فواد حسن فواد کا اپنا موازنہ اعظم خان سے کرنے پر احتجاج

سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے سینئر صحافی سلیم صافی کی جانب سے اپنا موازنہ عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ کئے جانے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے اس سے یہ تاثر ملا جیسے شاید مجھے جیل بھیجنے کی وجہ میرے اعمال یا کردار تھا اور اب اعظم خان کے ساتھ بھی وہی ہونے جارہا ہے۔ سلیم صافی نے فواد حسن فواد کی جانب سے خود کو لکھا گیا ایک خط شائع کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ انکی ایک تحریر سے فواد حسن فواد نے ایسا تاثر لیا کہ جیسے میں انکا موازنہ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ کرتے ہوئے انہیں ایک ہی کیٹیگری میں شمار کیا ہے اور یہ کہ ان کی گرفتاری انکے اعمال کا نتیجہ تھی۔ سلیم صافی نے لکھا ہے کہ مجھے افسوس ہے کہ میں نےایسا انداز تحریر اختیار کیا جس سے فواد حسن فواد یا کسی اور نے یہ تاثر لیا۔ جب وہ پرنسپل سیکرٹری تھے تو کئی حوالوں سے میں نے ان پر شدید تنقید کی لیکن میں انہیں ہرگز اعظم خان جیسا شخص نہیں سمجھتا۔ انہوں نے لکھا کہ میں فواد حسن فواد کی گرفتاری کے دن سے آج تک اس موقف کا ہر فورم پر اظہار کرتا رہا کہ فواد اور احد چیمہ کے ساتھ عمران دور میں زیادتی نہیں بلکہ ظلم ہوا۔
فواد حسن فواد نے سلیم صافی کو اپنے خط میں لکھا ہے کہ مجھے آپ کا کالم پڑھ کر بہت دکھ ہوا کیونکہ اس سے یہ واضح تاثر ابھرا کہ شاید مجھے جیل بھیجنے کی وجہ میرے اعمال یا کردار تھا۔ مجھے ہمیشہ یہ گمان رہا کہ آپ ان تمام حقائق سے بخوبی واقف تھے جن کی وجہ سے مجھے جھوٹ پر مبنی الزامات پر جیل بھیجا گیا۔ سو میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ کم از کم کچھ ایسے حقائق ضرور آپ کے سامنے رکھوں جن سے آپ نے دانستہ طور پر یا غیر دانستگی میں اغماض برتا ہے۔
فواد نے لکھا ہے کہ آپ کو اچھی طرح علم ہے کہ میں آج تک کسی منافع بخش عہدے پر براجمان نہیں رہا اور نہ ہی کبھی اس کی خواہش رکھی ہے۔ میری ملازمت کے ابتدائی دس سال بلوچستان میں گزرے جنہیں میں آج بھی اپنے بہترین دنوں میں شمار کرتا ہوں۔میں نے اوتھل ضلع لسبیلہ کے صحرا سے لیکر وزیراعظم ہاؤس اور اسلام آباد کے ایوان ہائے اقتدار کی رہگزاریوں تک ایک ہی جذبے، لگن اور محنت سے کام کیا۔ رہی وزیر اعظم کی سیکرٹری کے طور پر تعیناتی تو جب مجھے اس کیلئے کہا گیا تو میں نے وزیراعظم نواز شریف سے اس پر اختلاف کیا اور انھیں قائل کرنے کیلئے تین افسران کے انٹرویو کروائے۔ عظمت رانجھا ،ندیم حسن آصف اور حسیب اطہر ،تینوں آج بھی حیات ہیں اور آپ سب سے علیحدہ علیحدہ تصدیق کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نے میری تقرری کے احکامات جاری کیے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے اس حیثیت میں اسی جوش اور جذبے سے کام کیا جو اس عہدے کا تقاضا تھا لیکن کسی ایک لمحے کے لئے بھی قانون اور قاعدے سے متضاد کوئی رائے دی اور نہ ہی کسی ایسے حکم نامے پر بلاجواز دستخط کیے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ان پانچ برسوں میں تعینات کسی بھی افسر اور اہلکار کو بلائیں اورحلف دے کر پوچھیں کہ کیا ایک لمحے یا ایک مرتبہ بھی انہیں یہ کہا گیا کہ کسی فائل پر اپنا نقطہ نظر رکھنے سے پہلے پوچھ لیں۔ اس کے برعکس ہر ایک کو بارہا کہا گیا کہ آپ کا کام بغیر کسی دباؤ کے قانون اور قاعدے کے مطابق فائل دیکھنا ہے اور اس پر تحریری رائے دینا ہے۔ اگر میں یا وزیراعظم اس سے اختلاف کریں گے تو زبانی نہیں بلکہ تحریری کریں گے۔
