فوجی قیادت میں عمران خان کا مزید ساتھ دینے پر اختلاف

پی ڈی ایم اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی تجویز پر اتفاق کے بعد اپوزیشن اتحاد ٹوٹنے کا امکان ختم ہو گیا ہے اور اس حوالے سے حکومتی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔
یکم جنوری کو لاہور میں ہونے والے اپوزیشن اتحاد کے اجلاس سے قبل حکومت کی جانب سے بار بار یہ تائثر دیا جا رہا تھا کہ ضمنی الیکشن اور سینٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے پر ڈی ایم ٹوٹنے جا رہا یے اور مولانا فضل الرحمن کی طرف سے سخت موقف اپنائے کے بعد پی ڈی ایم کا وجود خطرے میں ہے۔ تاہم لاہور میں پی ڈی ایم سربراہی اجلاس کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمن کی میڈیا بریفنگ نے تب تمام تر حکومتی امیدوں پر پانی پھیر دیا جب انہوں نے اعلان کیا کہ ہم نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کا 11 جماعتی اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور اس ناجائز حکومت سے خلاصی حاصل کرنے کے پر عزم ہے۔ مولانا نے کہا کہ آئے روز ایک خاص مہم جوئی کے تحت میڈیا پر پی ڈی ایم میں اختلافات کی خبریں دی جاتی ہیں، لیکن آج وہ سب دم توڑ چکی ہیں اور پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آ رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم نے پچھلے اجلاس میں کہا تھا کہ 31 دسمبر تک تمام اراکین اسمبلی اپنے استعفے پارٹی قیادت تک پہنچائیں گے اور سب جماعتوں نے اجلاس میں رپورٹ دی کی سب ممبران کے استعفے قیادت تک پہنچ گئے ہیں اور ایک ہدف مکمل ہو گیا یے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے کہا تھا کہ 31 جنوری تک حکومت کو مستعفی ہونے کی مہلت ہے اور آج پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں کہ حکومت کے پاس ایک مہینے کی مدت ہے، اس کے بعد پی ڈی ایم کی قیادت لانگ مارچ اور اس کی تاریخ کا اعلان کرے گی اور یہ فیصلہ بھی کرے گی کہ لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف کیا جائے یا پھر راولپنڈی کی طرف کیا جائے کیونکہ ایک دھاندلی زدہ کٹھ پتلی حکومت عوام۔پر ٹھونسنے والے وہیں بیٹھے ہیں’۔
مولانا نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو چارج شیٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کو ایک ڈیپ اسٹیٹ بنا کر یہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہے اور عمران خان اسکا ایک مہرہ ہے جسکو اقتدار دلوانے کے لیے 2018 میں دھاندلی کی گئی اور ایک جعلی حکومت قائم کی گئی’۔
مولانا نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بڑے واضح الفاظ میں یہ بھی کہہ دیا کہ ‘ہم آج واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم پاکستانی فوجی قیادت کو اس دھاندلی کا بڑا مجرم سمجھتے ہیں اور ہماری تنقید کا رخ اب ان کی طرف برملا ہوگا اور اب ان کو سوچنا ہو گا کہ وہ پاکستانی سیاست پر اپنے پنجے گاڑھنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا اس سے دستبردار ہو کر اپنی اصل ذمہ داری کی طرف جاتے ہیں’۔ مولانا نے اپنی گرما گرم پریس بریفنگ میں یہ بھی کہا کہ آج اگر پاکستان میں آئینی، قانونی، سیاسی اور معاشی بحران ہے تو وہ اس تجاوز کی وجہ سے ہے جو فوجی قیادت اپنی حدود سے باہر نکل کر کرتی یے اور بھگتنا قوم کو پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس حوالے سے تمام جماعتیں متفق ہیں کہ ہم نے اپنی تحریک کا فوکس صرف فوج کے مہرے کو نہیں رکھنا بلکہ اسکے پیچھے موجود پشتی بانوں کو بھی مسلسل بے نقاب کرنا یے تاکہ عوام کو پتہ ہو کہ ملک کی تمام خرابیوں کی جڑ کون ہے اور کیوں ہے’۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی جانب سے فوجی قیادت بارے اتنی کھلی اور سخت گفتگو کافی معنی خیز ہے خصوصا جب ان کی دو روز پہلے اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر نیشنل ڈائیلاگ شروع کرنے کی کوششوں میں مصروف محمد علی درانی سے بھی ملاقات ہوچکی تھی۔ لیکن مولانا کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد علی درانی کے ساتھ ملاقات میں بھی مولانا نے ان پر واضح کیا کہ پاکستان میں اس وقت جتنے بھی بڑے مسائل موجود ہیں ان سب کی ذمہ داری موجودہ فوجی قیادت پر عائد ہوتی ہے جو عسکری اہداف پر توجہ دینے کی بجائے اپنے سیاسی اہداف لے کر چل رہی ہے جسکا بنیادی مقصد اپنی صورت راکٹ مضبوط کرنا یے لیکن اس سے فوج کا ادارہ کمزور ہو رہا ہے۔
