فرانسیسی حکومت کو توہین آمیز خاکوں کی سرپرستی بند کرنی چاہیے

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائےبین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف او آئی سی سے بھر پور آواز اٹھانے اور اقوام متحدہ کی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کردیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ انتہاپسندی کےخاتمے کےلئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، فرانسیسی حکومت کو توہین آمیز خاکوں کی سرپرستی بند کرنی چاہیے اور مستقل بنیادوں پر گستاخی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کہا کہ اس وقت جو موقف حکومت پاکستان نے اپنایا ہے، اسے عالم اسلام اور عرب ممالک میں سراہا جا رہا ہے، اس کی تائید کی جا رہی ہے۔ پاکستان علما کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں قانون سازی ہو، اسلامی تعاون تنظیم میں موثر انداز میں اس پر آواز بلند ہو اور اس کےلیے ہمارے وزیر خارجہ، وزیر اعظم پاکستان اور میں وزیراعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے مسلم اور غیر مسلم ممالک کی قیادتوں سے ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کو تنظیمیں بین المذاہب ہم آہنگی پر کام کر رہی ہیں ان کے ساتھ بھی بات کریں اور اقوام متحدہ سے ایک ایسا قانون منظور ہو جس میں آسمانی مذاہب، تمام آسمانی کتب، تمام مقدس شخصیات کی توہین کو جرم قرار دیا جائے تاکہ یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر ختم ہو۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہمیں کوئی عزیز نہیں ہے، آج فرانسیسی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا اور پاکستان نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، ہم دنیائے اسلام اور عالمی دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اجتماعی طور پر جو اقدامات اٹھائے جائیں گے وہ سب کو نظر آ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے بہتر گزشتہ دنوں میں کسی اور ملک نے کردار ادا نہیں کیا تو یہ گمان نہ کریں کہ کسی کو رسول اللہ کی ناموس کے سامنے کوئی چیز عزیز ہوگی۔
گزشتہ روز علامہ اویس نورانی کی جانب سے کی گئی گفتگو کے حوالے سے سوال کے جواب میں پاکستان علما کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنی افواج، صوبوں، عوام، استحکام، دفاع کی چوکیدار ہے، کوئی بلوچستان کو ہم سے جدا نہیں کر سکتا ہے اور اب قوم کو دیکھنا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جب تک قانون سازی نہیں ہوتی، اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، یہ اجتماعی طور پر پوری امت کا مسئلہ ہے۔ اس موقع پر پریس کانفرنس میں مسیحی برادری کے نمائندے نے کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے اور اس کےلیے وزیر اعظم کے دفتر سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری ہمیشہ اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتی ہے اور آج تک ہمارے لوگوں کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے ہمیں شرمندگی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعے کی مذمت کےلیے اپنے تعلقات کو استعمال کریں گے، ہم اپنے مسلمان دوستوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہر فورم پر اس کی مذمت کریں گے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم پورے ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کونسل بنانے جا رہے ہیں جو مرکز سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک ہوں گی اور یہ رواداری، امن اور محبت کا پیغام پاکستان سے پوری دنیا میں پھیلے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button