فلم ’’ہوئے تم اجنبی‘‘ کی کہانی کتنی حقیقی ہے؟

پاکستانی فلموں میں بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک وقت میں پاکستان کا حصہ رہنے والے ملک بنگلہ دیش سے متصل کسی کہانی کو فلم کا حصہ بنایا گیا ہو لیکن حال ہی میں ریلیز ہونے والی کامران شاہد کی فلم میں ’’ہوئے تم اجنبی‘‘ میں بنگلہ دیش کی ایک کہانی کو موضوع بنایا گیا ہے۔
فلم کی کہانی کے حقیقت پر مبنی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خوب قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، فلم ’’ہوئے تم اجنبی‘‘ کے آغاز میں لکھا تھا کہ یہ اصل واقعات پر مبنی ہے لیکن فلم کی کہانی پاکستان کے نصاب اور ریاستی مؤقف سے ماخوذ نظر آتی ہے۔
کہنے کو تو یہ فلم رومانوی ہے لیکن اس کی سب سے خاص بات ایکشن سین ہیں جن میں پاکستان فوج کی مشینری کا بھرپور انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔فلم میں بحری اور ہوائی جہازوں کے درمیان لڑائی کے سیکوئلز ہیں جو شائقین کا لہو گرمائیں گے۔
فلم کی کہانی 1970 میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے ایک لڑکے اور لڑکی کے گرد گھومتی ہے جنہیں ایک دوسرے سے محبت ہوجاتی ہے۔ مغربی پاکستان کے ایک امیرزادے نظام الدین (میکال ذوالفقار) اور مشرقی پاکستان کی حسینہ زینت (سعدیہ خان) جب ایک دوسرے سے اقرارِ محبت کرتے ہیں تو مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوجاتے ہیں اور ان کی محبت کی کہانی بھی ان حالات سے متاثر ہوتی ہے۔
فلم کے دوران بعض کرداروں کا لہجہ بظاہر ان کے کرداروں سے میل نہیں کھاتا۔ خاص طور پر ہیروئن سعدیہ خان کا کردار جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے دکھایا گیا ہے لیکن وہ لکھنؤئی اردو بولتی نظر آتی ہیں۔’ہوئے تم اجنبی’ میں لگائے گئے بڑے سیٹ شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں یقیناً کامیاب ہوں گے۔
فلم کی پروموشن کے دوران ہدایت کار کامران شاہد کا کہنا تھا کہ فلم میں پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے سرمایہ نہیں لگایا ہے البتہ لاجسٹک سپورٹ فراہم کی ہے۔پہلی مرتبہ کسی پاکستانی فلم میں متعدد ہیلی کاپٹر کو زمین پر گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جب کہ ہوائی جہازوں کے بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کو بھی اچھے انداز میں فلمایا گیا ہے۔
بم پھٹنے کے مناظر سے لے کر کلائمکس پر پاکستان فوج کے فائٹ بیک تک سب ہی مناظر کو فلمانے میں مہارت نظر آتی ہے۔ فلم میں ایک دو جگہ مسائل کے باوجود ویژول ایفیکٹس کی داد نہ دینا غلط ہوگا۔
فلم میں اداکار شمعون عباسی کا مکتی باہنی کے کمانڈر جبار کا کردار ہو یا ہیروئن سعدیہ خان کا زینت سب کی ہی فلم میں انوکھی انٹری دکھائی گئی ہے لیکن ہیرو میکال ذوالفقار کی انٹری زور دار نظر نہیں آئی۔ میکال ذوالفقار نے رومانوی سین تو اچھی طرح فلمائے لیکن ان کے سب سے زیادہ یادگار سین وہ تھے جو جنگی قیدیوں کے کیمپ میں فلمائے گئے۔
ہیروئن سعدیہ خان کی ادکاری یا رقص کئی شائقین کو متاثر نہیں کرسکے۔ اداکارہ نشو بیگم کو چند مناظر ہی میں دکھایا گیا ہے جب کہ عائشہ عمر کو بھی ایک چھوٹا کردار دیا گیا ہے۔
اداکار شمعون عباسی کی بطور ولن اداکاری بہتر نظر آئی اور انہوں ںے خاص طور پر ایکشن سین اچھی طرح نبھائے۔ اداکار علی خان نے ایک پاکستانی فوجی افسر کا کردار بخوبی ادا کیا اور انٹرمشن کے بعد کئی شائقین سے داد سمیٹی۔
فلم میں معروف اداکار سہیل احمد نے بازارِ حسن کی ایک کرتا دھرتا خانم کا کردار ادا کیا ہے لیکن ان کی فنکارانہ صلاحیتوں سے پورا پورا فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔
معروف ولن شفقت چیمہ نے اس فلم میں اپنے روایتی انداز میں اداکاری کی ہے۔ لیکن اداکارہ ثمینہ پیرزادہ سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے کردار سے قطعی انصاف نہیں کرسکیں۔ لباس اور میک اپ کی حد تک ان کا کردار جاندار تھا لیکن وہ اداکاری سے اس کردار میں جان نہیں ڈال سکیں۔
فلم کی کہانی کے لیے ان کتابوں سے استفادہ کیا جاتا تو اس میں بہت سے جھول باقی نہیں رہتے۔ فلم کا آرٹ ڈپارٹمنٹ شاید یہ بھول گیا کہ فلم میں جو زمانہ دکھایا گیا ہے اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی کا نام ‘ڈاکا یونیورسٹی’ تھا جسے 80 کی دہائی میں تبدیل کرکے ڈھاکہ کیا گیا تھا۔
شیخ مجیب الرحمان کو قتل کے وقت گھر میں اکیلے دکھانا اور 1970 میں اندرا گاندھی کا بانی پاکستان محمد علی جناح کی پرانی تقریر سن کر اپنے گھر میں چیزیں توڑنا جیسے سین سمجھ سے بالا تر ہیں۔
دوسری جانب فلم کی موسیقی شائقین کو 1970 کی دہائی کی یاد دلاتی ہے جب گانوں کی دھنیں اور شاعری دونوں بھرپور ہوتی تھیں۔ فلم کا ٹائٹل ٹریک ‘ہوئے تم اجنبی’ گلوکار علی ظفر نے بہت اچھے انداز میں پیش کیا جب کہ اسے بیک گراؤنڈ اسکور کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے۔
اس فلم کے ذریعے پاکستان کے عوام کو سقوطِ ڈھاکہ کی درست تصویر بھی دکھائی جا سکتی تھی لیکن فلم کے مصنف نے وہی بیانیہ دکھایا جو پاکستان کے نصاب میں برسوں سے پڑھایا جا رہا ہے۔

Back to top button