فرانس نے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر کیوں اور کیسے مجبور کیا؟


پچھلے ہفتے تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم رضوی کے ساتھ پاکستان میں تعینات فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی تحریری یقین دہانی کروانے والی کپتان حکومت نے اب فرانسیسی وزارت خارجہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے فرانسیسی صدر کے خلاف کی گئی ایک ٹویٹ واپس لے لی ہے جسے فرانس کی وزارت خارجہ نے گھٹیا اور جھوٹ پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ فرانس کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی حکام سے شیریں مزاری کی اس ٹویٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا جس میں انھوں نے صدر ایمانویل کی جانب سے فرانسیسی مسلمانوں کے ساتھ سلوک کو دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے یہودیوں سے روا رکھے گئے سلوک سے تشبہیہ دی تھی۔ پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شریں مزاری کے الفاظ کو فرانسیسی صدر اور ملک کے لیے انتہائی گھٹیا، توہین آمیز اور شرمناک قرار دیتے ہوئے، اس بیان کو واپس لینے اور بات چیت کی راہ اختیار کرنے کا کہا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’یہ گھٹیا الفاظ سراسر جھوٹ ہیں جو نفرت اور تشدد کے نظریات پر مبنی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اتنے ذمہ درانہ عہدے پر رہنے والی شخصیت کی جانب سے ایسے گندے تبصرے انتہائی شرمناک ہیں اور ہم ان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔‘
فرانس کی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ انھوں نے پاکستان کے حوالے سے فرانس میں موجود متعلقہ محکمے کو انتہائی سخت سے سخت الفاظ میں اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے شیریں مزاری کا موقف لینے کے لئے بار بار رابطہ کیا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ لیکن اس دعران انھوں نے اپنی فرانسیسی صدر مخالف ٹویٹ ہٹا دی ہے اور اس حوالے سے لکھا ہے کہ ’پاکستان میں فرانسیسی سفیر نے مجھے ایک پیغام بھیجا ہے جس میں لکھا ہے کہ جس مضمون کا میں نے حوالہ دیا تھا، متعلقہ ویب سائٹ نے اس میں تصحیح کر دی ہے۔‘ اس کے جواب میں فرانسیسی سفارت خانے نے انھیں جواب دیا کہ ’اصلاح اور معذرت کے لیے آپ کا شکریہ۔ ساتھ میں یہ بھی لکھا کہ جمہوریتوں میں آزادیِ اظہار اور مباحثے ضروری ہیں تاہم انھیں توثیق شدہ اور درست حقائق پر مبنی ہونا چاہیے نہ کہ جھوٹ ہر مبنی۔‘
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ’شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ ہٹا دی ہے لہذا ہمارا موقف اب وہی ہے جو شیریں مزاری نے اپنی حالیہ ٹویٹ میں لکھا ہے۔‘ یعنی اب حکومت پاکستان کا موقف یہ ہے کہ شیریں مزاری نے جو کچھ لکھا تھا وہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ یاد رہے گذشتہ ہفتے فرانسیسی صدر ایمانویل نے فرانس کے مسلم رہنماؤں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ ‘جمہوری اقدار’ کے چارٹر سے اتفاق کریں جو کہ فرانس میں انتہا پسند اسلام کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
اس موقع پر فرانسیسی صدر نے فرینچ کونسل آف مسلم فیتھ کو 15 دن کی مہلت بھی دی تھی کہ وہ اس عرصے میں فرانس کے وزارت داخلہ کے ساتھ کام کریں۔ سی ایف سی ایم نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ نیشنل کونسل آف امام قائم کرے گی جو کہ ملک میں مساجد میں اماموں کی تقرری کے لیے باضابطہ اجازت نامے جاری کرے گی اور ان اجازت ناموں کو واپس بھی لے سکے گی۔
یہ فیصلے فرانس میں گذشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے تین دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آئے جن میں انتہا پسند اسلام کا پرچار کرنے والے افراد ملوث تھے۔ اس چارٹر میں درج ہوگا کہ ‘اسلام ایک مذہب ہے، نہ کہ سیاسی تحریک’۔۔اسکے علاوہ فرانس میں مسلم گروہوں میں ‘بیرونی مداخلت’ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ دو رہنما اصول اس چارٹر میں واضح طور پر درج ہوں گے اور وہ ہیں کہ سیاسی اسلام اور بیرونی مداخلت قطعی نامنظور ہیں۔
