فوج پر عوام کا اعتماد بحال کرنا نئے چیف کیلئے ایک بڑا چیلنج

پاکستان میں نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تعیناتی پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ نئے فوجی سربراہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج فوج پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کا ہے۔ امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کو دو اہم ترین چیلنجز کا سامنا ہو گا، پہلا چیلنج پاکستان کی غیر مستحکم معاشی حالت اور دوسرا فوج پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ تقریباً تمام امریکی ذرائع ابلاغ نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کا حوالے دیتے ہوئے پاکستانی میں گزشتہ 70 برسوں میں فوج کی سیاسی مداخلت بارے بھی تجزیاتی رپورٹس شائع کی ہیں۔ امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ نئے فوجی سربراہ نے سیاست میں مداخلت کی خبروں اور قیاس آرائیوں کے درمیان چارج سنبھال لیا ہے۔

 

امریکی اخباروں ’دی ٹائمز‘ اور واشنگٹن پوسٹ’ نے بھی نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر خبریں شائع کی ہیں، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عام طور امریکی میڈیا شاید ہی کبھی کسی دوسرے ملک میں فوج کے نئے سربراہ کی تقرری کی خبریں شائع کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکا اپنے ملک میں اسطرح کی تقرریوں کے حوالے سے بھی بہت کم دلچسپی رکھتا ہے۔

 

امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق کئی لوگ آرمی چیف کی تعیناتی پاکستان میں سویلین اور سیاسی منظر نامے کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے نصف سے زائد عرصے تک فوج کی حکمرانی رہی، صرف یہی نہیں بلکہ سویلین حکمران کے تحت بھی فوجی قیادت نے پاکستانی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں سال اپریل میں عدم اعتماد کی ووٹنگ کے ذریعے عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا جس کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل کے پیچھے پاکستانی فوج، امریکا اور انکے سیاسی حریفوں کی سازش ہے، جس کے بعد رواں سال پاکستان کی سیاست میں فوج کی مداخلت اہم موضوع بنا۔

 

برطانوی اخبار ’دی ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ عمران کی جانب سے فوج پر شدید تنقید کی وجہ سے فوج پر عوامی عدم اعتماد رہا اور ملک کے اندر ہی ادارے کی ساکھ کی شدید نقصان پہنچا۔ امریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ سیاسی انتشار فوج کے اندر اختلافات کی وجہ بنا، کئی نچلے درجے کے فوجی افسران خاموشی سے پی ٹی آئی چیئرمین کی حمایت کررہے تھے جبکہ اعلیٰ افسران عمران خان کے فوج پر الزامات کو برداشت نہیں کر پائے۔

 

دوسری جانب امریکی اخبار ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں آرمی چیف کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور فوج کے نئے سربراہ کو مستقبل میں اس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ اخبار نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ صدر عارف علوی نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی منظوری اس لیے دی کیونکہ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر کو 4 اسٹار جنرل پر ترقی دی ہے اور اگر صدر عارف علوی فوج کے نئے سربراہ کی تقرری پر توثیق میں تاخیر کریں گے تب تھی جنرل عاصم منیر رواں ہفتے ریٹائر نہیں ہوں گے۔

 

اسکے علاوہ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کو مستقبل میں پاکستان کے حریف بھارت سے تعلقات سمیت افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات اور دیگر امور پر بھی اہم فیصلے کروانا ہوں گے۔

Back to top button