چیف جسٹس بندیال کو آئین کی خلاف ورزی نہ کرنے کا مشورہ

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے تجویز کردہ پانچ ججوں کے نام مسترد کروانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس بندیال کے نام ایک خط میں انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ من مانی کرتے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرنا بند کر دیں کیونکہ تکبر اور انا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ اپنے خط میں بتاتے ہیں کہ مجھے اپنی سالانہ تعطیلات کے دوران میں عدالت عظمیٰ کے چیف رجسٹرار کی جانب سے ایک واٹس ایپ پیغام وصول ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ معزز چیف جسٹس آف پاکستان نے 28 جولائی 2022 کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی تقرری کا فیصلہ کیا جا سکے۔ سالانہ تعطیلات کے آغاز سے پہلے جوڈیشل کمیشن کا کوئی اجلاس طے نہیں کیا گیا تھا مگر جونہی میں پاکستان سے روانہ ہوا، چیف جسٹس نے سندھ اور لاہور کی اعلیٰ عدالتوں میں تقرریوں کے متعلق اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا اور اب عدالت عظمیٰ میں موسمِ گرما کی چھٹیوں کے دوران جوڈیشل کمیشن کا تیسرا اجلاس طلب کیا گیا حالانکہ سپریم کورٹ میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا فیصلہ خود چیف جسٹس نے کیا تھا اور اس کے بعد اس کا سرکاری اعلان کیا گیا۔ اگر چیف جسٹس اپنے اعلان کردہ نوٹیفیکیشن کی پاسداری نہیں کرنا چاہتے تو بہتر ہے کہ اس کی خلاف ورزی کے بجائے وہ پہلے اسے منسوخ کردیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں لکھا کہ باقاعدہ اعلان شدہ سرکاری تعطیلات کے دوران، جبکہ کچھ ارکان سالانہ چھٹی پر ہوں اور دوسری طرف اٹارنی جنرل حال آپریشن کے بعد بیرون ملک ہوں، ایسی میٹنگ بلانا بلا جواز ہے۔ مہینوں تک جوڈیشل کمیشن کے اجلاس نہ بلانا اور پھر اجلاس یوں اچانک طلب کرنا جبکہ سینئر ترین جج اپنی منظور شدہ سالانہ چھٹی پر ہوں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ چیف جسٹس نہیں چاہتے کہ وہ اجلاس میں طبعی طور پر شریک ہوں جو واضح طور پر غیر قانونی و غیر آئینی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ میں موسم سرما کی تعطیلات کے دوران بھی کام کرتا رہا ہوں اور عام طور پر میں شام کو دفتر سے نکلنے والا آخری فرد ہوتا تھا ،میں نے ایک بھی زیر التوا فیصلہ نہیں چھوڑا اور نہ ہی کبھی تفصیلی وجوہات کی فراہمی کا انتظار کرتے ہوئے کوئی "مختصر فیصلہ” سنایا ہے۔
فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب عدالت عظمیٰ میں اسامیاں خالی ہوئیں تو چیف جسٹس نے کوئی اجلاس طلب نہیں کیا لیکن اب اچانک ہی عجلت میں تھوک کے حساب سے تقرری کرنا چاہتے ہیں۔ پانچ ججوں کی تقرری کا مطلب عدالت عظمیٰ کے ایک تہائی سے زیادہ حصہ ہے جسے چیف جسٹس اعلان شدہ سرکاری تعطیلات کے دوران کمیشن کے تمام ارکان کی شرکت سے گریز کرتے ہوئے کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس ایک "متوقع ” اسامی کو بھی پر کرنا چاہتے ہیں جو ابھی خالی بھی نہیں ہوئی۔ آئین کی دفعہ 175 (8) اس کی اجازت نہیں دیتی۔ نہ ہی آئین اس کی اجازت دیتا ہے کہ چیف جسٹس اکیلے نام تجویز کریں کیونکہ یہ صرف جوڈیشل کمیشن کا استحقاق ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جسٹس سجاد علی شاہ ابھی ریٹائر نہیں ہوئے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ خود اپنے جانشین کا انتخاب کریں۔ یہ غیر آئینی ہے۔ پاکستان میں کوئی بادشاہت نہیں ہے جس میں بادشاہ اپنے جانشینوں کا فیصلہ کرتے تھے۔ ویسے بھی ججوں کے ریٹائر ہونے سے قبل نامزدگی یا تقرری آئین کی بہت بڑی خلاف ورزی ہے ۔ پاکستان کا نظام چیف جسٹس کی مرضی یا خواہش پر نہیں، بلکہ آئین کے مطابق چلانا ہوگا۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں لکھا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری بہت احتیاط اور غور و فکر کی متقاضی ہے کیونکہ یہ انتہائی نازک معاملہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ چیف جسٹس صاحب! براہ کرم آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن اور اپنے ہی نامزد کردہ ارکان کی تضحیک مت کریں۔جوڈیشل کمیشن کو صرف ان افراد پر غور کرنے تک محدود کرنا جنہیں چیف جسٹس نے پہلے سے نامزد کیا ہو، نہایت نا مناسب ہے۔ چیف جسٹس نے امتیازی برتاؤ کرنے کا اعتراف کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف چند ججوں کے بارے میں غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایسا انھوں نے امتیاز برت کر کیا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے پشاور سے 3، لاہور سے 6 اور سندھ سے 12ججوں کی تعیناتی تجویز کی۔ یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کیونکہ لاہور کی اعلیٰ عدالت سندھ سے کہیں بڑی ہے، نہ ہی مذکورہ تعداد کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی مذکورہ تناسب کا۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے لکھا کہ چیف جسٹس نے عدالتِ عالیہ بلوچستان کے چیف جسٹس اور جج صاحبان اور عدالتِ عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کو زیرِ غور فہرست میں شامل نہ کرکے مزید امتیازی رویہ برتا ہے۔ ان علاقوں میں سردست پائے جانے والے احساس محرومی میں اس اقدام سے مزید اضافہ ہو جائے گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ چیف جسٹس نے پہلے طے کیا کہ کن کو نامزد کیا جائے اور پھر کوئی سیاق تراش کر اپنی نامزدگیوں کو جواز دینے کی کوشش کی ہے۔ تعیناتی کی جائز امید پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے موجود ہیں۔ اہلیت رکھنے والوں کو موہوم بنیادوں پر خارج نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص جبکہ ان کی وجوہات ان کے اختیار سے باہر ہوں۔ فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام عدالتی تعیناتیاں آئین کے مطابق پہلے سے طے شدہ غیر امتیازی معیار کے مطابق ہونی لازمی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ذاتی پسند و ناپسند کا شائبہ بھی نہ ہو۔ آئین چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن کے دیگر ارکان سے زیادہ کسی قسم کے اضافی اختیارات نہیں دیتا ۔ چیف جسٹس کو صرف جوڈیشل کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے ۔
جب موجودہ چیف جسٹس سینئر ترین جج کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، تو انھیں پانچ رکنی کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی تھی تاکہ وہ ججوں کی تقرری کے لیے واضح معیار طے کریں، لیکن ان کو دیا گیا کام تاحال نامکمل ہے۔ اس کمیٹی کا صرف ایک ہی اجلاس 9 مارچ 2022 کو بلایا گیا تھا جس کی کارروائی پر جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ تحریر کرتے ہوے دستخط کیے: "معزز چیئرمین نے قیمتی آرا اور تجاویز دینے پر تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا اور توقع ظاہر کی کہ ٹھوس خیالات کو ضبط تحریر میں لانے کے بعد آگے بڑھنے کےلیے جلد ہی اجلاس ہوگا” ۔ بعد ازاں کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا، کوئی ‘ٹھوس خیالات تحریر’ نہیں کیے گئے، نہ ہی کمیٹی نے کوئی رپورٹ جوڈیشل کمیشن کو جمع کرائی۔ اس کے باوجود چیف جسٹس (اب) فرماتے ہیں کہ کمیٹی اپنا کام مکمل کر چکی ہے ۔ کمیٹی کے جن ارکان سے میری بات ہوئی ہے انھوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کمیٹی کا صرف ایک ہی اجلاس ہوا تھا اور کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
فائز عیسیٰ بتاتے ہیں کے اس خط کے لکھنے سے پہلے میں چیف جسٹس صاحب سے تحریری گزارش کی کہ وہ من مانی مت کریں کیونکہ تکبر اور انا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے، لیکن چونکہ انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، اس لیے میں آپ سب کو لکھنے پر مجبور ہوں کیونکہ یہ میرا فریضۂ منصبی اور میرے حلف کا تقاضا ہے کہ میں آئین کا دفاع اور تحفظ کروں۔ آئین کی دفعہ 175 اے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے بارے میں بہت واضح ہے اور اس کی سختی سے تطبیق لازمی ہے۔ آئین جوڈیشل کمیشن کو یہ استحقاق دیتا ہے کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کے لیے ججوں کو نامزد کریں۔ چیف جسٹس یک طرفہ طور پر فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ اگر اپنا طریقِ کار طے کرنے کےلیے اولین جوڈیشل کمیشن کے بنائے ہوئے قواعد آئین سے متصادم ہوں، تو ان کو نظر انداز کرنا لازم ہے، نہ کہ آئین کو۔ ہر شہری کے لیے لازم ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرے مگر ججوں کی اضافی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین پر عمل کریں اور اس کا تحفظ اور دفاع کریں، جیسا کہ اس حلف میں مذکور ہے جو وہ اٹھاتے ہیں اور اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ کسی کو نوازنے کا کام نہیں کریں گے۔ جوڈیشل کمیشن کا اختیار ہے کہ وہ کسی خالی اسامی پر جج کا انتخاب کرے اور اس پر یہ پابندی نہیں ہے وہ صرف چیف جسٹس کے نامزد کردہ ججوں کو ہی منتخب یا مسترد کرے۔ آئین کی دفعہ 175 اے یہ نہیں کہتی کہ اکیلے چیف جسٹس ہی کسی جج کو نامزد کریں، نہ انھیں اجازت دیتی ہے کہ وہ کسی کو نامزد کرنے یا مسترد کی وجوہات بیان کرتے رہیں۔ فائزعیسیٰ لکھتے ہیں کہ جس نوعیت کا اختیار چیف جسٹس نے استعمال کیا ہے، آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ انکے مطابق چیف جسٹس انتہائی نازک معاملے کو جلد بازی میں سخت قابل اعتراض طریقے سے نمٹانا چاہتے ہیں۔ اس لیے میری گزارش ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اگلا اجلاس منعقد کرنے سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا چاہیئے کہ اس معاملے میں آگے کس طرح بڑھنا ہے۔