فواد حسن فواد نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میری گرفتاری کے بعد چار ماہ تک ایک ٹیم وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھی ایک ایک کاغذ کو چھانتی رہی۔ اس کی بھی جس سے چاہیں تصدیق کرلیں یا پھر خود ارباب شہزاد اور اعظم خان سے ہی پوچھ لیں۔ اس سے بھی بڑھ کر میرے خلاف بنائے دونوں ریفرنس چھان لیں۔ کیا کسی ایک میں بھی ایسے فیصلے کا ذکر ہے جس سے مجھے کوئی فائدہ ملا ہو یا جو براہ راست یا بالواسطہ میرے کسی عزیز، رشتہ دار یا دوست کے فائدے کے لیے ہوا ہو یا کسی کے اکاؤنٹ سے تحقیقات کے دوران کوئی ٹی ٹی یا کوئی نا قابل تصدیق رقومات ملیں ؟ اس کے باوجود مجھے دو ایسے مقدمات میں ملوث کیا گیا اور آج تک عدالتی حاضریوں سے گزارا جا رہا ہوں جن میں سچائی کا رتی بھربھی شائبہ نہیں۔ میں نے بدترین میڈیا ٹرائل کے باوجود اپنے آپ کو روکا ہے کہ زیر سماعت مقدمات پر بات نہ کروں لیکن آپ یا کوئی بھی اور اینکر جس روز چاہے روبرو بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہوں لیکن صرف اسی وقت جب وہ پروگرام براہ راست نشر ہو۔ اور آپ چاہیں تو نیب کےکسی بھی شخص یا خود جاوید اقبال کو بلوا لیں کہ وہ بھی روبرو ہو جائے۔ تب کی وزارتوں اور اداروں میں تعینات کسی بھی شخص سے پوچھئے کہ کیا میں نے کبھی کسی کو کسی منافع بخش عہدے پر تعینات کرنے کے احکامات دیے؟ احکامات تو چھوڑ ئیے کیا کبھی سفارش بھی کی؟ ان میں سے کئی آج بھی اعلیٰ عہدوں پر ہیں اور ان میں سے کئی ایک میرے خون کے پیاسے بھی رہے ہیں، یوں مجھے یقین ہے کہ تکلف نہیں کریں گے۔ یہ بھی پوچھ لیجئے گا کہ مجھ سے پہلے اور بعد میں یہ تقرریاں کیسے ہوتی رہیں؟
فواد نے صافی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ کو شاید یہ جان کر بھی خوشی ہوگی کہ آشیانہ ہائوسنگ کیس میں مجھ سے متعلق الزامات کا ٹرائل آج چار سال کے بعد بھی شروع نہیں ہوسکا جب کہ ناجائز اثاثوں کے کیس میں پہلے نیب نے ریفرنس فائل کرنے میں تقریباً ایک سال کا وقت لیااور باقی تین سال میں سے دو سال سے زائد عرصہ متعلقہ عدالت میں کسی جج کی تعیناتی ہی نہیں کی گئی۔ 31 مئی 2022 سے عدالت خالی ہے اور ہم پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ میں نے پچھلی حکومت کی فسطائیت کا بھی مقابلہ کیا ہے اور اس حکومت کا بھی کررہا ہوں۔ اس سے میرے خاندان کو کیا کیا نقصانات ہوئے اور ہو رہے ہیں ، اس کا حساب ایک دن یہاں نہیں تو اللہ کی عدالت میں ہوگا۔ میں آپ ہی کی وساطت سے سپریم کورٹ سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ نیب کے قوانین اور مقدمات کے متعلق جو کیس سن رہے ہیں اس میں مجھے بھی طلب کر لے اور صرف چند منٹ میرے دو کیسوں کا احوال بھی سن لے شاید انہیں درست فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔
