فواد چوہدری اور اعظم سواتی نا اہلی سے بچ گئے


چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر سنگین الزامات عائد کرنے والے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو بالآخر معافی مل گئی ہے اور ان کے سروں پر لٹکتی ہوئی نااہلی کی تلوار ہٹ گئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنگین الزامات عائد کرنے پر وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات اور وزیر ریلوے اعظم سواتی کی معافی کو قبول کرلیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے رکنِ سندھ نثار درانی اور رکنِ بلوچستان شاہ محمد نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر ریلوے اعظم سواتی کے خلاف نوٹسز کی سماعت کی اور دوانوں کی جانب سے دائر کردہ تحریری معافی نامہ قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ خیال رہے کہ 3 دسمبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں کمیشن نے فواد چوہدری کی معافی پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جبکہ اعظم سواتی کی جانب سے بھی معافی نامہ جمع کرایا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے حکم پر 22 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں وفاقی وزیر ریلوے الیکشن کمیشن میں خود پیش ہوئے اور ایک مرتبہ پھر اپنی جانب سے دیئے گئے نازیبا بیانات پر معافی کی درخواست کی۔ اس۔موقع پر الیکشن کمیشن کے رکن سندھ نے کہا کہ اعظم سواتی صاحب آپ اتنے مصروف آدمی ہیں کہ پیش ہی نہیں ہوتے، آپ پر ذمہ داری زیادہ ہے، آپ نے زیادہ بدزبانی کی تھی حالانکہ ملک کے تمام ادارے باعزت ہیں اور با اختیار بھی۔ کیا انہیں اس طرح برا بھلا کہنا درست ہے جیسے آپ نے کہا۔ اس پر اعظم سواتی نے اپنے سابقہ موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جذبات میں کچھ غلط باتیں کر دیں جن پر وہ بہت شرمندہ ہیں اور باقاعدہ تحریری معافی نامہ بھی جمع کروا چکے ہیں۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو خودمختار بنانے کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے۔
بعدازاں الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اعظم سواتی کی معافی قبول کرتے ہوئے دونوں وزرا کو آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی۔الیکشن کمیشن کے باہر گفتگو کرتے ہوئے اعظم سواتی نے کہا کہ معذرت قبول کرنے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا شکریہ ادا کیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر الیکشن کمیشن اچھے فیصلے کرنے والا ہے، ای وی ایم کے ذریعے ووٹ کے تقدس کی حفاظت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ہر لحاظ سے طاقتور کیا جائے گا اور حکومت کمیشن کو مستحکم کرنے کے لیے ساتھ کھڑی ہوگی۔
اس حوالے سے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اُس کی معذرت کرلی ہے، الیکشن کمیشن کا وقار برقرار رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے کیوں کہ ہمیں کمیشن کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔ واضح رہے کہ قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے دوران اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی میں ملوث رہا ہے اور ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔ انہوں نے کمیٹی میں مجوزہ ترامیم پر ووٹنگ کے عمل سے قبل الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کمیشن نے رشوت لے کر انتخابات میں دھاندلی کی۔
اعظم سواتی کے ان ریمارکس کے بعد الیکشن کمیشن کے اراکین اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے تھے۔ اسی دن شام میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے آلہ کار کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو الیکشن کمیشن چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اگر ٹیکنالوجی پر کوئی اعتراض ہے یا کسی چیز میں وہ بہتری لانا چاہتے ہیں تو وہ بتائیں، اگر چیف الیکشن کمشنر نے سیاست کرنی ہے جس کا انہیں آئینی حق حاصل ہے، تو ان کو دعوت دوں گا کہ الیکشن کمیشن کو چھوڑیں اور خود الیکشن میں امیدوار آ جائیں، پارلیمنٹ میں آ کر اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نواز شریف وغیرہ سے قریبی رابطے میں رہے ہیں اور ان کی ذاتی ہمدردی بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر الیکشن کمیشن سمیت ہر ادارے کو پارلیمنٹ کو مان کر چلنا ہو گا، کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پارلیمان کو نیچا دکھائے اور کہے کہ ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے بلکہ اپنا نظام دینا چاہتے ہیں۔
14 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن پر لگائے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا فواد اور سواتی کو شوکار نوٹس جاری کرنے اور الزامات کے ثبوت طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم 16 نومبر کو فواد چوہدری نےالیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی تھی جبکہ اعظم سواتی نے 3 دسمبر کو الیکشن کمیشن میں معافی نامہ جمع کروایا تھا۔ یوں دونوں وفاقی وزرا نا اہلی سے بچ گئے ہیں۔

Back to top button