فوج سیاست میں مداخلت بند کرے، کٹھ پتلیوں کا کھیل مزید نہیں چلے گا

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ کٹھ پتلیوں کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا، ریاستی اداروں کو خلاف قانون سیاست میں مداخلت بند کرنا ہو گی. عاصم باجوہ کو جواب دینا ہو گا. حکومت سازی کا حق صرف عوام کا ہے. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے بعد سلیکٹڈ عمران خان اور اس کے سلیکٹرز کو اِس تاریخی ناکامی پر استعفیٰ دینا چاہیے.
کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ 12 روز سڑکوں پر احتجاج کررہے تھے لیکن کسی نے اس پر آواز نہیں اٹھائی حالانکہ سوئی سے نکلنے والی گیس سے پورے پاکستان کو ملتی ہے لیکن چند کروڑوں کی اسکالر شپ کے لیے بلوچستان کے طلبہ کو نہیں دی گئی۔مریم نواز نے کہا کہ بلوچستان میں جوانوں کو اٹھالیا جاتا ہے، جب میں اسٹیج پر آرہی تھی ایک بچی آئی جس کا نام آسیہ قمبرانمی ہے اور انہوں نے کہا کہ ان کے تین بھائیوں کو لاپتہ کردیا گیا ہے اور وہ والدین کے کفیل تھے۔انہوں نے یہ انتہائی شرم ناک ہے واقعہ ہے، میں اپنے والدہ کی وفات اور والد کو جیل بھیجنے پر نہیں روئی تھی لیکن آج اس واقعے پر میں روئی ہوں۔
مریم نواز نے کہا کہ آج جب میں یہاں خطاب کررہی ہوں تو قائد اعظم کے اسٹاف کالج میں خطاب یاد آتا ہے کہ پالیسیا بنانا تمھارا کام نہیں، یہ کام عوامی نمائندوں کام ہے اور ان کو کرنے دو، کیا 72 برسوں میں قائد اعظم کی اس بات پر عمل ہوا، کیا سیاست پر مداخلت بند ہوئی، کیا عوامی نمائندوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ‘قائد اعظم کی تقریر کومٹی میں ملادیا گیا، ہمارا مطالبہ ہے ووٹ کو عزت دو، اپنے حلف اور آئین کی پاسداری کرو، سیاست سے دور ہوجائے، ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ، عوام کے مینڈیٹ کو مت چھینو’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘بلوچستان کی آج کی حالت اس لیے ہوئی ہے کیونکہ ووٹ کو عزت نہیں دی گئی، یہاں پر حاکم کسی اور کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، وہ عوام کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا، اگر ہم نے اس کو نہیں روکا تو خدا نخواستہ ہماری آزادی کا وجود خطرے میں پڑجائے گا’۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 17 ججوں میں ایک جج قاضی فائز عیسیٰ ہے اور سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ان کے خلاف بددیانتی پر مبنی ریفرنس بنایا گیا۔مریم نواز نے کہا کہ الف لیلیٰ کا ایک کردار عاصم سلیم باجوہ بھی یاد آرہا ہے جو یہاں حاکم رہا، ہم ان سے پوچھتے ہیں نوکری پیشہ ہونے کے باوجود اربوں کے اثاثے کہاں سے آئے، ہم پوچھتے ہیں کہ یہ پیزا کیا ہے تو وہ چپ، ہم پوچھتے ہیں کہ یہ نناویں کمپنیاں کہاں سے آئیں تو وہ چپ، ہم پوچھتے ہیں کہ آپ نے ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں جو جعل سازی کرائی تو وہ چپ۔ لیکن سلیکٹڈ عمران خان بھی نہیں پوچھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے خلاف کوئی نیب، ایف آئی اے اور ادارے خاموش ہیں لیکن ایسے نہیں چلے گا۔ انھیں اپنی تمام کرپشن کا جواب دینا ہو گا. انھیں معاون خصوصی کے بعد چئیرمین سی پیک کے عہدے سے بھی جواب دینا ہو گا. عاصم سلیم اب ایسا نہیں چلے گا۔ رسیدیں تو دکھانی ہوں گی۔ چیئرمین سی پیک کے عہدے سے بھی استعفی دو کیونکہ اربوں کھربوں کے منصوبے کا کام آپ جیسے داغدار شخص کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اب یہاں غداری کے سرٹیفیکٹ نہیں بٹیں گے۔ مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا وقت آگیا ہے، اب یہاں غداری کے سرٹیفیکیٹ نہیں بٹیں گے، ماؤں کے سپوت، بہنوں کے بھائی لاپتہ نہیں ہوگا، کٹھ پتلیوں کا کھیل اب ختم ہونے والا ہے۔اب یہاں سے گمشدگیاں نہیں ہوں گی۔ ہیلی کاپٹر سے آپریشن نہیں ہوں گے۔ کسی کو ووٹ کی عزت سے کھیلنے کا حوصلہ نہیں ہو گا۔
مریم نواز نے بلوچستان کی حکمران پارٹی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے نمائندے چننے کا کوئی حق نہیں ہے، ان کی حکومت اور وزیراعلیٰ کا انتخاب عوام نہیں کوئی اور کرے گا، راتوں رات باپ یا ماں کے نام سے پارٹی بنتی ہے اور ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور اگلے دن وہی بچہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر لیگی نائب صدر نے ڈاکٹر شازیہ کیس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آج مجھے بلوچستان کی بیٹی ڈاکٹر شازیہ کا واقعہ یاد آگیا، اس بیٹی کی بے حرمتی کی گئی، جب کراچی میں میرا دروازہ توڑا گیا تو کیا ہماری روایات یہ ہیں بہن اور بیٹیوں کے کمروں میں گھس کر حملہ کیا جائے؟ کیا یہ چیز قبول ہے؟ مریم نواز نے نواب اکبر بگٹی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آج بلوچستان میں کھڑے ہوکر اکبر بگٹی کا واقعہ یاد آرہا ہے جو میرے ذہن پر نقش ہے اور کس طرح ایک آمر نے مکا لہرا کر کہا تھا کہ ایسے ماریں گے پتا ہی نہیں چلے گا، پھر ایسا ہی ہوا ہے، اس نے جمہوریت پسند لیڈر کو قتل کیا بلکہ اس کے خاندان اور چاہنے والوں کو چہرہ بھی دیکھنے کی اجازت نہیں دی۔ان کا کہنا تھا کہ جب اُس پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائی تو وہ عدالت ہی لپیٹ دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کا مطالبہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو، اپنے حلف اور آئین کی پاسداری کرو، سیاست سے دور ہوجاؤ اور عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومت کرنے دو، ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ، جعلی حکومتیں مت بناؤ اور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکے مت ڈالو۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اس حال میں ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہےکہ آپ کے ووٹ کو عزت نہیں ملی، اگر ہم نے آج اس سلسلے کو بند نہ کیا تو آزادی اور وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا جس نے بدنیتی کی اور ججز پر دھبہ لگانے کی کوشش کی، ہم سب مل کر سلیکٹڈ عمران خان اور اس کے سلیکٹرز کو کہتے ہیں، آپ کو اِس تاریخی ناکامی پر استعفیٰ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے درخواست کرتی ہوں کہ اسی طرح جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف دیا جائے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اب عوام کی حاکمیت کا سورج طلوع ہونے کو ہے، ووٹ کو پاؤں تلے روندنے کا سلسلہ بند اور کٹھ پتلیوں کا کھیل اب ختم ہونے کو ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button