کیا منصور علی خان حنا پرویز کا دوپٹہ سرکتا دیکھ کر مسکرائے؟

معروف اینکر پرسن منصور علی خان دوبارہ ایک پرانے تنازعے میں الجھ گئے ہیں جس میں ان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ٹی وی پروگرام کے دوران مسلم لیگی خاتون ایم پی اے حنا پرویز بٹ کا سرکتا ہوا دوپٹہ دیکھ کر مسکرا پڑے تھے جس کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ 2019 میں پیش آیا تھا جب منصور علی خان ایکسپریس ٹی وی سے وابستہ تھے۔ اب منصور علی خان نے اس حوالے سے خاموشی توڑ دی ہے اور اصل کہانی بیان کر دی ہے۔
منصور علی خان نے کہا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے، انکی حنا پرویز بٹ سے ذاتی طور پر بھی اس معاملے بارے گفتگو ہوئی تھی مگر وہ یہ معاملہ پبلک ڈومین میں کبھی نہیں لائے۔ منصور کا کہنا تھا کہ اب چونکہ حنا پرویز نے خود اس معاملے پر لب کشائی کی ہے تو بطور اینکر انہوں نے اس سے متعلق حقیقت بتانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں تب ایکسپریس نیوز کا پروگرام ‘ٹو دی پوائنٹ’ لاہور سے کرتا تھا، ایک شو میں میرے ساتھ مسلم لیگ ن کی حنا پرویز بٹ، تحریک انصاف کے عثمان ڈار اور جے یو آئی کی رہنما نعیمہ کشور مہمان تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس شو کا جو وائرل کلپ ڈسکس کیا جارہا ہے اس میں ایک فریم میں حنا پرویز بٹ اپنا دوپٹہ ٹھیک کر رہی ہیں جب کہ دوسرے فریم میں یوں لگتا رہا ہے جیسے میں ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ کر مسکرا رہا ہوں۔ دراصل ہوا یوں کہ کسی شرارتی شخص نے دو مختلف کلپس کو جوڑ کر یہ تاثر دیا کہ میری نظر ان کے دوپٹے پر تھی اور میری نیت میں فتور تھا۔
منصور علی خان نے کہا کہ میری ایک عادت ہے کہ جب کوئی بھی مہمان میرے سوال کا جواب نہ دے رہا ہو اور کنی کترا کے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو میں بدتمیزی تو نہیں کر سکتا لہٰذا جواب پر مسکرا دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ بہت کم ہوا ہے کہ میں جذباتی ہو جائوں لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں ہنس دیتا ہوں، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کرتا۔ منصور کا کہنا تھا کہ میں دراصل کشور زہرہ سے بات کر رہا تھا، حنا پرویز بٹ میرے ساتھ لاہور سٹوڈیو میں تھیں اور وہ دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی۔ ایسے میں کسی نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ میں ان کے سرکتے دوپٹہ کی وجہ سے مسکرا رہا ہوں۔ منصور علی خان نے بتایا کہ یہ صرف تصویر کا ایک رخ ہے جبکہ حنا پرویز بٹ کا دوپٹہ ٹھیک کرنے کا پہلو یہ ہے کہ کسی بھی شو میں جب خواتین کو بلایا جاتا ہے تو انہیں کہا جاتا ہے کہ دوپٹہ اپنے مائیک سے دور رکھیں ورنہ آڈیو میں خلل پیدا ہوتا ہے، حنا پرویز بٹ بھی وہی کر رہی تھیں تاکہ ان کی آواز میں خلل نہ آئے۔
منصور علی خان نے کہا اب حنا پرویز بٹ نے دوبارہ اس واقعے پر گفتگو کی ہے تو میں نے بھی اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ منصور علی خان نے کہا کہ ہماری سوسائٹی میں کس قدر گندگی پھیل چکی ہے۔ جس خاتون کی بات کی جارہی ہے وہ ایک ماں ہے جس کا بچہ اب بڑا ہوچکا ہوگا۔ اس کے ذہن پر کیا گزرتی ہوگی کہ میری ماں کے بارے میں کیسی باتیں کی جارہی ہیں۔ منصور علی خان نے کہا کہ جس بندے نے یہ کلپ بنایا ہوگا وہ کتنا گھٹیا آدمی ہوگا؟ اس کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی کہ وہ ایسا کلپ ایک عورت کے بارے میں بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پروگرام میں آنے والی تمام خواتین چاہے وہ عمر میں میرے سے چھوٹی ہوں یا بڑی، وہ میری ماں، میری بہن اور میری بیٹیوں کی طرح ہوتی ہیں اور میں سب کے بارے میں یہی رائے رکھتا ہوں۔
