چند جرنیل فوج کی طاقت اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ چند جرنیل فوج کی طاقت اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں. عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں، فوج ان سے نہیں لڑ سکتی. کراچی واقعے نے ریاست کے اوپر ریاست کی بات کو سچ ثابت کردیا، نااہل آدمی کو حکومت میں بٹھانے کا فیصلہ فوج کا نہیں بلکہ چند کرداروں کا تھا۔
کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں اپوزیشن مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے تیسرے جلسے سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ آج کے جلسے سے واضح ہوگیا کہ اب کوئی ووٹ کی عزت کوئی پامال نہیں کرسکے گا اور ووٹ کی عزت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ میر حاصل بزنجو کی یاد آرہی ہے جو اپنے والد کی طرح بہادر تھے اور ہر فورم پر خطروں سے بے نیاز ہو کر سچی بات کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ محسن داوڑ اور ندیم اصغر کو کوئٹہ ایئرپورٹ سے سیکیورٹی کے نام پر گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے ہم سب اس عمل کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، سیکیورٹی کے نام پر اس طرح کے اقدامات پہلے بھی ہماری ریاست کو بدنام کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پر جو گزرتی رہی ہے وہ نہایت افسوس ناک کہانی ہے، بلوچستان میں مری، مینگل، بگٹی، بزنجو اور دیگر قبائل کے ساتھ جو سلوک ہوا اور اب تک ہورہا ہے وہ ہم سب کے لیے انتہائی دکھ اور رنج کا باعث ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ غداری کا لیبل ہر اس شخص کے ماتھے پر چسپاں کیا گیا جس نے سر اٹھا کر بات کرنے کی کوشش کی، جس نے ظلم وستم کے خلاف احتجاج کیا اور جس نے آزاد قوم کا آزادی شہری ہونے کا حوصلہ کیا، وہ صرف اس لیے باغی اور غدار قرار پائے کہ انہوں نے اپنے آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھائے، کئی قتل ہوئے اور کئی ہمیشہ کے لیے لاپتہ کردیے گئے، ان کے قبروں تک کا نام و نشان تک نہیں ہے، گم شدہ افراد کا مسئلہ بھی موجود ہے، ہمارے ہم وطن آج بھی اٹھائے جارہے ہیں کچھ پتہ نہیں کہ انہیں آسمان کھا گئی کہ زمین نگل گئی۔ان کا کہنا تھا کہ میں جب بھی لاپتہ افراد کی مائیں اور بہنوں کو دیکھتا ہوں تو افسردہ ہوتا ہوں، ہم کب تک اپنے لوگوں کے خلاف استعمال ہوتے رہیں گے۔نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ کن مسائل کا شکار ہیں اور انہیں روزمرہ زندگی میں کس طرح کی مشکلات پیش آرہی ہیں اس کا بخوبی علم ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں ادویات اور دیگر اشیا مہنگی ہوچکی ہیں، صنعتیں اور معیشت تباہ ہوچکی ہے، کیوں چینی اور گندم مہنگی ہوئی اور مہنگائی بے قابو ہوگئی اور کھاتے پیتے لوگ غربت کا شکار ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا روپیہ آج نیپالی اور افغانستان کی کرنسی سے بھی نیچے گر گیا ہے، کیونکہ شاہراہیں اور موٹرویز بند ہوئیں، پاکستان کیوں دنیا میں تنہا ہوگیا اور کیوں بھارت کو کشمیر ہڑپ کرنے کی ہمت ہوئی۔
نواز شریف نے کہا کہ اس کا سیدھا جواب ہے کہ چند لوگوں کو اپنے اختیارات عوام کی خوش حالی سے زیادہ عزیز ہے، نواز شریف ان لوگوں کو اچھا نہیں لگتا کیونکہ وہ ووٹ سے منتخب ہے اور ڈکٹیشن نہیں لیتا اس لیے فیصلہ ہوا نواز شریف کو نکالو۔