فوجی انخلاء کے وقت پاک امریکہ دوریوں میں اضافہ کیوں؟

افغانستان میں 20 برس تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد وہاں سے امریکی فوجوں کا انخلاء شروع ہو چکا ہے لیکن اس اہم ترین موقع پر پاکستان اور امریکہ میں فاصلے اور دوریاں بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان دوریوں کی وجہ شاید یہ ہو کہ اب امریکہ کو پاکستان کی اتنی ضرورت نہیں رہی جتنی کہ ماضی میں تھی۔ تاہم اسلام آباد میں موجود سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان فاصلوں کی وجہ امریکہ کی پاکستان سے ناراضی ہے کیونکہ افغانستان سے فوجی انخلاء کے وقت وقت پاکستان نے امریکہ کے بہت سارے مطالبات نہیں مانے۔ ان میں سے ایک بڑا مطالبہ صوبہ بلوچستان میں فوجی اڈے فراہم کیے جانے کا تھا جو پاکستان نے طالبان کی ممکنہ ناراضی کے پیش نظر تسلیم نہیں کیا۔ تاہم اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دوریوں کی بنیاد دراصل صدرجوبائڈن نے خود ڈالی جنھوں نے آج سے چھ ماہ پہلے صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد سے ابتک پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے فون پر بھی رابطہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
اسی دوران امریکہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لنڈزی گراہم نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان سے انخلا کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن کی جانب سے پاکستان کو نظر انداز کرنے کے تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔ ری پبلکن سینیٹر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 11 ستمبر کو امریکی فوجی انخلا سے قبل افغانستان میں تشدد کے واقعات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان کسی سمجھوتے پر اتفاق رائے کے لیے دوحہ میں جاری بات چیت سست روی کا شکار ہے۔پاکستان اس بات پر زور دے رہا ہے کہ امریکہ فوجی انخلا سے قبل افغانستان میں تمام افغان فریقوں کے مابین سیاسی تصفیہ یقینی بنائے۔
امریکی سینیٹر لنڈزی گراہم نے اپنی ٹوئٹس میں امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان سے رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ کو ‘حیرت انگیز’ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ افغانستان سے انخلا کرتے ہوئے پاکستان کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے جو کہ عراق سے بھی بڑی غلطی ثابت ہو گی۔انہوں نے استفسار کیا کہ ‘ہم کس طرح پاکستان سے تعاون کیے بغیر افغانستان سے اپنا انخلا مؤثر ہونے کی توقع کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان نے بھی ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر بائیڈن کے ساتھ ان کا تاحال کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جب وقت ہو تو وہ مجھ سے بات کر سکتے ہیں، لیکن اس وقت واضح طور پر ان کی ترجیحات دوسری ہیں۔” خیال رہے کہ صدر جو بائیڈن نے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد سے تاحال پاکستانی وزیر اعظم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ شاید اسی لیے جب مئی کے آخری ہفتے میں پاکستان سے فوجی اڈوں کے حصول کی خاطر امریکی سی آئی اے کے سربراہ اسلام آباد پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا چنانچہ انہوں نے آرمی چیف کے ساتھ ملاقاتوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ تاہم پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنے سے اب تک انکاری ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ میں لکھے گئے اپنے حالیہ مضمون میں کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لیے امریکہ سے شراکت داری کے لیے تیار ہے لیکن مزید کسی تنازع سے دور رہے گا۔ دوسری جانب افغانستان سے انخلا کے موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن کا وزیرِ اعظم عمران خان سے براہ راست رابطہ نہ کرنا عالمی و مقامی ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ‘جیو نیوز’ کے ایک شو میں اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکی قیادت کے درمیان کوئی ناراضی نہیں ہے اور صدر بائیڈن خارجہ امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں لہذا وہ پاکستان کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔ قریشی نے کہا تھا کہ واشنگٹن کی اپنی ترجیحات ہو سکتی ہیں اور اسلام آباد بھی کسی عجلت میں نہیں ہے۔ البتہ امریکی قیادت کے سامنے اپنا مؤقف واضح اور غیر مبہم انداز میں پہنچا رہے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ امریکی صدر کی براہ راست بات چیت نہ ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹ کی دفاعی اُمور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین کہتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ چین اور روس کے خلاف سرد جنگ کی تیاری میں اس قدر مصروف ہے کہ انہیں افغانستان کی تیزی سے بگڑتی صورتِ حال کا ادراک نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ چوں کہ پاکستان امریکہ کی نئی سرد جنگ میں شامل نہیں ہو سکتا اس لیے واشنگٹن کی توجہ اسلام آباد کی بجائے بھارت سمیت ان ممالک پر ہے جو بیجنگ اور ماسکو کے خلاف اس کے حلیف بن سکیں۔خارجہ اُمور پر نظر رکھنے والے مشاہد حسین کہتے ہیں کہ یہ بدقسمتی ہے کہ واشنگٹن کی توجہ افغانستان کی طرف نہیں جہاں حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔ مشاہد حسین کے مطابق پاکستان کا خدشہ صحیح ثابت ہو رہا ہے کہ امریکہ ماضی کی طرح افغانستان کو عدم استحکام کی صورت میں چھوڑ کر جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ 29 فروری کے امن معاہدے کے نتیجے میں انخلا کر رہا ہے لیکن بین الافغان مذاکرات کے ذریعے امن و استحکام کی صورت نظر نہیں آ رہی۔
مشاہد حسین کہتے ہیں کہ واشنگٹن کی ناکامی اور غلطیوں کا ملبہ افغانستان کے اندر اور ارد گرد کے ممالک پر پڑے گا جس سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔ انہوں نے کہا دیرپا قیامِ امن کے لیے یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکہ کس قسم کا نظامِ حکومت افغانستان میں چھوڑ کر جاتا ہے کیوں کہ اگر کوئی متفقہ حکومت نہیں آتی تو حالات خانہ جنگی کی طرف جائیں گے۔