تاہم اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ یکم جنوری کو لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ انہیں یہ فوجی حکقوں سے یہ پیغام ملا ہے کہ وہ اب سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ مولانا نے یہ تو نہیں بتایا کہ پیغام دینے والا کون تھا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ شاید یہ پیغام محمد علی درانی لائے ہوں۔ مولانا نے بتایا کہ پیغام رسان نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ان کی اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا لوگوں سے ایک ملاقات بھی ہونی چاہیے لیکن مولانا نے واضح کیا کہ اب ایسی ملاقاتوں کا وقت گزر چکا ہے۔
اس موقع پر مریم نواز نے بھی بتایا کہ انکی جماعت کے ساتھ بھی مذاکرات کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بلاول بھٹو بھی پچھلے دنوں ایک جلسے میں تقریر کے دوران اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اب ہمیں فون کرنے بند کر دو۔ یعنی ثابت یہ ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت اپوزیشن اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کی مرکزی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کا مطلب یہ ہے کے پی ڈی ایم کی حکومت .خالف تحریک کا بیانیہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے پریشان کن ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت مخالف تحریک میں اپنائے جانے والے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے نے فوجی قیادت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ یاد رہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت خصوصا مولانا فضل الرحمن کا یہ موقف ہے کہ اسوقت سارا کھیل موجودہ اسٹیبلشمنٹ یعنی فوجی قیادت کھیل رہی ہے اور عمران خان صرف ایک مہرہ ہے لہذا تمام مسائل کا حل فوج کو سیاست سے نکال باہر کرنے میں ہے اور اسی لیے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن باربار فوجی قیادت کا نام لے کر ان پر تنقید کرتے ہیں۔
دوسری طرف اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ فوج کے سربراہ اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ اب وزیر اعظم عمران خان کی مذید پشت پناہی کے معاملے پر مختلف آراء رکھتے ہیں اور ایک پیج پر نہیں رہے۔ کہا جا رہا ہے کہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ اس وقت آنکھیں بند کر کے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہیں کیونکہ ان کو مستقبل میں ایک بہت بڑا عہدہ حاصل کرنے کی امید ہے جو کہ انہیں صرف وزیراعظم دلوا سکتے ہیں۔ دوسری طرف فوج کے سربراہ بارے کہا جا رہا ہے کہ انکو ایک معمولی کپتان پر بڑا جوا کھیلنے کی غلطی کا ادراک ہو چکا ہے اور وہ اسے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب وزیر اعظم کی جانب سے خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو ذیادہ اختیارات اور رول دے کر فوجی سربراہ کے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مختصر یہ کہ اب عمران خان کی حمایت برقرار رکھنے کے معاملے پر فوجی قیادت میں بھی اختلافات کی خبریں ہیں اور وزیراعظم کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کے دعوے پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے۔ یاد رہے کہ ماضی میں وزیراعظم عمران خان مسلسل اپنی تقاریر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ فوج کے ساتھ ایک صفحے پر ہیں اور فوج ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ یکم جنوری کو کامران شاہد کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران عمران خان سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ مسلسل فوج کا نام لے کر اپنا فائدہ کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے اپوزیشن کو فوج پر تنقید کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جواب میں عمران خان نے بری سادگی سے یہ پوچھ لیا کہ مجھے بتایا جائے کہ فوج نے آج تک کس معاملے میں میری پشت پناہی کی ہے۔ پھر وزیراعظم خود ہی بولے کہ فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ میں پتلا ہوں اور فوج کے کہنے پر چلتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج وہی کرے گی جسکا اسے حکم دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے مسلسل فوج اور عمران خان کے گٹھ جوڑ پر تنقید نے اب نہ صرف اسٹیبلشمنٹ بلکہ وزیر اعظم کو بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
