فرانزک جانچ نے عمران کی ویڈیوز کو اصلی قرار دے دیا


سیاستدانوں کی مالی اور اخلاقی کرپشن کا ریکارڈ رکھنے والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی ساکھ رکھنے والی بین الاقوامی فرانزک کمپنیوں نے جانچ پرتال کے بعد عمران خان کی ویڈیوز کو اصلی قرار دے دیا ہے جس کے بعد ان کی جلد ریلیز کا امکان ہے۔باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مبینہ گندی ویڈیوز کی ریلیز میں تاخیر کی بنیادی وجہ ان کے فرانزک نتائج کا انتظار تھا جو اب آ چکے ہیں اور ویڈیوز کی تصدیق ہوگئی ہے لہذا اب انہیں کسی بھی وقت ریلیز کیا جا سکتا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ عید پر نئی فلموں کی نمائش کا شور و غوغا ہوا کرتا تھا لیکن اب بدلتے زمانے میں عید پر سیاست دانوں کی ننگی وڈیوز کا چرچا ہوتا ہے۔ ماضی کے پلے بوائے اور آج ریاست مدینہ کے داعی ہونے کا دعوی کرنے والے عمران خان اپنی مبینہ گندی ویڈیوز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں. ان ویڈیوز بارے پروپیگنڈہ اپوزیشن کی جانب سے کیا جاتا تو عوام اسے عمران کے خلاف بہتان قرار دیکر مسترد کر دیتے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان بیہودہ وڈیوز کی تشہیر سب سے ذیادہ خود عمران کی جانب سے کی جا رہی ہے اور وہ بھی عوامی جلسوں اور انٹرویوز میں۔
عید کے پر مسرت موقع پر سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہمدردوں کو آگاہ کیا کہ جلد ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی گئی انکی گندی ویڈیوز مارکیٹ ہونے والی ہیں جنکا مقصد ان کی کردارکشی کرنا ہے۔ انہوں نے پچھلے چند روز میں اپنی قابل اعتراض ویڈیوز کے حوالے سے لوگوں کو اتنی مرتبہ بتایا ہے کہ اب عوام کے ساتھ خود تحریک انصاف والے بھی ’’تجسس کے ساتھ‘‘ ان کی ریلیز کا انتظار کر رہے ہیں. پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی ایک ہی بات زیر بحث ہے کہ عمران کی ویڈیوز کب آئیں گی۔ ان قابل اعتراض فلموں کے عینی شاہد ہونے کے دعویدار بتاتے ہیں کہ عمران خان نے تین ہفتوں تک ملک بھر میں روزانہ جلسوں کے انعقاد کا اعلان ہی اس لئے کیا ہے تاکہ وہ اپنی کردار کشی کے بصری مناظر کو دھندلا اور جھٹلا سکیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ چند فلمیں ایسی بھی ہیں جن میں کوئی ’’خاتون نہیں ہے‘‘ بلکہ مرد اور جانور نظر آ رہے ہیں۔ مرد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ موصوف کا تعلق فلمی دنیا سے ہے اور ماضی میں وہ ایک ٹی وی سے بطور اینکر وابستہ رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں 12 سال کا ایک بچہ بھی جنسی جبر کا نشانہ بنتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان تمام وڈیوز کے جینوئین ہونے کے ثبوت بین الاقوامی فرانزک کمپنیوں سے حاصل کیے جا چکے ہیں۔ تاہم جب تک یہ ویڈیو ریلیز نہیں ہوتیں تب تک یہ سب الزامات سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
عمران خان نے عید کے روز اداکار شان کو ہم ٹی وی کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ میری ’کردار کشی‘ کیلئے قابل اعتراض مواد تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین نے ایسی کمپنیز کی خدمات حاصل کی ہیں جو میری کردار کشی کے لیے ’سامان‘ تیار کر رہی ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں کئی مافیاز کا سامنا کر چکا ہوں۔ ان میں سب سے بڑا مافیا شریف ہے، وہ ہمیشہ ذاتی حملہ کرتے ہیں کیونکہ وہ گزشتہ 35 سالوں سے کرپشن میں ملوث ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی ان کی بدعنوانیوں کی نشان دہی کرتا ہے تو وہ اس کی کردار کشی پر اتر آتے ہیں۔
عمران نے کہا کہ ماضی میں ان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ کو نشانہ بنایا گیا، ان کے خلاف مہم چلاتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ’یہودی لابی‘ کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمائمہ کیخلاف ’انٹیک ٹائلز‘ کی سمگلنگ کے جعلی کیسز بنائے گئے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شریف خاندان عید کے بعد ان کی کردار کشی کے لیے مہم چلانے کی تیاریاں کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عید ختم ہوگئی ہے، آپ دیکھیں گے وہ میری کردار کشی کے لیے مکمل تیار ہیں، انہوں نے مواد تیار کرنے کے لیے کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ عمران نے کہا کہ ’یہ مافیا کا انداز ہے، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ قوم یہ سمجھے کہ اگر ایسی کوئی مہم شروع ہوتی ہے تو وہ جھوٹ اور جعلسازی پر مبنی ہو گی لہذا اسکا یقین نہ کیا جائے۔
دوسری جانب باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران کی مبینہ گندی ویڈیوز کی ریلیز میں تاخیر کی بنیادی وجہ ان کے فرانزک نتائج کا انتظار تھا جو اب آچکے ہیں اور ویڈیوز کی تصدیق ہوگئی ہے لہذا اب انہیں کسی بھی وقت ریلیز کیا جا سکتا ہے۔

Back to top button