فوج کی اپنی مرغی اور چوزے اس کے گلے کیوں پڑ گئے؟

پاکستان میں اپریل 2022 سے اختیار کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اُس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ طاقت کا مرکزاب فوجی سٹیبلشمنٹ ہے یا اسکا تخلیق کردہ عمران خان؟ طاقت عوام کی ہوتی تو بات الگ تھی لیکن یہاں طاقت کا مرکز ایک شخص کی ذات ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عمران خان یہ لڑائی عوام کو طاقت کا سر چشمہ بنانے کے لیے لڑ رہے ہیں یا اپنی سیاست اور مال بچانے کے لیے؟ اس بات کی سمجھ تو شاید کسی بچے کو بھی ہو کہ عمران خان کا جمہوریت اور عوام سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ سورج کا رات سے اور چاند کا دن سے۔ دراصل اسٹیبلشمنٹ نے عمران پر سیاسی سرمایہ کاری کرتے ہوئے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈال دیے۔ اب ان انڈوں سے نکلنے والے چوزے پروں سے باہر نکل کر ہر طرف پھیل چکے ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔ لہذا مرغی کو انڈوں پر بٹھانے والا مقدس ادارہ بھی ان کے شر سے بچتا نظر نہیں آتا۔
سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کارعاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مرغی اوراسکے چوزوں کے شر کا نشانہ بننے والا ادارہ وہ ہے جس نے کبھی اپنے آنچل کا پلو بھی کسی کو چھونے نہ دیا تھا۔ ایسے میں نہیں معلوم کہ بلی نے مرغی کو سیاست کے تمام گرسکھا دیے ہیں یا ابھی اس نے درخت پر چڑھنا سیکھنا ہے؟ لیکن ایک بات طے ہے کہ فوج کا ادارہ بہر حال اپنی طاقت نہ تو کسی ایک شخص کے حوالے کرے گا اور نہ ہی کسی کو اپنی سلطنت کو چیلنج کرنے کی طاقت اوراجازت دے گا۔
عاصمہ شیرازی بتاتی ہیں کہ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی ایک تاریخ رہی ہے۔ زیادہ دیر کی بات نہیں جب اسٹیبلشمنٹ نے اپنی تمام تر توانائیاں لگاتے ہوئے عمران کی زیر قیادت ایک صفحے کی ہائبرڈ حکومت ترتیب دی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ طاقت کے بطن سے نکلنے والی طاقت زیادہ طاقتور ہو گئی اور ہائبرڈ نظام سے جنم لینے والی فسطائیت اب خود طاقتوروں کے لیے ہی ایک آزمائش بن چکی ہے۔ عوامی لیڈروں کی جانب سے اکثر تقاریر میں کہا جاتا ہے کہ طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہیں، لیکن کسی چوراہے میں کی گئی ایسی کسی تقریر کو سُننے والا مجمع اس پر نعرے تو لگا سکتا ہے لیکن حقیقت میں عوام نہ تو طاقتور ہیں اور نہ ہی کبھی سمجھے گئے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو جیسے عوامی رہنما کی طاقت کا زعم جس طرح نکالا گیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ بھٹو اپنے نظریے اور اصول کی بنیاد پر تختہ دار پر چڑھ کر آج بھی امر ہیں۔ پھانسی کے پھندے کو چوم کر جھول جانے کی طاقت ذوالفقار علی بھٹو کو عوام کے ماتھے کا جھومر بنا گئی مگر طاقت کا سر چشمہ عوام پھر بھی نہ بن پائے۔ طاقت اور اختیار جس ہاتھ میں ہو وہ کب اپنی مٹھی کھول سکتا ہے اور کیسے اپنے اختیار کو ہاتھ سے جانے دے سکتا ہے؟
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ایسے میں آپ اور میں جمہور کی طاقت کے جتنے بھی گُن گا لیں، سچ تو یہ ہے کہ ہم اُس دوراہے پر ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ آمریت اور فسطائیت میں کس کے ساتھ کھڑا ہوا جائے؟ کوئی تو ہے جو نظام بستی چلا رہا ہے‘۔۔ اب دھیرے دھیرے بستی کے سب چہرے سامنے آتے چلے جائیں گے بس ذرا نومبر تک کا انتظار ہے جب نئے آرمی چیف کا تقرر ہونا ہے۔ لیکن نومبر سے پہلے ستمبر آنا ہے اور ستمبر میں نواز شریف کی واپسی کی اطلاعات ہیں۔ نواز شریف کی واپسی مریم نواز کے فیصلے سے مشروط ہے اگر مریم نواز کو عدالتوں سے انصاف مل گیا تو نواز شریف کی واپسی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ نواز شریف کی واپسی سے عمران خان کو دستیاب کھلا میدان میسر نہ ہو گا اور یہی وہ مطالبہ ہے جو ن لیگ مسلسل کرتی دکھائی دے رہی ہے، یعنی اگلے انتخابات سے پہلے نواز شریف کو لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنا۔
دوسری جانب عمران خان بیرونی ممنوعہ فنڈنگ، توشہ خانہ کیس اور شہباز گل کے فوج مخالف متنازعہ بیان کی روشنی میں بری طرح پھنستے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ خان صاحب دیوار پر لکھا پڑھنے کی صلاحیت خوب رکھتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ تحریر کچھ زیادہ خوشگوار نہیں۔ الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 3 ستمبر تک کرنا ہے۔ ستمبر کے بعد اکتوبر ہے اور پھر نومبر آ جانا ہے جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ ہے۔ لہٰذا دیکھیے بات کہاں تک جاتی ہے؟
