فرح کی ممکنہ گرفتاری: عمران کیلئے خطرہ بڑھ گیا

شہباز شریف حکومت کی جانب سے فرح خان عرف گوگی کو عمران خان کی فرنٹ پرسن قرار دے کر دبئی سے گرفتار کر کے واپس لانے کے اعلان نے سابق وزیر اعظم کے لیے سیاسی خطرات اور مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ کپتان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر نیب کی تحقیقات میں فرح گوگی واقعی عمران خان یا ان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن ثابت ہو جاتی ہیں تو کرپشن مخالف ایجنڈا لیکر چلنے والے خان صاحب کی اپنی ساکھ کا جنازہ نکل جائے گا۔
یاد رہے کہ ملک ریاض کی جانب سے اسلام آباد میں الاٹ کردہ 458 کنال قیمتی اراضی کی مشترکہ ملکیت عمران خان کے علاوہ بشری بی بی اور فرح خان عرف گوگی کے نام نکلی ہے جس کی مالیت کئی سو ارب روپے ہے۔ شاید اسی لیے عمران خان زندگی میں پہلی دفعہ خود کسی چور کا آگے بڑھ کر دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
یاد رہے کہ شہباز شریف حکومت نے نیب کے فیصلے کی روشنی میں خاتون اول بشری بی بی کی قریبی دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کو دبئی سے پاکستان لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ماضی میں ڈیفنس لاہور کے پارٹی سرکلز میں سوشل بٹر فلائی کے طور پر جانی جانے والی فرح گوگی پر الزام ہے کہ اس نے عمران دور میں انکی فرنٹ پرسن کا کردار ادا کیا اور اربوں روپے کمائے جو کپتان اور ان کی اہلیہ نے مل کر بانٹ کھائے۔ نیب کا کہنا یے کہ فرح پر جو الزامات ہیں ان کی تفتیش کے لئے ان کی پاکستان موجودگی ضروری ہے لہذا انہیں پاکستان واپس لانے کے لیے ضروری قانونی کاروائی شروع کر دی گئیں۔ نیب لاہور کے مطابق فرح کی کرپشن کا کیس نیب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، نیب کسی بھی پبلک آفس ہولڈر یا اسکے اہلخانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوئری کا آغاز کر سکتا ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ بشری بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا کے دوست اور فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر 1997 سے 1999 تک گوجرانوالہ کی ضلع کونسل کے چئیرمین رہے جبکہ ان کے والد چودھری اقبال اب بھی رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔ نیب کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق سابق عہدے دار یا انکے اہلخانہ کے خلاف کرپشن کی شکایات نیب کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ لہذا نیب کی جانب سے فرح خان کے خلاف انکوائری کی منظوری آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دی گئی ہے۔ نیب ہیڈکوارٹرز کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت فرح کے خلاف انکوائری نیب لاہور کو ریفر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ نیب نے فرحت شہزادی المعروف فرح عرف گوگی کیخلاف معلوم ذرائع آمدن سے زائد غیر قانونی اثاثے جمع کرنے، منی لانڈرنگ کرنے اور مختلف کاروباری اکاؤنٹس رکھنے کے الزامات پر انکوائری کا حکم دیا ہے۔ نیب کے مطابق گزشتہ 3 برس کے دوران فرح خان کے اکاؤنٹ میں 84 کروڑ 70 لاکھ روپے پائے گئے جو ان کے بیان کردہ اکاؤنٹ پروفائل سے مطابقت نہیں رکھتے۔ نیب کا کہنا ہے کہ فرح گوگی کے انکم ٹیکس گوشواروں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا کہ انکے اثاثوں میں 2018 کے بعد سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر بہت نمایاں اور غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے چند روز پہلے فرح خان ملک چھوڑ کر دبئی فرار ہوگئی تھی جبکہ انکا شوہر احسن گجر امریکہ روانہ ہو گیا تھا، اپوزیشن کی جانب سے ان پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے۔ بعد ازاں سابق گورنر چوہدری سرور اور سابق سینئر وزیر پنجاب علیم خان نے ان الزامات کی تصدیق کی تھی۔ یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ فرح خان گوگی کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سی کروں ایکڑ اراضی کی بے نامی ہے اور اس لئے اس سے عمران کی جانب سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ یکم مئی کو ایک پریس کانفرنس میں عمران نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح خان کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف انتقامی کارروائی پر مبنی کیس میری وجہ سے بنایا گیا ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نیب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ فرح خان پر کیسے کیس بنا سکتے ہیں، ذریعہ آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا کیس صرف سرکاری عہدیدار پر کیا جا سکتا ہے، جبکہ فرح خان ریئل اسٹیٹ کا کام کرتی ہے جو کہ ایک منافع بخش بزنس ہے اور اسی لیے اس کے اثاثوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرح کا قصور یہ ہے کہ بشریٰ بیگم بہت کم لوگوں سے ملتی ہیں، ان میں سے ایک فرح خان ہیں، یہ ایسا ہی انتقامی کیس ہے جیسا میری پہلی اہلیہ جمائمہ پر ٹائلوں کی اسملنگ کیس میں ڈالا گیا تھا، جمائمہ کا بھی قصور یہی تھا کہ وہ میری اہلیہ تھیں، یہ لوگ کارروائی میرے خلاف کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں کرپشن کا کوئی ثبوت ملتا ہی نہیں ہے لہذا میرے آس پاس کے لوگوں کو جھوٹے کیسز میں پھانسنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب انہوں نے بشریٰ بیگم کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن چونکہ وہ گھریلو عورت ہیں، اسلیے ان سے کچھ نہیں ملا لہذا انہوں نے فرح کو پکڑنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ عمران نے کہا کہ فرح خان بالکل بے قصور ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ اسے بولنے کا موقع دیا جائے۔
لیکن سابق وزیِر اعظم کی پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر کئی افراد یہی پوچھتے نظر آئے کہ عمران خان خود فرح خان کا دفاع کیوں کر رہے ہیں؟ ایک جانب فواد چوہدری فرح خان کو پہچاننے سے انکاری ہیں جبکہ دوسری جانب عمران کہتے ہیں کہ فرح بے قصور ہے، لہذا پوچھا جا رہا ہے کہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔ اس معاملے پر وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کل تک کہتی رہی کہ ہم فرح خان کو نہیں جانتے، اب آپ ہی دیکھ لیں کہ گوگی کے دفاع میں کوئی اور نہیں بلکہ عمران خود میدان میں آ گئے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ فرح دراصل عمران کی فرنٹ پرسن ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اپنی کرپشن کے واضح ثبوت بھی سامنے آ چکے ہیں جنہیں کنفرم کرنے کے بعد ان کے خلاف بھی کاروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک اور ڈویلپمنٹ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سینٹرل سیکریٹریٹ کے چار ملازمین کے بینک اکاﺅنٹس کی مکمل تفصیلات لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان ملازمین میں طاہر اقبال، محمد نعمان افضل، محمد ارشد اور محمد رفیق شامل ہیں، ان ملازمین کے نجی اکاؤنٹس میں 2008 سے لے کر 2022 تک جتنی رقوم آئی ہیں ان کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے اور ان کے نجی اکاﺅنٹس میں آنے والی بھاری رقوم کا ریکارڈ اسٹیٹ بینک سے منگوایا جارہا ہے، انکا۔کہنا اہے کہ شواہد کی روشنی میں گرفتار یاں بھی عمل میں آئیں گی۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نیازی کی فارن فنڈنگ کے 2013 سے 2022 کے 9 سال کا ریکارڈ بھی منگوا لیا گیا ہے، یاد رہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں صرف 5 سال تک کا ریکارڈ موجود ہے جبکہ سٹیٹ بینک اف پاکستان الیکشن کمیشن کو مالی سال 2008-9 سے 2012-13 تک کی مدت کا ریکارڈ فراہم کرچکا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مدت کے بعد عمران اور انکی جماعت کو اور بھی زیادہ اور بھاری غیرقانونی رقوم فراہم ہوئیں، اسکے علاوہ ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ عمران نے 2014 کے دھرنے کے دوران کس کس سے کتنے پیسے لئے، انڈیپنڈنٹ آڈیٹرز کے ذریعے ریکارڈ کی فارنزک جانچ پڑتال ہوگی، اور ایف آئی اے اور ایف بی آر اپنی اپنی سطح ریکارڈحاصل کرکے کارروائی کریں گے۔
دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی اور عمران خان نیازی کے خفیہ انٹرنیشنل بینک اکاﺅنٹس کے ریکارڈ کے لئے عالمی بینکس کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے دور میں ڈیٹا ایکسچینج ایگریمنٹ ہوا تھا، اس معاہدے کے تحت ایف بی آر کو قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ عالمی بینکس سے ریکارڈ حاصل کرسکتا ہے، اور اسی معاہدے کے تحت کارروائی عمل میں آئے گی، حکومت کی جانب سے امریکا، برطانیہ، کینیڈا، ناروے، فن لینڈ، ناروے، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا سمیت دیگر غیر ملکی بینک اکاﺅنٹس کا ریکارڈ حاصل کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے عمران خان کے گوشواروں اور آمدن کی جانچ پڑتال کرانے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے، گوشواروں اور سامنے آنے والے ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لے کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
