’گستاخانہ خاکوں’ کا معاملہ، مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ

فرانس کی حکومت نے کویت سمیت دوسرے عرب ممالک سے اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کی اپیل کردی۔
متعدد عرب ممالک کی کاروباری تنظیموں نے چند دن قبل ہی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور یورپی ملک کی ہر طرح کی مصنوعات کو دکانوں سے ہٹایا جا رہا تھا۔ فرانس کے ایک استاد کی جانب سے کچھ دن قبل کلاس کے دوران بچوں کو ’گستاخانہ خاکے‘ دکھانے کی خبر سامنے آنے کے بعد عرب ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ فرانسیسی مصنوعات کے خلاف سب سے پہلے کویت کی 70 سے زائد کاروباری تنظیموں کے اتحاد نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کویت بھر سے فرانسیسی مصنوعات کو اسٹورز سے ہٹایا جا رہا تھا۔ یہ بائیکاٹ اس وقت شروع کیا گیا جب فرانسسی صدر ایمانوئیل میکرون نے 23 اکتوبر کو متنازع بیان دیا اور کہا تھا کہ فرانس ’گستاخانہ خاکوں‘ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ فرانسیسی صدر نے یہ بیان اس وقت دیا تھا جب فرانس میں 17 اکتوبر کو ایک حملے میں اس استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا، جس نے اسکول میں بچوں کو ’گستاخانہ خاکے‘ دکھائے تھے۔ فرانسیسی صدر نے مذکورہ شخص کی آخری رسومات میں شرکت کرکے اسے فرانس کا ہیرو بھی قرار دیا تھا، جس پر پوری دنیا میں فرانسیسی صدر کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔ فرانسیسی صدر کے متنازع بیان پر حکومت پاکستان اور حکومت ترکی نے سخت رد عمل دیا تھا اور ایمانوئیل میکرون کو ’دماغی معائنہ‘ کرانے کے مشورے دیے گئے تھے۔
فرانس میں ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اسکولی بچوں کے سامنے نمائش، نمائش کرنے والے استاد کے قتل اور پھر فرانسیسی صدر کی جانب سے اسے ہیرو قرار دیے جانے کے بعد پوری مسلم دنیا میں فرانس کے خلاف مظاہرے اور بائیکاٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اسی سلسلے کے تحت کویت کی 70 سے زائد کاروباری تنظیموں کے اتحاد نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرکے یورپی ملک کی مصنوعات کو ہٹانا شروع کردیا تھا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، مصر اور دیگر مسلم ممالک میں بھی فرانس کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنے اور عوام نے فرانسیسی صدر پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا۔ عرب ممالک میں اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ شروع ہونے کے چند دن بعد ہی فرانسیسی حکومت کے ہوش ٹھکانے آگئے اور اس نے مشرق وسطی کے ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کردی۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے بعد فرانسیسی وزارت خارجہ نے عرب ممالک کو بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کی۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فرانس کے خلاف ’گستاخانہ خاکوں‘ کی تشہیر اور اشاعت کے الزامات کے تحت کیے جانے والا بائیکاٹ اور مظاہرے من گھڑت ہیں۔ جہاں ایک طرف فرانسیسی حکومت نے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، وہیں دنیا بھر کے مسلم ممالک سمیت دیگر مسلم آبادی والے ممالک کے عوام کی جانب سے فرانسس کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم میں تیزی دیکھی گئی۔ دنیا بھر میں چلنے والی فرانس مخالف سوشل میڈیا مہم میں فرانسیسی صدر اور حکومت سے ’گستاخانہ خاکوں‘ پر معافی مانگنے کا تاحال مطالبہ کیا جا رہا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button