فوجی اسٹیبلشمنٹ نےعمران خان کو آخری وارننگ کیا دی؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ شہباز گل کو گرفتار کرکے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر آپ نے مزاحمت کی اور مزید مسائل پیدا کرنے کی کوشش تو پھر آپ خود کو نااہل سمجھیں۔ اس کے بعد آپ کا مقدر جیل اور قید ہو گا۔ لہذا امید ہے کہ آپ دانائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری بات سمجھیں گے اور ایسی نوبت نہیں آنے دیں گے۔
ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ شہباز گل نے حال ہی میں اے آر وائی پر جان بوجھ کر مسلح افواج کے افسران کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی۔ موصوف نے کہا کہ وہ ”برائی“ کی حمایت کرتے ہوئے اپنی ہائی کمان کے ”غیر قانونی“ احکامات تسلیم نہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ شہباز گل نے ایسا کیوں کیا؟ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اسے مسلح افواج میں بغاوت برپا کرنے کی کوشش کے مترادف سمجھے گی، اور اسکی پاداش میں انکا کورٹ مارشل اور سخت سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اپنے تخیل کی بنیاد پر نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو اپنا تجزیہ اور تجویز بھیجی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ ہم آپ کو نکال کر پی ڈی ایم کو گلے نہیں لگانا چاہتے تھے۔ لیکن آپ نے ہمارے لیے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا۔ آپ معیشت کو دیوالیہ ہونے کے دہانے تک لے آئے، ہمارے غیر ملکی دوستوں اور خیرخواہوں کو ناراض اور ہم سے دور کردیا، خاص طور پر امریکا، یورپی یونین، چین اور سعودی عرب کو۔ آپ نے انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات ”معمول“ کے مطابق اور سرحدوں کو محفوظ بنانے میں مدد کرنے سے انکار کیا۔ صرف یہی نہیں، آپ نے ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت شروع کردی۔ جب ہم نے اس پر مزاحمت کی، آپ نے ہم پر ”برائی“ کا الزام لگایا اور ہماری صفوں میں بے چینی اورانتشار پھیلانے کی کوشش کی۔ اقتدار سے ہٹنے پر سبق سیکھنے کی بجائے آپ اپنے تباہ کن بیانیے پر اڑے رہے اور ریاستی ڈھانچے اور معیشت کو مجروع کرکے رکھ دیا۔ اس نے ہمیں قدم پیچھے ہٹا کر آگے بڑھنے کی پالیسی کا جائزہ لینے پر مجبور کردیا، خاص طور پر جس کا تعلق اس کردار سے ہے اور جس پر ہمیں سوچنا پڑا کہ آپ کو یہ کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے یا نہ دی جائے۔ اب ہم اندھا دھند آپ کا ساتھ دے کرعوام کی نظروں میں اپنی ساکھ مزید نہیں کھونا چاہتے۔ لیکن آپ کے ہاتھ سے عوامی مقبولیت چھیننے کا بھی ہمارا کوئی ارادہ نہیں۔
نجم سیٹھی کے بقول فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو مزید بتایا گیا ہے کہ ”قومی مفاد میں ہم سیاسی عدم استحکام برپا کر کے معیشت کو پٹڑی سے نہیں اتارنے دیں گے۔ پی ڈی ایم تعاون کر رہی ہے۔ اس نے اپنے پارٹی مفاد کے خلاف سخت معاشی فیصلے کیے ہیں جو ملک کے حق میں بہتر ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے خود کو ہماری نظروں میں سرخرو کرلیا ہے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ کم از کم اگلے سال تک آئی ایم ایف پروگرام کو عام انتخابات کے ذریعے پٹڑی سے اتارنے یا اس میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر آپ اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو قانون کے بھرپور غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے ہم نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق اپنی رپورٹ جاری کرنے کے لیے گرین لائٹ دی ہے۔ جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ نے مختلف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اور یہ جرائم اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں جو محض بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی پاداش میں نواز شریف کی نااہلی کا باعث بنا۔ تو اگر آپ نے نوشتہ دیوار نہ پڑھا اور اس کے مطابق اپنی ترجیحات طے نہ کیں تو آپ کو فی الفور سیاسی میدان سے نکال باہر کیا جائے گا۔
اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو مزید بتایا گیا ہے کہ ”ہم اگلے سال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات چاہیں گے۔ ہم اپنے تباہ کن ہائبرڈ تجربے کا کفارہ تمام کھلاڑیوں کے لیے برابری کا میدان بنا کر ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اسکا مطلب نواز شریف کو پاکستان واپس آنے اور اپنی پارٹی کی قیادت کرنے کی اجازت دینا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کو مقابلہ کرنے کی پوری آزادی دی جائے۔ بدقسمتی سے یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ کینگرو عدالت کی سزا کی وجہ سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نواز شریف نااہل ہیں اور اسی خطرے کی تلوار آپ کے سر پر بھی لٹک رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کو ہماری طویل مدتی ادارہ جاتی طاقت اور مفادات کو چیلنج کیے بغیر ان خطرات کو ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہیے۔ یا ہم اس مقصد کو حاصل کرنے کے دوسرے طریقے تلاش کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
نجم سیٹھی کے بقول فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ”اس ’منصفانہ بندوبست‘ کو تسلیم کرلینے کے اشارے کے طور پر اب آپ اپنا ”حکومت کی تبدیلی“ کا بیانیہ تبدیل کریں اور ہمارے بیرونی دوستوں اور اتحادیوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں اور اُن خدشات کا تدارک کریں جو آپ کی موقع پرستی یا حماقت یا دونوں کی وجہ سے لاحق ہوگئے تھے تاکہ ایک بار پھر تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کی راہ میں حائل سرخ لکیر مٹائی جاسکے۔
عمران خان کو بتایا گیا ہے کہ اگر آپ ان مشوروں پر عمل نہیں کرتے اور مزاحمت سے مزید مسائل پیدا کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے تو پھر آپ خود کو نااہل سمجھیں۔ اس کے بعد آپ کا مقدر جیل اور سزا ہوگا۔ لیکن امید ہے کہ آپ دانائی کا مظاہر کرتے ہوئے ہماری بات سمجھیں گے اور ایسی نوبت نہیں آنے دیں گے۔ شہباز گل پر ہمارا ردعمل تو صرف آپ کے لیے وارننگ ہے۔ ہم بہت آسانی سے اُسے انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ اور آپ کی جماعت اس سے کیا سبق سیکھتی ہے۔ ہم نے پنجاب آپ کے ہاتھوں میں ہی رہنے دیا ہے تاکہ آپ کو بہت کمی محسوس نہ ہو۔ لیکن اگر آپ نے اسلام آباد میں پی ڈی ایم کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی تو یہ سب کچھ پلک جھپکتے بدل بھی سکتا ہے۔
بقول نجم سیٹھی، فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو ایک آخری بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ نومبر آنے والا ہے۔ ہمارے ادارے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ اس لیے کسی غلط فہمی کا شکار ہوکر کوئی تنازع کھڑا کرنے اور ہمارے خلاف جانے کی جرات نہ کر بیٹھنا۔ ہمارے ترکش میں ابھی بہت سے تیر باقی ہیں۔ اور یہ بات ہم نے پی ڈی ایم کو بھی سمجھا دی ہے۔
”پاکستان زندہ باد!“