ان کا کہنا تھا کہ خزانے کے اربوں ڈبونے کے باوجود ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ ہوئی تو بیٹے سے تنخواہ نہ ملنے پر نااہل کردو اور مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نکال دو۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف، ان کے بھائی شہباز شریف، بیٹی مریم نواز، حمزہ شہباز، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال کر نشان عبرت بنانے کا حکم دیا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو جیتوایا گیا اور تاریخ کی بدترین دھاندلی کرکے انہوں نے تاریخ کے نالائق ترین آدمی کو وزیراعظم کے منصب پر بٹھایا تاکہ وہ ان پر سوال نہ اٹھائے اور ان کے اشاروں پر کرتب دکھاتا رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عظیم الشان جلسے سے گھبرا کر ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر داخل ہوئے، کیا یہ اس پستی میں گر گئے ہیں کہ وہ نہ اقدار کا بھی خیال نہ رکھیں، یہ ایک سنگین جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے ان لوگوں پر جو ماؤں بہنوں اور اقدار کی بات کرتے ہیں اور اس حکومت کا حصہ ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ کراچی کے واقعے نے میری بات کو سچ ثابت کردیا ہے کہ یہاں ریاست کے اوپر ریاست ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک حکومت ہے اور وزیراعلیٰ موجود ہیں لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ کس نے آئی جی اور ایڈیشنل آئی کو اغوا کیا اور سیکٹر کمانڈر کون ہے کہ وہ کس کے حکم پر ایف آئی آر کاٹتا ہے اور کس کے حکم پر چادر اور چاردیواری کا خیال نہیں رکھتا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اس غیر آئینی کاموں کے خلاف اٹھی ہے، یہ تحریک کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ پاک فوج کی طاقت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کے نیچے سے اوپر تک افسران کو ان لوگوں کے عزائم کو پتہ نہیں ہوتا اور ان سے انجانے میں ایسے کام لیے جاتے ہیں کہ قوم کو مشکلات کا سامنا کرتا پڑتا۔ان کا کہنا تھا کہ کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے آئین اور قانون توڑتے ہیں اور خود کو بچانے کے لیے فوج کو بدنام کرتے ہیں اس لیے میں نام لے کر بات کرتا ہوں تاکہ فوج اور پورے ادارے پر دھبہ نہ لگے۔
نواز شریف نے کہا کہ کارگل میں کارروائی کرکے دنیا میں پاکستان کو رسوا کرنے کے عزائم چند لوگوں کے تھے اور پوری فوج کا نہیں تھا، 12 اکتوبر کو ان لوگوں نے اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے آئین توڑا جس میں پرویز مشرف اور اس کے چند ساتھی تھے۔انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں کو بری الذمہ قرار نہیں دوں گا جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے جنگلے توڑے اور وزیراعظم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہی لوگوں نے اکبر بگٹی کو شہید کیا، انہی لوگوں کے حوالے سے بینظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے قبل بتایا، انہی لوگوں نے 12 مئی کو کراچی میں خون بہایا اور اسلام آباد میں لال مسجد پر خون بہایا۔ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے ذاتی اکاؤنٹس میں اربوں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے ثبوت موجود ہیں لیکن نیب اور عمران خان کے پاس احتساب کی ہمت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نااہل آدمی کو حکومت میں بٹھانے کا فیصلہ فوج کا نہیں تھا بلکہ چند کرداروں کا تھا اس لیے میں ان کا نام لیتا ہوں تاکہ ہماری فوج پر الزام نہ آئے۔
نواز شریف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لے کر کہا کہ 2018 کا مینڈیٹ چوری ہونے اور عمران خان کو وزیراعظم بنانے، قوم کو مہنگائی کی طرف دھکیلنے کا حساب دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حاضر سروس جج سے وقت سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج بنانے کی پیش کش کیوں کی گئی اور کیوں اپنے حلف کی خلاف ورزی کی، آپ نے سیاست میں دخل نہ دینے کا حلف لیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کیا فیض آباد ھرنا کیس آپ کے خلاف چارج شیٹ نہیں اور سپریم کورٹ نے کارروائی کا حکم نہیں دیا جبکہ اس کے مقابلے میں ترقی ہوئی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس بنایا گیا۔نواز شریف نے کہا کہ اگر یہی وقت پیشہ ورانہ امور پر صرف کیا جاتا تو آج کشمیر کے لوگ ان مسائل کا شکار نہیں ہوتے جو آج ان کو سامنا ہے۔انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ہمارا تم سے مقابلہ نہیں ہے، ثاقب نثار کا این آر او تمہیں نہیں بچائے گا، فارن فنڈنگ کیس، زمان پارک میں تعمیرات کی اور بنی گالہ سے متعلق حساب دینا پڑے گا اور آپ بچ نہیں پائیں گے اور جیل جائیں گے۔
