکن پھر بھی ان کو چھوڑ کر جونیئر ججز کو کیوں اوپر لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جسٹس بندیال کے تجویز کردہ پانچوں ناموں کو رد کرتا ہوں۔
اس کے بعد پاکستان بار کونسل کے رکن اختر حسین نے بھی سنیارٹی کے اصول کو تسلیم نہ کرنے پر جونیئر ججز کی نامزدگی کو مسترد کر دیا۔ ایسے میں معاملہ چار چار ووٹوں سے برابر تھا۔ لیکن جب آخر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی باری آئی تو انہوں نے سپین سے ویڈیو لنک پر اجلاس میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میں ان پانچوں ججز کے نام مسترد کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سنیارٹی کا اصول ایک مرتبہ پھر روندا جا رہا ہے اور چند مخصوص جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ میں گھسانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال غصہ کھا کر اپنی سیٹ سے برہمی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اعلان کیا کہ میں سندھ ہائی کورٹ کے ساتویں نمبر کے جج نعمت اللہ پھلپوٹو کا نام مسترد سمجھتا ہوں جب کہ باقی چار ججز کے نام مؤخر کر رہا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اجلاس سے نکل گئے اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی ان کے پیچھے پیچھے اٹھ کر چلے گئے۔
یاد رہے کہ جن ججوں کے ناموں کو مسترد کر دیا جائے وہ دوبارہ کسی کمیشن میں نہیں نامزد کیے جا سکتے۔ لیکن مؤخر ہونے کی صورت میں دوبارہ ناموں کو سامنے لایا جا سکتا ہے۔ یہاں 4 کے مقابلے میں 5 کی اکثریت سے ججز کے نام مسترد ہو گئے لیکن چیف جسٹس نے چار ناموں کو مؤخر تصور کر لیا یعنی وہ دوبارہ انہی ناموں کو سامنے لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اسد علی طور کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کو اپنے گھر میں ہی عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے لیکن انکے ساتھ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر نظرِ ثانی اپیل میں انہیں سپریم کورٹ میں 4 کے مقابلے میں 6 ججز کے فیصلے سے شکست ہوئی تھی۔
