جج نے بغاوت کو جیب تراشی جیسا معمولی جرم کیسے بنایا؟

فوجی جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پراکسانے والے شہباز گل کا صرف دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے کر عدالت نے اس سنگین جرم کو جیب تراشی جیسا معمولی جرم بنا دیا۔غداری کے سنگین مقدمہ میں ملوث شہباز گل کے خلاف تحقیقات کا عمل کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنا عدالت کی طرف سے اس بات کا اظہار ہے کہ شہباز گل نے فوج کو تقسیم کرنے کے لئے جو بیانیہ اختیار کیا تھا اس کی شدت جیب تراشی اور ہوائی فائرنگ جیسے معمولی جرم سے بھی کمتر ہے۔ جیب تراش سے تو چوری کی رقم برآمد کرنے کے لئے عدالت 14 روز تک کا ریمانڈ دے دیتی ہے لیکن اس سنگین نوعیت کے مقدمہ میں ملزم کو دو روزہ ریمانڈ کے بعد ہی اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا گیا حالانکہ ابھی تفتیش بھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی شکیل انجم روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں کہ شہباز گل کو اڈیالہ جیل راولپنڈی بھجوا کر وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا ہے اور پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں دے دیا گیا ہے تاکہ بغاوت کیس کے شواہد باسانی مٹائے جا سکیں۔ پولیس حکام کا خیال ہے کہ شہباز گل کے موبائل اور لیپ ٹاپ ان کے ڈرائیور کے پاس موجود ہیں جو کہ عمران کی بنی گالہ رہائش گاہ میں چھپا ہوا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اب شواہد حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ انہیں اب تک مٹایا جا چکا ہو گا۔
شکیل انجم کے مطابق بغاوت کیس میں ملوث ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے رابطے میں آجائے گا اور حقائق چھپانے کے لیے مزید پکا کر دیا جائے گا جیسا کہ شہباز گل کے معاملے میں بھی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کو شک ہے کہ شہباز گل دوران حراست کوئی ایسا انکشاف کر سکتا ہے جس سے ان کے لئے بھی مشکلات پیدا ہو جائیں گی لہذا اسے جیل سے نکال کر ہسپتال پہنچانے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ شکیل انجم بتاتے ہیں کہ سنگین الزام کا سامنا کرنے والے کسی بھی شخص کو جسمانی ریمانڈ پر بھیجنا جوڈیشل ریمانڈ مجسٹریٹ کا اختیار ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ عدالت نے کچھ بنیادی اصول رکھے ہیں جن پر مجسٹریٹ کو لازمی عمل کرنا چاہیے۔ ایسے ملزم کو پورے 15 دن کے لئے پولیس کی تحویل میں بھیجا جاتا ہے اور صرف اعتراف جرم کی صورت میں اسے عدالتی تحویل میں دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب شہباز گل نے نہ تو اعتراف جرم کیا اور نہ ہی اپنے چھپائے ہوئے موبائل ریکور کروائے لیکن اسے دو روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے عدالت سے شہباز گل کا 14 روزہ ریمانڈ مانگا تھا لیکن صرف دو روز کا ریمانڈ دیا گیا جو کہ عدالتی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے چونکہ ملزم بغاوت کیس میں گرفتار ہوا تھا۔ اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس کے بعد ہائی کورٹ نے سیشن جج کو شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست دوبارہ سننے کا حکم دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کیخلاف درخواست قابل سماعت ہے۔
شکیل انجم بتاتے ہیں کہ ملزم شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ بغاوت کیس کی تفتیش مکمل کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کیس میں جہاں دیگر ضابطہ فوجداری کی دفعات شامل ہیں وہاں دیگر شریک ملزمان کو بھی شامل کرنے کی دفعات شامل ہیں جن تک پہنچنے کیلئے پولیس تفتیش ابھی پہلی سیڑھی پر ہے۔ اگر تفتیش مکمل نہ ہو پائی اور شریک ملزمان کا سراغ نہ مل سکا تو اس کا فائدہ مرکزی ملزم شہباز گل کو بھی ہو گا۔
شکیل انجم بتاتے ہیں کہ بغاوت کیس میں ابھی ملزم کا لیپ ٹاپ اور اسکے موبائل فون برآمد کرنا ہیں اور شریک ملزمان کی گرفتاری مطلوب ہے۔ لیکن ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج کر تفتیش کو اندھا اور معذور بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وجوہات سب پر عیاں ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پرسیکیوشن کو ایف آئی آر میں ملزم شہباز گل کے خلاف عائد سنگین الزامات ثابت کرنے موقع نہیں دیا گیا۔
شکیل انجم کے بقول شہباز گل نے ٹی وی پروگرام میں کہا کہ ہماری فوج کے حوالدار، کیپٹن، میجر، کرنل اور بریگیڈئیر رینکس کے لوگ پی ٹی آئی کے بیانیے کے ساتھ ہیں چونکہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں جب کہ اس کے اوپر کے رینکس کے لوگ سرحد کے دوسری طرف کھڑے ہیں۔ اسی طرح شہباز گل نے فوج کے علاوہ سول اداروں کے افسران کو بھی بغاوت پر اکسایا اور انہیں حکومتی احکامات نہ ماننے کی تلقین کی۔ شہباز گل نے اپنی لائیو گفتگو میں کہا کہ افسران صرف اپنی نوکری بچانے کے لئے آلہ کار نہ بنیں کیوں کہ ہم ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں ایسے تمام لوگوں کا احتساب کیا جائے گا قانونی طور پر انکا احتساب کیا جائیگا۔ شہباز گل اپنی نفرت میں اتنا آگے نکل گیا کہ اس نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ اگر آپ نے بغاوت کرتے ہوئے جنگ نہ لڑی تو ہاکستان بھی انڈیا کی کالونی بن جائے گا۔ تاہم پولیس کا خیال ہے کہ شہباز گل کے موبائل میں موجود بغاوت کے شواہد اب تک مٹائے جا چکے ہوں گے کیونکہ اس کا ڈرائیور اپنے باس کی گرفتاری کے بعد سے موبائلوں سمیت بنی گالہ میں چھپا ہوا ہے۔
