فوج جہاں جانا چاہ رہی ہے، تعاون کیلئے تیار ہیں

جمعیت علما اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہکچھ چیزوں کو ٹھیک کرنا اور پٹڑی پر لانا ہے،اس کے مواقع ہمیں طے کرنے ہوں گے،جہاں پر فوج جانا چاہ رہی ہے ہم اس میں تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

کراچی میں اردو نیوز سے خصوصی گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہاایک آدمی اپنے مقام پر جانا چاہ رہا ہے جو اس کا آئینی مقام ہے، تو ہم کیوں اس میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ وہ اپنے مقام پر جا رہا ہے تو وہ میر جعفر ہو گیا۔ جب تک وہ پشت پر تھا قوم اس پر شکایت کر رہی تھی، اعتراضات اور تحفظات تھے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم بھی الیکشن میں اصلاحات چاہتے ہیں لیکن ہم نے چار سال تک دوبارہ انتخابات کے لیے تحریک چلائی ہے، قوم نقالوں سے ہوشیار رہے۔ کشمیر اور پاکستان کی تقسیم کی بات کرنے کی کوشش کرنے والوں کو قوم تسلیم نہیں کرے گی، ہمیں تضادات کا شکار نہیں ہونا ہے۔ ہمیں بلکل ایک ہی رائے پر جانا چاہیے اور اگر وہ اپنے مقام پر واپس جانا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اس میں رکاوٹ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ عمران خان نے کشمیر تقسیم کرنے کی بات کی ہے۔ عمران خان نے پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات کی ہے۔

کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ فریق نہ بنیں، آپ ریاست کا دارہ ہیں، حکمران بھی آپ کو ہماری فوج کہتے ہیں اور اپوزیشن بھی، ہم نے حدود سے تجاوز نہیں کیا لیکن اپنی بات کرتے رہے اور ایک ایسا وقت آیا جب حقائق کا اداراک ہوا۔

مولانا فضل الرحمن نےعمران خان کا نام لیے بغیر ان کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ نیوٹرل ہو گئی تو اس کو جانور سے تعبیر کیا گیا، آج میر جعفر کے لفظ سے پکارا جاتا ہے جو کسی فرد واحد نہیں تاریخ کی دغا اور بغاوت کا کردار ہے۔

امیر جے یو آئی ف نے بتایا کہ ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آزادی کی بات تو آپ کرتے تھے آج عمران خان بھی کر رہے ہیں، انہوں نے پہلے الیکشن تبدیلی کے نام پر لڑا اور اب ہماری نقالی کی جا رہی ہے،نقالوں سے ہوشیار رہنا اور ان کو پہچاننا بھی چاہیے، آج جب ہمیں کامیابی ملی اور پارلیمان کے راستے حکومت کو گرایا کہ ہمیں کھلبی نظر آئی، عوام میں نہیں بلکہ اشرافیہ کے اندر۔

مولانا فضل الرحمٰن نے آئی ایم ایف سے متعلق بات کرتے ہوئےکہا کہ وہ آسمان سے نہیں اترا، اس کو ہماری بھی سننا پڑے گی، ہماری نظر میں جو حکومت جعلی اور عوام کی نمائندہ نہیں اس کے معاہدے ریاست کے ساتھ معاہدے نہیں، ریاست کو ان کا پابند ہونے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے حوالے سے کہا کہ آج کا بیانیہ جعلی خط ہے، س پر قومی سلامتی کمیٹی امریکہ کا موقف سامنے آ چکا ہے اور اس کے لیے جھوٹ، لغو اور پروپیگنڈہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کونظریاتی لحاظ سے کنگال آدمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آج وہ امریکہ مخالف چورن بیچنے پر آ گئے ہیں۔

Back to top button