عمران خان کو UAE کے شاہی خاندان نے بھی فارن فنڈنگ کی

عمران خان کی جانب سے عطیات کے نام پر ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی اور متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان سے کروڑوں روپے وصول کا سکینڈل بے نقاب ہونے کے بعد اب تحریک انصاف کی قیادت نے موقف اختیار کیا ہے کہ باہر کے ممالک سے آنے والی فنڈنگ قانونی تھی۔ یعنی پی ٹی آئی کی قیادت نے پہلی مرتبہ اکبر ایس بابر کی جانب سے لگائے گئے فارن فنڈنگ کے الزام کو قبول کرلیا ہے۔
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز میں تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ بارے تحقیقاتی رپورٹ شائع ہونے کے بعد فواد چوہدری نے کہا ہے کہ برطانیہ سے ہونے والی فنڈنگ غیر قانونی نہیں بلکہ قانونی ہے۔ تاہم وہ یہ دعویٰ کرتے ہوئے بھول گئے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت غیر ممالک سے ایک پیسے کی فنڈنگ بھی نہیں لے سکتی۔ لیکن فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عارف نقوی نے الیکشن کمیشن میں بھی ایک بیان حلفی جمع کروا رکھا ہے جس میں انکی جانب سے ہونے والی فنڈنگ کو قانونی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم فواد چوہدری بھول گئے کہ یہ فیصلہ عارف نقوی نے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے کہ باہر سے آنے والی فنڈنگ قانونی ہے یا غیر قانونی؟
جب فواد چوہدری کو یہی سوال کیا گیا کہ برطانیہ سے آنے والی فنڈنگ بارے وہ یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ وہ قانونی تھی یا غیر قانونی تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر کوئی غیرقانونی کام ہوا ہے تو معاملہ عارف نقوی اور برطانوی حکام کے درمیان ہے اور اس کا عمران خان اور ان کی تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یاد رہے کہ برطانیہ کے معروف روزنامے فنانشل ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کو برطانیہ سے براستہ متحدہ عرب امارات غیرملکی فنڈنگ کی گئی اور اس معاملے میں شیخ النہیان بھی شامل تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا متحدہ عرب امارات میں بطور حکومت کے سکیورٹی ایڈوائزر نوکری کر رہے تھے۔ شجاع پاشا اور ظہیر الاسلام کو عمران خان نامی عسکری روبوٹ کا معمار بھی قرار دیا جاتا ہے۔
فنانشل ٹائمزکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں فنڈز اکٹھا کرنے کے لئے ٹی 20 میچ کروائے گئے جن میں عمران بھی شریک ہوئے۔ دیگرذرائع سے بھی حاصل کی جانے والی رقم پی ٹی آئی کو منتقل کی گئی۔ عارف نقوی نے جو کرکٹ میچز منعقد کرائے ان میں سے ایک ان کی رہائش گاہ پر کھیلا گیا۔ میچ کے بعد دی گئی دعوت میں عمران خان سمیت سینکڑوں بینکرز، وکلا اور سرمایہ کاروں نےشرکت کی اور تحریک انصاف کے لیے فنڈز دیئے۔ برطانوی اخبار کے مطابق عارف نقوی 2012 سے 2014 تک ووٹن ٹی ٹوئنٹی کے صدر رہے۔ ووٹن پیلس پرکھیلے جانے والے میچ کے لئے مہمانوں کو فلاحی مقاصد کے لئے 2 سے ڈھائی ہزار پاؤنڈ کے درمیان ادائیگی کا کہا گیا۔ برطانیہ میں ہر سال موسم گرما میں ایسے چیریٹی فنڈ ریزرز منعقد کئے جاتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 55 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کو دی گئی جودراصل کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ کمپنی تھی جس کے مالک عارف نقوی تھے۔ یہ رقم پی ٹی آئی کوفنڈ دینے کے لیے استعمال کی گئی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ووٹن کرکٹ کو کئی کمپنیوں اور افراد نے لاکھوں ڈالرز کےفنڈز دیے جبکہ ابوظبی کے شاہی خاندان کے ایک وزیر نے بھی 20 لاکھ پاونڈز بطور عطیہ دیے۔ برطانوی اخبار کا کہنا ہےکہ کراچی میں طارق شفیع کے ذاتی اکاؤنٹ لاہور میں انصاف ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجنےکی تجویز دی گئی۔ عارف نقوی نے متعلقہ فرد کو کہا کہ پی ٹی آئی کو 12 لاکھ ڈالرز بھیجیں لیکن کسی کو نہ بتائیں کہ فنڈز کہاں سے آرہے ہیں اورکون حصہ ڈال رہاہے۔
لیکن فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی تحریک انصاف کو ویسے ہی فنڈنگ کرتے ہیں جیسے اوورسیز پاکستانی ملک کو سپورٹ کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کا حق ہے کہ ان کو معلوم ہو کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو کون فنڈ کرتا ہے ابھی تک یہ راز سامنے کیوں نہیں آ رہا؟‘ ان کا کہنا تھا کہ ’فنڈنگ کیس میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ تینوں جماعتوں کی فارن فنڈنگ کا فیصلہ اکٹھا آنا چاہیے۔ تاہم دوسری جانب الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے والے پٹیشنر اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ کا الزام تسلیم کر لیا گیا ہے جس کے بعد عمران خان کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