نواز شریف نے کہا کہ میرا فوجی جوانوں کو پیغام ہے کہ یہ آپ کا ملک ہے اور آپ نے اس کے لیے جان دینے سے دریغ نہیں کیا اسی طرح جہاں آئین شکنی شروع ہوتی ہے مسائل شروع ہوتے ہیں اور اپنے حلف کی پاسداری کیجیے اور خود کو متنازع ہونے بچائیے۔انہوں نے کہا کہ سول سرونٹس کو پیغام ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے، سندھ میں پولیس افسران نے احتجاج کرکے اچھا نام کمایا اور ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ سول سرونٹ کو کسی دباؤ میں آئے بغیر امور انجام دینے چاہیے۔عوام کے نام پیغام میں کہا کہ پاک فوج ہم سب کی فوج ہے اور اس کی عزت کیجیے لیکن جہاں آئین شکنی ہورہی ہو وہاں اس کی حفاظت کیجیے، ووٹ آپ کا حق چھینے تو آپ کا مستقبل چھیننے کا مرتکب ہوتا ہے، وہ آمر اور غاصب ہے اس لیے کسی کو آئین اور قانون سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہ دیں۔نواز شریف نے کہا کہ عمران خان کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کو انجام تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے اور جن لوگوں نے آئین اور قانون سے کھلواڑ کرے عوام کو اس حال تک پہنچادیا ہے، عوام کو اس جدوجہد میں پی ڈی ایم کا ساتھ دینا ہوگا۔
قبل ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم ان قوتوں کو پیغام دینا چاہتے کہ بلوچستان پہلے کی طرح اب بھی جاگ رہا ہے اور جب بلوچستان جاگتا ہے تو ان کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ جممہوریت کا علم بلند رکھا ہے لیکن یہ اور بات ہے جمہوری ادوار میں ہمیں وہ حصہ نہیں ملا مگر جب گلستان کو لہو کی ضرورت پڑتی تو گردن ہماری کٹی۔ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کو انگریزوں نے منی لندن کہا تھا اور یہاں ہر رنگ و نسل کے لوگ آباد ہیں، ایک زمانے میں یہاں پھولوں، پھلوں اور صنوبر کی خوشبو آتی تھی، کوئٹہ کی شاہراہوں پر ان پھولوں کی خوشبو ہوتی تھی، بچوں اور بزرگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں اور گلیاں پیار محبت کے گیتوں سے گونجتے تھے لیکن اب یہاں بارود اور خون کی بو آتی ہے، یہ خون ہمارے بچوں کا خون ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں بہنے والا خون کسی اور کا نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں اور آنے والی نسلوں کا خون ہے، آج یہاں لاشوں پر چیخ و پکار کرتی ہوئی مائیں نظر آئیں گے، یہاں وہ مائیں اور والد نظر آئیں گے جو 10 برسوں سے اپنے لخت جگرکو ڈھونڈ رہے ہیں اور آہیں بھرتے ہوئے نظر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہاں وہ بہنیں بھی نظر آئیں گے جن کے سروں پر ان کے بھائی نے چادر رکھا تھا لیکن حکمرانوں نے اس کے سر سے وہ دوپٹہ تک چھین لیا، یہاں خانہ بدوشوں کے ڈھیروں کے علاوہ موت کے ڈھیرے نظر آئیں گے۔
واضح رہے کہ کوئٹہ میں حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) تیسرا پاور شو جاری ہے اور اس سلسلے میں مرکزی قائدین مولانا فضل الرحمٰن اور مریم نواز جلسہ گاہ میں موجود ہیں اور دیگر قائدین بھی خطاب کر رہے ہیں۔
کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں ہونے والے پی ڈی ایم کے آج کے اس تیسرے جلسے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز و دیگر قائدین موجود ہیں جہاں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خطاب بھی متوقع ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا۔
خیال رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت مخالف تحریک کے سلسلے میں جلسوں کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے ہوا تھا، جس کے بعد 18 اکتوبر کو کراچی میں پی ڈی ایم نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔
