نئے سوشل میڈیا قوانین سے ملکی معیشت بیٹھنے کا خطرہ


حکومت پاکستان کی جانب سے حال ہی میں نافذ کردہ سوشل میڈیا قوانین پہلے سے ہی گرتی ہوئی ملکی معیشت کو مزید گرانے کا باعث بنیں گے۔ اس خدشے کا اظہار پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں نے کیا ہے۔ ان تنظیموں نے ملک میں نافذ کردہ سوشل میڈیا قوانین کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں اور انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز پر لگائی جانے والی پابندیوں کو سینسر شپ قرار دیتے ہوئے سختی سے رد کر دیا اور کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے نافذ کردہ قوانین واپس نہ لئے گئے تو جہاں سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان سے اپنا بزنس سمیٹ لیں گی وہیں ڈیجیٹل اکانومی کی بندش کا بھی امکان ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں نافذ کردہ سوشل میڈیا قوانین کے تحت انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز کو سوشل میڈیا کمپنیوں کے مواد کی جارحانہ نگرانی کرنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور ان سے ایک ایسا نظام ترتیب دینے کا کہا گیا ہے جس کے ذریعے قابل اعتراض مواد کو آن لائن آنے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔ ڈیجیٹل حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق حکومتی اقدامات سنسرشپ کی نجکاری کی ایک خطرناک کوشش ہے کیونکہ حکومت کیسے نجی کمپنیوں کو یہ اختیار دے سکتی ہے۔نہ صرف یہ بلکہ ان نئے قواعد میں ذاتی معلومات اور مواد کی رازداری سے متعلق بھی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ان قواعد میں کمپنیوں کو بلاک کیے گئے مواد کو محفوظ رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اس کا استعمال کون کرے گا اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے مواد پر پابندی سے متعلق نئے قواعد جاری کیے گئے جن میں’پاکستان کی ساکھ، سکیورٹی اور دفاع’ کی اصطلاح سے متعلق ‘متنازع’ تشریح سمیت دیگر قواعد پر ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ان قواعد کا مقصد انٹرنیٹ سے مواد ہٹانے یا اسے بلاک کرنے سے متعلق طریقہ کار وضع کرنا ہے اور انھیں اس سال فروری میں سب سے پہلے پیش کیا گیا تھا۔نئے قواعد کی ایک شق کے مطابق پی ٹی اے ایسے کسی بھی مواد کو ہٹانے کا مجاز ہو گا جو ‘وفاقی و صوبائی حکومت اور سرکاری ملازمین کے خلاف نفرت یا بداندیشی پھیلائے، یا ان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔ دیگر تشریحات جیسے ‘بدامنی’ کی اصطلاح کی تشریح میں مواد کے ‘جھوٹ پر مبنی’ ہونے کی شرط موجود ہے لیکن ‘پاکستان کی ساکھ، سکیورٹی اور دفاع’ کی تشریح میں اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
پاکستان میں میڈیا کے حقوق و آزادی سے متعلق کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی شریک بانی صدف خان کے مطابق یہ بات اس لیے زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ اس میں تفریق نہیں کی گئی کہ آیا یہ مواد جھوٹ پر مبنی ہو گا تب ہی اسے ہٹایا جائے گا یا پھر حقائق پر مبنی مواد یا کسی کی ذاتی رائے بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ ‘ان قواعد کے تحت اگر حکومت پر کسی بھی قسم کی تنقید کی جائے گی تو چاہے وہ حقائق پر مبنی ہی کیوں نہ ہو ایسے مواد کو ہٹایا جا سکے گا۔ یعنی کرپشن، بد انتظامی اور مخالفین کی جانب سے کی گئی تنقید کو بھی غیر قانونی مواد سمجھا جائے گا۔’
نئے سوشل میڈیا قواعد بارے وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ ‘جن الفاظ میں اس اصطلاح کی تعریف کی گئی ہے وہ بہرحال مبہم ہیں اور ان سے حکومت کو اپنے ناقدین کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں سہولت ہو گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ضمن میں تشریح کرنے کا حق صرف پارلیمان کے پاس ہے اور قواعد کے ذریعے قانون میں اضافے نہیں کیے جا سکتے۔
یاد رہے کہ سنہ 2019 میں جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ایک سیاسی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کی ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا تو انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور جسٹس اطہر من اللہ نے اس ویب سائٹ پر سے پابندی ہٹاتے ہوئے قواعد بنا کر طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ رواں برس فروری میں ان قواعد کا مسودہ پیش کیا گیا تھا تاہم ان پر تنقید کی وجہ سے انھیں واپس لے لیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے موقف تھا کہ وہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر اس کا از سر نو جائزہ لے گی۔
انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بھی ان قواعد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان قواعد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ اکثر انٹرنیٹ سے جڑی کمپنیوں کے لیے ان قواعد پر عمل کرنا ممکن نہیں ہو گا اور اگر حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو یقیناً یہ ملک کی ڈیجیٹل اکانومی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ ان کمپنیوں سے اپنا ڈیٹا بینک پاکستان منتقل کرنے کی شرط بھی سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اے آئی سی پہلے ہی اس بارے میں تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور بصورت دیگر یہاں موجود کمپنیوں کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے بارے میں بھی بات کر چکی ہیں۔ تاہم ایسی بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیاں جو صرف پاکستان سے جڑی نہیں ان کے لیے ڈیٹا بینک یہاں منتقل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button