جنگ کے دوران اسرائیل نے یو اے ای کو جدید لیزر ڈیفنس سسٹم فراہم کیا : برطانوی اخبار

 

 

 

امریکا-ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے ایرانی حملوں سے دفاع کےلیے متحدہ عرب امارات کو جدید لیزر ڈیفنس سسٹم فراہم کیا۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کےمطابق اسرائیل نے ’سپیکٹرو‘ نامی سرویلنس سسٹم متحدہ عرب امارات کو فراہم کیاجو تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے سے آنے والے ڈرونز، خصوصاً شاہد ڈرونز کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔

برطانوی اخبار کےمطابق اس کے علاوہ اسرائیل نے اپنے ’آئرن بیم‘ لیزر دفاعی نظام کا ایک ورژن بھی فراہم کیاجو قلیل فاصلے تک مار کرنےوالے راکٹس اور ڈرونز کو تباہ کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ سسٹم اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں لبنان سے حزب اللہ کے حملوں کے خلاف استعمال کیا تھا۔

ان دفاعی نظاموں کےساتھ اسرائیل نے اپنا ’آئرن ڈوم‘ فضائی دفاعی نظام بھی متحدہ عرب امارات بھیجا جب کہ ان سسٹمز کو چلانے کےلیے اسرائیلی فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔

امریکا کا حملہ دفاع نہیں، کھلی جارحیت ہے : ایرانی وزارت خارجہ

برطانوی اخبار نے ذرائع کا حوالے دیتےہوئے کہا ہے کہ مزید ہتھیار اور اضافی اسرائیلی اہلکار بھی یو اے ای میں تعینات کیے گئے۔جب کہ اسرائیل نے یو اے ای کو مغربی ایران کے میزائل حملوں  سے متعلق اہم خفیہ معلومات بھی فراہم کیں۔

 

Back to top button