کیا چیف جسٹس بندیال نیب قانون میں ترامیم بھی اڑادیں گے؟


حکومتی اتحاد کی جانب سے فل کورٹ بنانے کی درخواست رد کرتے ہوئے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دینے والے چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے بظاہر اپنی ساکھ پر اٹھنے والے سوالات کے بعد نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کے لیے تین رکنی بینچ میں جسٹس منیب اختر کی بجائے جسٹس منصور علی شاہ کو شامل کر لیا ہے۔ تاہم جسٹس اعجازالاحسن بدستور اس تین رکنی بنچ کا حصہ ہیں۔ جسٹس منیب اختر کی جگہ بینچ میں شامل ہونے والے جسٹس منصور علی شاہ نے پہلی ہی سماعت میں عمران خان کے وکیل پر واضح کر دیا کہ پارلیمنٹ کو آئینی ترامیم کرنے کا حق حاصل ہے اور سپریم کورٹ پارلیمنٹ میں کی جانے والی قانون سازی کو رد نہیں کر سکتی۔

کیس کی سماعت شروع ہونے سے پہلے زیادہ تر حکومتی حلقوں کا خیال تھا کہ چیف جسٹس بندیال خود پر حکومتی اظہار عدم اعتماد کے بعد نیب قانون میں ہونے والی ترامیم کو بھی مسترد کر سکتے ہیں۔ تاہم 28 جولائی کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے لکھے جانے والے خط کی وجہ سے چیف جسٹس بندیال کافی دباؤ میں نظر آئے۔ 29 جولائی کو سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں حکومتی ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کے آئین میں کئی ترامیم اس کے بنیادی ڈھانچے کے برعکس ہوئی ہیں، تاہم پارلیمان کو آئین میں مکمل تبدیلی کا بھی حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں حالیہ ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ہوئی۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ’آئین میں کی جانے والی ترمیم اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف نہیں ہو سکتی۔‘ اس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’آئین پاکستان کا کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے اور پارلیمان جب چاہے مکمل آئین میں تبدیلی کر سکتی ہے۔‘ خواجہ حارث نے اس پر دلیل پیش کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر پارلیمان سزائے موت ختم کر دے تو کیا وہ چیلنج نہیں ہو سکے گی؟ اس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمان سزائے موت ختم کر دے تو سپریم کورٹ اسے کیسے بحال کر سکتی ہے، قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے سپریم کورٹ کا نہیں؟

تحریک انصاف کے وکیل نے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ترامیم کیس میں دستور کے بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی آئین کے تحت بنیادی حق ہے اور اس حق کو آئینی ترمیم کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔خواجہ حارث نے کہا کہ سزائے موت ختم ہونے کی صورت میں پہلے وفاقی شریعت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ ایک موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے خواجہ حارث سے دریافت کیا کہ ’کیا وہ چاہتے ہیں کہ عدالت پارلیمان کو قانون میں بہتری کا کہے۔‘اس پر تحریک انصاف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’جو ترامیم آئین سے متصادم ہیں صرف انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔‘

اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’کیا یہ دلیل قابل قبول ہے کہ کوئی قانون پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہونے پر کالعدم کیا جائے؟‘ انہوں نے کہا کہ اگر درخواست گزار اسلامی دفعات پر انحصار کر رہے ہیں تو انہیں نیب قانون میں ترامیم کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے۔ خواجہ حارث نے اس کے جواب میں کہا کہ ان کے موکل جن اسلامی دفعات کا حوالہ دے رہے ہیں وہ آئین پاکستان میں درج ہیں اور اسی لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

ایک موقع پر چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ’پاکستانی آئین میں درج بنیادی حقوق معطل ہو سکتے ہیں، لیکن آئین کا آرٹیکل 4 معطل نہیں کیا جا سکتا، جو بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، تاہم اس پر کبھی تفصیل سے بحث نہیں ہوئی۔‘

28 جولائی کے روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں اپنے ساتھی ججوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے والے چیف جسٹس بندیال نے کہا کہ وہ گذشتہ رات سے عمران خان کی درخواست پڑھ رہے ہیں۔ ’اپنی معروضات تفصیل سے پیش کریں کہ ترامیم آئین سے کیسے متصادم ہیں۔‘ انہوں نے تحریک انصاف کے وکیل خواجہ حارث کو پاکستانی عوام کے ان بنیادی حقوق کی نشاندہی کرنے کو کہا جو نیب قوانین میں ترامیم سے متاثر ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ان ترامیم کے متعلق بھی دریافت کیا جن سے نیب قانون اور مقدمات متاثر ہو رہے ہیں۔

اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترامیم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ہی درخواست زیر سماعت ہے۔ انہوں نے درخواست گزار کے وکلا سے دریافت کیا کہ ’کیا مناسب نہیں ہوگا کہ پہلے ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے؟‘ اس پر تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب قانون اور اس میں ترامیم کا اطلاق ایک ہائی کورٹ پر نہیں پورے بلکہ ملک پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہو گئے ہیں۔ ’شاید ملک کی دوسری ہائی کورٹس میں بھی ان ترامیم کے خلاف درخواستیں دائر ہو جائیں گی۔‘ وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’احتساب کے بغیر گورننس اور جمہوریت نہیں چل سکتے۔‘ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب ترامیم کو چیلنج کرنے پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے، جبکہ بے نامی دار ایشو بھی وضاحت کا تقاضا کرتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کی درخواست میں ہائی کورٹ بنیادی حقوق سے آگے نہیں جا سکتی۔ ’بہتر رہے گا کہ معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا وزڈم پہلے آجائے۔‘انہوں نے پی ٹی آئی کے وکیل سے پوچھا کہ اگر حکومت نیب قانون ختم کر دیتی تو ان کی درخواست کی بنیاد کیا ہوتی؟ اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’اسلام اور آئین پاکستان دونوں میں احتساب پر زور دیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور عوامی عہدیداروں کا احتساب آئین کےبنیادی اجزا میں شامل ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے خواجہ حارث سے دریافت کیا کہ ’کیا حکومت کی جانب سے ختم کیا گیا نیب قانون عدالت بحال کر سکتی ہے؟‘ لیکن جسٹس اعجاز الاحسن نے اس موقع پر کہا کہ اگر نیب قانون کی کوئی ترمیم مخصوص ملزمان کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہیے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ درحقیقت مجھے ہر آئینی ترمیم کے پیچھے کوئی نہ کوئی عدالتی فیصلہ نظر آرہا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ’کیا عمران خان چاہتے ہیں کہ نیب کو مفروضے کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی کا حق دوبارہ حاصل ہو جائے؟۔

Back to top button