فلم ’’پٹھان‘‘ کی بائیکاٹ مہم چلانے والے ناکام کیسے ہوئے؟

کنگ خان کی فلم ’’پٹھان‘‘ کی ریلیز سے قبل ہی بائیکاٹ مہم اور مختلف تنازعات نے فلم کی کامیابی کے امکانات کو صفر کر دیا تھا لیکن جیسے ہی فلم سینما سکرینوں پر آئی تو کمائی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔کچھ فلم ناقدین کا خیال یہ بھی تھا کہ شاید اب شاہ رخ خان کی کوئی فلم اُس طرح کامیاب نہ ہو سکے جیسے پہلے ہوا کرتی تھی اور خود شاہ رخ خان نے بھی اس بارے میں خدشات اور اپنی ذات پر اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کی بات کی تھی۔

پٹھان کی ریلیز سے پہلے ہی انڈیا میں اس فلم کو بائیکاٹ کرنے کی ایک منظم مہم چلائی گئی لیکن باکس آفِس پر پٹھان کی کارکردگی نے سب کو حیران کر دیا، جیسے ہی فلم پٹھان کا ٹریلر ریلیز ہوا دائیں بازو کی بعض ہندو تنظیموں، سیاسی رہنماؤں اور سادھوؤں کی طرف سے اِس فلم کے بائیکاٹ یا گانے ’بے شرم رنگ‘ کو سینسر کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔مظاہرین کو بظاہر اِس گانے میں استعمال ہونے والے بعض کپڑوں اور ان کے زعفرانی رنگ پر اعتراض تھا۔

انڈیا میں یہ رنگ ایک سیاسی اور مذہبی علامت بن گیا ہے، بعض جگہوں پر شاہ رخ خان اور دپیکا پڈوکون کے پُتلے تو کہیں فلم کے پوسٹر جلائے گئے۔ مگر جب وزیر اعظم مودی اور اُن کے ایک مسلم مخالف اشتعال انگز بیانات کے لیے مشہور وزیر انوراگ ٹھاکر نے ’فلم انڈسٹری کے بارے میں غیر ضرروی تبصرہ‘ نہ کرنے کی تلقین کی تو مخالفت کی شدت میں کمی آگئی۔کانگریس پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر ششی تھرور نے لکھا کہ ’میں نے اپنی بہن کے ساتھ فلم دیکھی، اور سٹارز کے مذہب کا خیال تک ذہن میں نہیں آیا۔ ایک انڈین پٹھان، ایک پاکستانی ڈاکٹر اور جِم نامی ایک ولین۔!

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ میرے ٹیکسی ڈرائیور نے بھی پٹھان دیکھی، کیونکہ اس کے بقول’ بی جے پی نے ملک میں بہت نفرت پھیلا دی ہے۔‘ میں امید کرتی ہوں کہ یہ جذبہ عالمی سطح پر تاریخ کی کتابوں میں درج ہو جائے گا۔ڈاکٹر مُتھو کرشنن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں بی جے پی سپورٹر ہوں۔۔ میرے خیال میں پٹھان بائیکاٹ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ فلم کا فیصلہ دیکھنے والوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، ٹرولز کے نہیں۔انڈین فلم ناقد کومل نہاٹا کے مطابق ’تاریخ میں کسی بھی ہندی فلم کی یہ اب تک کی سب سے بڑی اوپننگ ہے۔ وہ بھی تب جب کوئی چھٹی یا بڑا دن نہیں تھا اور نہ ہی یہ فلم کوئی سیکویل تھی۔ ایک ہفتے کے اندر پٹھان نے دنیا بھر میں 600 کروڑ سے زیادہ کمائے۔ جس میں لگ بھگ 400 کروڑ کی کمائی صرف انڈیا میں ہوئی جبکہ بیرون ملک فلم نے ایک ہفتے میں 239 کروڑ کمائے۔

فلم ناقد گجیندر سنگھ کے مطابق ’فلم کے ڈائیلاگ اور سکرین پلے تازہ تھا اور یش راج کی ماضی کی فلموں کے مقابلے میں مزاح اچھا تھا، ایکشن اچھا تھا۔ ایک اور بڑی بات اس میں سلمان خان کی موجودگی تھی۔ لوگوں نے فلم کرن ارجن کے بعد دونوں (شاہ رخ خان، سلمان خان) کو ایک ساتھ دیکھا۔گجیندر سنگھ بائیکٹ مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مہم کے خلاف ضروری نہیں کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں لیکن جو فلم دیکھنے والے ہیں انھوں نے ٹکٹ کی کھڑکی پر فیصلہ کیا کہ جو بھی چیزیں آس پاس ہو رہی ہیں، جو بھی مہم چل رہی تھی جو بھی بیان سیاسی رہنماؤں کے آ رہے تھے اس سب پر اُن کا کیا موقف ہے۔جہاں فلم ناقدین اور شائقین نے اس فلم کو پسند کیا ہے وہیں اس فلم پر تنقید بھی ہوئی ہے مگر باکس آفس پر اس کی کامیابی کو دیکھ کر ایک بات کا اندازہ تو ہوتا ہے کہ شاہ رخ خان بظاہر بالی ووڈ کے ہی نہیں، انڈیا میں فلم شائقین کے دلوں کے بھی بادشاہ ہیں۔

Back to top button