نواز شریف اورمریم کا بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بڑا درد سر بن گیا


اپوزیشن جماعتوں کے نان سٹاپ جلسوں اور نواز شریف اور مریم نواز کی طرف سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر مبنی تقاریر کا نہ تھمنے والا سلسلہ کپتان حکومت اور اسکی سپورٹر اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک ایسا درد سر بنتا جارہا ہے جو اب ناقابل برداشت ہو کر مائیگرین کی صورت اختیار کرتا جا رہا یے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ مریم اور نواز شریف کے سخت ترین اینٹی اسٹیبلشمینٹ بیانیے کو کاونٹر کرنے کے لیے خود کو نیوٹرل کرے گی یا پھر مریم نواز کی گرفتاری کا آپشن استعمال کیا جائے گا۔ پر یہاں بھی مسئلہ یہی درپیش ہے کہ اگر مریم کو گرفتار کر بھی لیا جائے تو لندن میں موجود ان کے نواز شریف اپنے آرمی چیف مخالف بیانیے میں اور بھی شدت لا سکتے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کوئٹہ میں اپنے تیسرے کامیاب جلسے کے بعد آگے بھی جلسوں کی تیاری کر رہا ہے۔ سیاست کے ٹمپریچر جس میں نواز شریف کی احتجاجی سیاست میں انٹری سے ہلچل ہوئی وہ بدستور اوپر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس میں کچھ  کردار سٹیج سے ہونے والی تقریروں کا ہے اور کچھ کردار اس رد عمل کا ہے جو ان جلسوں کے پس منظر اور پیش منظر میں حکومت کی طرف سے دیا گیا ہے۔ کراچی میں دیے گے رد عمل کے نتیجے میں ایک پورے صوبے کی پولیس نے کام چھوڑ کر چھٹی پہ جانے کا اعلان کر دیا اور اس معاملہ پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کور کمانڈر کراچی کے ذریعے انکوائری کرانے کے اعلان کے باوجود حکومتی وزرا کی جانب سے لایعنی اور بے تکی لفظی گولہ باری عروج پر ہے۔ اس بڑھتے ہوئے ٹمپریچر میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ احتجاج جو اب کھلی محاذ آرائی میں بدل گیا ہے آخر کہاں تک جائے گا؟ دونوں فریقوں میں سے بقول انگریزی محاورہ پہلے پلک کون جھپکے گا (who will blink first)؟
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ماریہ میمن کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کا فی الحال پلکیں جھپکنے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا۔ نواز شریف لندن میں سکون سے واک اور ٹاک میں مصروف ہیں اور اپنی ہر تقریر میں پہلی تقریر سے زیادہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف لے کر سامنے آتے ہیں جس نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ حکومت کے دعوے اپنی جگہ مگر قانونی اور سیاسی دونوں پہلوؤں سے نواز شریف کی واپسی یا حوالگی کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں چائے وزیراعظم عمران خان اپنے طریقہ کے مطابق برطانوی وزیراعظم سے ہی یہ مطالبہ کیوں نہ ڈالیں۔
پاکستان میں مریم نواز کے علاوہ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت بڑی احتیاط سے نواز شریف کے بیانیے سے کھلا اختلاف کیے بغیر ادھر ادھر رسمی بیانات دے کر بچنے میں مصروف ہے۔ قیادت کی کمی البتہ مریم نواز پوری کر رہی ہیں۔ کوئٹہ میں نہ صرف ان کی تقریر بلکہ ان کے لباس سے لے کر ان کی  لاپتہ افراد کے ساتھ تصویر کھنچوانے تک، سارے عمل کھلا اور واضح طبل جنگ تھا۔ کوئٹہ جلسے کے دوران پہلے مریم نواز نے اور پھر نواز شریف نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو خوب لتاڑا نکالا اور جرنیلوں کے نام لے لے کر الزامات لگائے۔ ماریہ میمن کے مطابق امید کی جارہی ہے کہ ہر جلسے کے ساتھ ان دونوں کی تقریریں سیاسی ٹمریچر بڑھائیں گی۔ اور بات اب صرف تقریر تک محدود نہیں، ان کی دیگر سیاسی سرگرمیاں وقت کے ساتھ خبروں کا مرکز رہیں گی۔ چاہے وہ لاہور میں بلوچ طالب علموں کے ساتھ یک جہتی ہو یا ایک صحافی کی گمشدگی پر سوشل میڈیا پر اجتجاج، مریم اور انکے والد آگے چل کر بھی اپنی موجودگی محسوس کرانے کا کوئی موقع نہیں جانے دیں گے۔  ماریہ کے خیال میں اب صرف ایک ہی چیز مریم نواز کی سیاسی سرگرمیاں روک سکتی ہے اور وہ ہے گرفتاری۔ نیب کے کیس میں گرفتاری زیادہ دیر پا ہوتی ہے اس لیے زیادہ امکان بھی اسی کا ہے۔  تاہم کراچی میں مریم نواز کے شوہر کی گرفتاری کے بعد جو ردعمل اور سیاسی بھونچال آیا اس کے بعد مریم کی گرفتاری کا فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو سو مرتبہ سوچنا پڑے گا۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر مریم نواز کو گرفتار کیا گیا تو کیا اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ ن کی دوسرے درجے کی قیادت پر بھی کریک ڈاؤن کا امکان ہے جبکہ پارٹی کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پہلے سے ہی نیب کی تحویل میں ہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ
کیا نواز شریف کی پارٹی مریم کی ممکنہ گرفتاری کے بعد  تحریک کی صورت میں رد عمل دے گی یا صرف بیانات تک ہی محددو رہے گی؟
دوسری طرف پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے ساتھ تو کھڑی ہے مگر سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ اب گلگت بلتستان کی حکومت کے خواب بھی دیکھ رہی ہے۔  کہا بلاول بھٹو نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد قائم و دائم رہے گا اور اس حوالے سے حکومتی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ مولانا فضل الرحمان کے پاس اگرچہ کھونے کو کچھ نہیں مگر وہ بھی تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہے رہیں اور ساتھ اپنا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بھی آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرا فریق کب اپنا اگلا فیصلہ کرے گا۔ اگرچہ بدنام زمانہ نیب کے بنائے ہوئے کیس موجود ہیں مگر حالیہ تاریخ گواہ ہے کہ اسی نظام میں گنجائش بھی نکل سکتی ہے۔ آخر ابھی کچھ ہفتے پہلے تک نواز شریف مکمل بیمار اور مریم مکمل خاموش تھیں۔ ووٹ کی عزت کی جدوجہد میں اشتہاروں کا وقفہ تھا اور مسلم لیگ ن کی قیادت بھی ایک صفحے کا کونہ پکڑ کر پارلیمنٹ میں سرگرم تھی۔ اب ماحول یکسر بدل چکا  ہے مگر اس کا یہ بھی سبق ہے کہ ماحول دوبارہ بھی بدل سکتا ہے، صرف کسی ایک فریق کے پلک جپھکنے کی دیر ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ پہلے اسٹیبلشمنٹ پلکیں جھپکتی ہے یا نواز شریف؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button