اس کے علاوہ فرانسیسی صدر نے مزید اقدامات کا اعلان کیا جس کے تحت وہ ملک میں ‘اسلام پسند علیحدگی’ کا مقابلہ کریں گے۔ ان اقدامات میں ایک ایسا بِل شامل ہے جو انتہا پسندی کے خلاف ہے اور اس میں گھر پر پڑھانے پر پابندی اور ان لوگوں کے لیے سخت سزایئں تجویز کی گئی ہیں جو سرکاری ملازمین کو مذہبی بنیادوں پر ڈرائیں دھمکائیں۔ اسکے علاوہ بچوں کو شناختی نمبر دینے کا قانون بھی لایا جا رہا یے جس کے تحت اس بات کی نگرانی کی جا سکی گی کہ وہ سکول جا رہے ہیں۔ جو والدین قانون کی خلاف ورزی کریں گے ان پر بھاری جرمانے لگائے جائیں گے اور چھ ماہ کی جیل بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بل منظوری کے لیے فرانسیسی کابینہ میں نو دسمبر کو پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اسی بل کو شئیر کرتے ہوئے فرانس کے صدر کے خلاف سخت تبصرہ کیا تھا جو بعد میں گھٹیا قرار دیے جانے پر انھیں حذف کرنا پڑا۔ شیریں مزاری نے لکھا تھا ‘مسلمان بچوں کو کپڑوں کے اوپر شناختی نمبر پہننے پر مجبور کرنا ایسے ہی یے جیسے یہودیوں کو پیلے رنگ کا ستارہ پہننے پر مجبور کیا گیا تھا۔ پہلے پاکستان میں موجود فرانسیسی سفارت خانے نے وفاقی وزیر کی اسی ٹویٹ کو فیک نیوز اور بہتان قرار دیا۔ جس پر شیریں مزاری نے اگلے دن ایک اور ٹویٹ میں انھیں آرٹیکل کا لنک پڑھنے کا مشور دیتے ہوئے لکھا ‘اگر یہ فیک نیوز ہے تو میری ٹویٹ کو فیک کہنے کے بجائے جہاں یہ شائع کی گئی ہے، وہاں سے اسے ہٹوائیں۔’ ساتھ ہی شیریں مزاری نے یہ بھی لکھا ‘ویسے یہ تو بتائیے کہ عوامی مقامات پر راہباؤں کو سر ڈھکنے کی اجازت کیوں ہے جبکہ مسلمان عورتیں حجاب نہیں پہن سکتیں؟ کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے؟’
اس کے علاوہ شیریں مزاری نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ، جس میں کہا گیا تھا کہ فرانس جس آزادیِ اظہار کا پرچار کرتا ہے، وہاں اتنی آزادیِ اظہار نہیں، شئیر کرتے ہوئے فرانسیسی سفارت خانے کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا، اگر یہ رپورٹ بھی فیک ہے تو اس کا الزام ایمنسٹی پر لگائیں۔
شیریں مزاری کے ٹوئٹر پر دیے گئے ان ہی بیانات کے ردِعمل میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا اور وفاقی وزیر کی ٹویٹس کو گھٹیا اور جھوٹ پر مبنی قرار دے کر انہیں واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ یاد رہے گذشتہ ماہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی تھی اور وفاقی کابینہ نے گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کی موثر نمائندگی کے لیے ہر دستیاب فورم استعمال کرنے کا اعادہ کیا تھا۔
ٹوئٹر پر یہ نوک جوک صرف شریں مزاری اور فرانسیسی سفارت خانے تک محدود نہیں رہی اور کئی پاکستانی صارفین اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں اور ایک ناختم ہونے والی بحث جاری ہے۔
مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی اور مصنفہ فاطمہ بھٹو نے بھی اسی خبر کے حوالے سے ٹویٹ کیا ’فرانس کے صدر مسلمان بچوں کو قانون کے تحت ایک شناختی نمبر دینا چاہتے ہیں جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا کہ وہ سکول جا رہے ہیں؟‘ اس پر فرانس میں مقیم پاکستانی صحافی طحہ صدیقی نے ان سے پوچھا کہ ’اس آرٹیکل میں کہاں لکھا ہے کہ یہ شناخت صرف مسلمان بچوں کو دی جائے گی؟‘ طحہ کا کہنا تھا کہ مغرب کے بیشتر ممالک کی طرح فرانس کے بھی اپنے ملک میں رہنے والی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں جس کی وجہ ماضی کا نو آبادیاتی نظام، جدید دور میں لڑی جانے والی جنگوں میں فرانس کی شرکت، نسل پرستی اور دائیں بازو کی سیاست کا عروج ہے۔ انھوں نے فاطمہ بھٹو کو کہا کہ اپنا نقطہ نظر سمجھانے کے لیے لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔
صحافی مشرف زیدی لکھتے ہیں فرانس، مسلمان بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کے حوالے سے پریشان نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انھیں پریشانی ہے کہ کوئی ان کے اس سلوک کا موازنہ 1930 اور 1940 میں نازیوں کے یہودی بچوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے کرے گا۔‘ ساتھ ہی انھوں نے لکھا ’اگر فرانسیسی موازنہ پسند نہیں کرتے ہیں تو اس کی تصحیح کرنا فرانس پر ہے، ٹھیک ہے نا؟‘ایک اور صارف نے لکھا ’شکر ہے شریں مزاری وزیرِ خارجہ یا سلامتی کی قومی مشیر نہیں ورنہ اب تک ہم آدھے درجن ملکوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوتے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button