26 باغی MPAs نااہل ہو گئے تو حمزہ بھی فارغ ہو جائیں گے


بالآخر حمزہ شہباز وزیر اعلی منتخب ہونے کے ایک مہینہ بعد وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے میں کامیاب تو ہو گئے ہیں لیکن اب ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس عہدے پر برقرار رہنا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن وزیر اعلیٰ پنجاب کی انتخاب میں حمزہ کے حق میں ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 26 منحرف اراکین کیخلاف نااہلی کیس کی سماعت 6 مئی سے شروع کرنے جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ممکنہ طور پر نااہل قرار دیے جانے کی صورت میں نئے وزیر اعلیٰ کو ثابت کرنا ہوگا کہ انہیں ایوان میں اکثریت حاصل ہے، چنانچہ انہیں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا لیکن منحرف راکین کی نااہلی کی صورت میں ان کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
پی ٹی آئی اور اسکی اتحادی مسلم لیگ قاف والے پرامید ہیں کہ پی ٹی آئی کے 26 منحرف اراکین کی نا اہلی کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھانے والے حمزہ شہباز اپنے عہدے پر برقرار نہیں نہیں رہ پائیں گے۔ انکا کہنا یے کہ ایک بار اگر الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو اسمبلی رکنیت سے فارغ کردیا تو پھر نومنتخب وزیر اعلیٰ حمزہ ہر صورت ایوان میں اپنی اکثریت کھو بیٹھیں گے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں گورنر پنجاب وزیر اعلیٰ کو ’اعتماد کا ووٹ‘ لینے کا کہہ سکتے ہیں یا پھر وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاسکتی ہے۔
چونکہ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی صدر عارف علوی کو گورنر عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو مرتبہ خط لکھ چکے ہیں اس لیے امکان ہے کہ جب تک الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی ’نااہل‘ کا فیصلہ آئے گا تب تک گورنر عمر چیمہ کی جگہ اتحادی جماعتوں کا گورنر ان کی جگہ لے چکا ہوگا۔
چنانچہ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی حمایت کھو جانے کی صورت میں بھی پنجاب کے نئے گورنر شاید حمزہ شہباز سے اعتماد کا ووٹ لینے کا نہ کہیں۔ لیکن ایسی صورت میں پی ٹی آئی کی زیر قیادت پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اس اراکین نئے وزیر اعلیٰ کے خلاف ’تحریک عدم اعتماد‘ پیش کر سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال حمزہ شہباز کے لیے پریشان کن ہوگی کیونکہ منحرف اراکین کی ممکنہ نااہلی کے بعد نمبرز گیم پلٹ جائے گی۔
یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کے 371 اراکین میں سے 183 کا تعلق پی ٹی آئی سے، 10 کا پی ایم ایل (ق) سے، 165 کا پی ایم ایل (ن) سے، 7 کا پیپلز پارٹی سے، 7 آزاد امیداور اور ایک کا تعلق راہ حق پارٹی سے ہے۔ وزیر اعلیٰ بننے کے لیے امیدوار کو 186 ووٹ لینے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ حمزہ شہباز نے پیپلز پارٹی کے 7، تین آزاد اراکین، ایک راہ حق پارٹی کے رکن اور تحریک انصاف کے جہانگیر ترین، علیم خان اور کھوکھر گروپ کے 26 اراکین کی مدد سے 197 ووٹ حاصل کیے تھے، مسلم لیگ (ن) کے چار ’باغی‘ اراکین نے حمزہ شہباز کو ووٹ نہیں دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے کی صورت میں حمزہ شہباز کے پاس 171 اراکین کی حمایت رہ جائے گی جبکہ وزارت اعلیٰ پر برقرار رہنے کے لیے انہیں 186 یعنی پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی حمایت کھونے کے بعد وزیر اعلیٰ برقرار رہنے کے لیے حمزہ شہباز کو ایوان میں سادہ اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے 26 منحرف اراکین کی نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کے 157، مسلم لیگ (ق) کے 10، مسلم لیگ (ن) کے 4 ناراض اراکین، اور خواتین کی 5 نشستوں کی حمایت رکھنے والے چوہدری پرویز الہٰی کو بھی وزیر اعلی بننے کے لیے سادہ اکثریت ہوگی۔ تاہم اس وقت پنجاب اسمبلی میں ان کے حمایتی اراکین کی تعداد 176 بنتی ہے جبکہ وزیر اعلی بننے کے لیے انہیں 186 ووٹ چاہیں۔ یعنی اگر تحریک انصاف حمزہ شہباز کو بطور وزیراعلی ہٹانے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وہ خود بھی وزارت اعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لئے حمزہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے تحریک انصاف والوں کو بہت سوچنا ہوگا۔ دوسری جانب منحرف ہونے والوں کے پاس ای سی پی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا آپشن ہوگا، اس طرح معاملہ مزید ایک دو ماہ تک لٹکا سکتا ہے۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے 26 اراکین پنجاب اسمبلی الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نا اہل ہو جاتے ہیں تو پنجاب اسمبلی کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے کیونکہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادی اور مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادی نیا وزیر اعلی بنانے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ تحریک انصاف کے 26 منحرف اراکین کی ممکنہ نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت پنجاب حکومت برقرار رکھنے کا کوئی اور راستہ تلاش کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن استعمال کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہٰی نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے دوران پارٹی ہدایات سے انحراف کرنے والے تحریک انصاف کے 26 اراکین کی نااہلی کے لیے ایک ہفتہ قبل الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے منحرف اراکین کی نااہلی کے عمل میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ریفرنس پر فیصلہ دینے کے لیے کم از کم 30 دن لگیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے 26 منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے مستقبل کا کیا فیصلہ کرتا ہے۔

Back to top button