فوج نے مجھے ملکی مفاد کی بات کرنے پر غدار بنا دیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ فوج نے مجھے ملکی مفاد کی بات کرنے پر غدار بنا دیا لیکن جنرل باجوہ محب وطن ہیں
لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی یوتھ ونگ کے کنونشن سے ورچوئل خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کا ہر کارکن تحسین کے قابل ہے کیونکہ آپ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو مشکل ترین وقت سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پاکستان ضرور منزل حاصل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘نوجوان پاکستان میں نئی سیاست کےمعمار بنیں گے اور اس وقت ہم تاریخ ساز جدوجہد سے گزر رہے ہیں، پاکستان ایک ٹھوس نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا، 73 سال گزرنے کے باوجود ملک آج بھی قائداعظم کی منزل کا متلاشی ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘کتنے افسوس کی بات ہے کہ 73 سال گزرنے کے باوجود ہم اپنی منزل تلاش ہی نہیں کرسکے کہ ہمیں کس راستے پر جانا ہے، اس کا تعین نہیں کرسکے، ابھی تک اپنی منزل اور راستے کا پتہ نہیں ہے، دنیا چاند سے آگے مریخ پر پہنچ گئی لیکن ہم اس دنیا میں اپنے ملک پاکستان کا راستہ تلاش نہیں کرسکے’۔ نواززشریف نے کہا کہ ‘جو ملک ہمارے بعد آزاد ہوئے اور ہم سے بہت پیچھے تھے لیکن آج ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں، ان کے ملک میں ووٹ کا احترام کیا جاتا ہے اور ووٹ کو عزت ملتی ہے، ملک کو آئین، قانون اور دستور کےمطابق چلایا جاتا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ ملک کسی قانون کے تحت چلتے ہیں، وہاں عدالتیں انصاف کرتی ہیں، وہاں انصاف نہیں بکتا، وہاں کی فوج اور جرنیل شب خون نہیں مارتے اور وہاں کے جرنیل امریکا میں جا کر پاپاجونز نہیں بناتے ہیں بلکہ آئین کی پاسداری کرتے ہیں، اپنے ملک کی رکھوالی کرتے ہیں، اپنے آئین، قانون، عدالتوں، سیاست دانوں، اپنی پارلیمنٹ اور قانون کی بالادستی کا احترام کرتے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے ملک میں کیا ہوتا ہے، یہاں آئین اور قانون کی بار بار دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور عوام کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے، ووٹ چوری ہوتا ہے، الیکشن مسلم لیگ (ن) جیتتی ہے لیکن آر ٹی ایس بند کرکے، رات کے اندھیرے میں بکسے بدل کر ایک سلیکٹڈ کو بیٹھا دیا جاتا ہے، کئی دن نتائج نہیں آتے اور اعلان کسی اور کا کیا جاتا ہے’۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘یہی وجہ ہے ہم دن بدن معاشی بدحالی کی دلدل میں پھنستے اور دھنستے چلے جا رہے ہیں، جب بھی پاکستان کے اندر کسی جمہوری حکومت نے ملک کو ترقی کی راہ ڈالا تو رکاؤٹیں کھڑی کر دی گئیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایسا کیوں کیا جاتا ہے، کیا آپ کو ایک ترقی کرتا ہوا پاکستان برداشت نہیں ہے، کیوں اس کے خلاف سازشیں کرنی شروع ہوجاتی ہیں، اس کھیل نے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، خدا کا خوف کرو’۔ انہوں نے کہا کہ’ آپ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ آپ کر کیا رہے ہیں، یہ سب کچھ پاکستان کو کدھر لے کر جارہا ہے، یہاں آئے دن نئے نئے پلاٹ اپنے لیے الاٹ کیے جاتے ہیں، یہ پاکستان کی سرزمین کسی کی جاگیر نہیں، یہ اگر کسی کی جاگیر ہے تو 22 کروڑ عوام کی جاگیر ہے اوراگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے پلاٹس اپنے لیے حاصل کروں تو پاکستان کے عوام ایسا نہیں ہوں گے دیں گے لیکن ایسا ہو رہا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘چند لوگ اپنی جیبیں اور تجوریاں بھر رہے ہیں اورسب کچھ اکٹھا کرکے اپنے لیے لے کر جا رہا ہے، کوئی امریکا اور کوئی آسٹریلیا لے کر جا رہا ہے، عوام کے خون پسینے کی کمائی سے وہاں کوئی اپنی جائیدادیں اور پاپا جونز بنا رہا ہے اور وہ پاکستان کی دولت لوٹ کر ادھر لے کر جا رہاہے’۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اس لیے نکال دیا گیا کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی لہٰذا باہر نکال دو لیکن یہاں پاپاجونز بنائے جارہے ہیں کیا ان کا بھی احتساب ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں ملک آگے بڑھ رہا تھا، بجلی، گیس سستی تھی، ہمارا جانا تھا کہ چند آئین شکن کرداروں نے پاکستان کا یہ حشر کردیا ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں، ایک نالائق او سلیکٹڈ وزیراعظم کو لاکر بیٹھا دیا گیا ہے اور قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ میری نظریہ، بیانیہ اور جدوجہد عوام اورپاکستان کی آنے والی نسلوں کے لیے ہے، میں یہ جدوجہد کرکے پاکستان کے مستقبل کی نسلوں کو وہ پاکستان دینا چاہتا ہوں جس کی دنیا میں عزت اور احترام ہو اور پاکستان سرفخر سے بلند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جدوجہد والہانہ جذبہ اور قدم کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی، اس لیے اپنے ملک و قوم کے لیے تھوڑی سی قربانی دیں، جس شخص میں کامیابی سے زیادہ ناکامی کا خوف ہوتا ہے وہ کبھی کامیابی نہیں پاتا اس لیے میں، مریم اور آپ اور ہم سب نے بلاخوف حق اور سچ کا ساتھ دینا، حق اورسچ کی جنگ لڑنی ہے، حق اور سچ کا چراغ روشن کرنا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ غیرآئینی طاقتوں کے داغ دار چہروں کو بے نقاب کرنا ہے، یہ میرا، آپ کا اور 22 کروڑ عوام کا پاکستان ہے، 22 کروڑ عوام کو کچھ نہیں ملتا لیکن صرف 2 سے 4 لاکھ لوگ جو اوپر بیٹھے ہیں سب کچھ لوٹ کر جاتے ہیں، عوام کے پاس بجلی کا بل دینے، بچوں کی فیس اور کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کچھ نہیں ملتا لیکن یہ چند لوگوں سرکاری فنڈ اورسرکاری اخراجات پر تنخواہیں بھی لاکھوں پر لیتے ہیں، گاڑیاں بھی سرکاری، ریٹائر ہونے کے بعد پنشن بھی لاکھوں میں، پلاٹ بے شمار دیے جاتے ہیں جبکہ غریب لوگ بھوکے پیٹ کے ساتھ سوتے ہیں، اس سب کو ہم نے تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کو تبدیل کرکے رہیں گے، اس کے لیے میدان میں نکلیں گے، حق اور سچ کو بلند کریں گے، قربانی دیں گے اور ملک کو بدلیں گے اور ووٹ کو چوری ہونے سے روکیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ میں جدوجہد کروں گا، مریم بھی آپ کے شانہ بشانہ ہوگی، اسی لیے کہتے ہیں کہ مریم کو ختم کردیں گے، ہمارا اللہ پر مان ہے کہ یہ ہم میں سے کسی کو ختم نہیں کرسکتے مگر یہ خود ختم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آگے امتحان کی گھڑیاں آرہی ہیں،مریم کو 26 مارچ کو بلایا ہے، ان کے پاس کچھ نہیں اس لیے دھوکے بازی سے ان کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں، ہمیں یہ قبول نہیں ہے۔
