فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اگست میں سنائے جانے کا امکان

برطانوی میڈیا میں کرکٹ میچوں اور چیریٹی کے نام پر لاکھوں ڈالرز اکٹھے کر کے تحریک انصاف کی فنڈنگ کرنے کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد حکومتی اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دباؤ لینا بند کریں اور آٹھ سال سے زیر التوا تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ کریں۔ اس سے پہلے مریم نواز نے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے خلاف غیر قانونی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے میں مزید تاخیر کی تو اس کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اگست میں سنائے جانے کا قوی امکان ہے۔
اس دوران 28 جولائی کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے یہ بڑی خبر بریک کی کہ ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی غیرملکی افراد اور کمپنیوں کا پیسہ اپنی کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کے اکاؤنٹ میں جمع کر کے وہاں سے براہ راست پاکستان میں تحریک انصاف کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 مئی 2013 تک تحریک انصاف کے پاکستانی بینک اکاؤنٹس میں 2.12 ملین ڈالر ٹرانسفر کیے گئے۔ رپورٹ کےمطابق 14 مارچ 2013 کو ووٹن کمپنی کے اکاؤنٹ میں 1.3 ملین ڈالر آئے جو اسی روز پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے گئے۔ ای میلز کا تمام ریکارڈ موجود جن کے مطابق عارف نقوی نے اپنے سٹاف کو رقم کا سورس بتانے سے منع کر رکھا تھا۔
اپریل 2013 میں ابو ظہبی رائل فیملی کے وزیر شیخ النیہان نے 2 ملین ڈالر ووٹن کمپنی کے اکاؤنٹ میں بھیجے جو دو اقساط میں تحریک انصاف کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیے گئے۔
عمران خان کا نیا سکینڈل سامنے آنے کے بعد حکومتی اتحاد کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور پی ٹی آئی کے فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنانے کا مطالبہ کیا۔ملاقات کے بعد اتحادی حکومت کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملاقات کا ایک ہی نقطہ تھا کہ آٹھ سال سے زیرالتوا فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے۔ عباسی نے کہا کہ اس کیس میں اکبر ایس بابر نے واضح ثبوت مہیا کیے جب کہ پی ٹی آئی نے اس معاملے کو روکنے کی کوشش کی اور الیکشن کمیشن پر بھی دباؤ ڈالا۔
لیگی رہنما کے مطابق فارن ایجنٹ کے طور پر امریکا میں ان کی دو کمپنیاں موجود ہیں، جن کا چیئرمین عمران خان ہے ، امریکی ریکارڈ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عمران نے کس سے کتنا پیسہ حاصل کیا حالانکہ پاکستانی قانون کے تحت فارن کمپنی سے پیسے حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ کہ اگر آپ فارن کمپنی سے پیسہ حاصل کرتے ہیں تو آپ ان کے ایجنٹ بن جاتے ہیں۔ لہذا اس حوالے سے عمران اور ان کی جماعت کے خلاف واضح ثبوت سامنے آجانے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملے کو مزید لٹکانا چیف الیکشن کمشنر کی ذات پر سوالات اٹھا دے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے سامنے آنے والے تازہ حقائق اور حکومتی اتحاد کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے لیے فیصلے کو مزید لٹکانا ممکن نہیں ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اگست کے مہینے میں فیصلہ آ جائے جو یقیناًعمران خان کے خلاف ہوگا۔
