فیروز خان کو بچوں کے لیے ماہانہ 80 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم

کراچی کی فیملی کورٹ نے معروف اداکار فیروز خان کی سابقہ اہلیہ علیزے فاطمہ کی درخواست پر انکے دو بچوں کے ماہانہ اخراجات سے متعلق درخواست پر حکم دیا ہے کہ والد بچوں کے اخراجات کی مد میں ماہانہ 80 ہزار روپے ادا کریں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے فیروز خان اور علیزے کے مابین آؤٹ آف کورٹ سیٹلمینٹ کی کوشش ہوئی تھی اور تب اداکار نے اپنے بچوں کے خرچے کی مد میں ماہانہ ایک لاکھ روپیہ ادا کرنے کی آفر کی تھی جسے ان کی سابقہ اہلیہ نے ٹھکرا دیا تھا اور تین لاکھ روپے ماہانہ اخراجات کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اب عدالت نے بچوں کے اخراجات کی مد میں 80 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کا حکم دیاہے۔

علیزے فاطمہ اور فیروز خان کے درمیان شادی کے 4 سال بعد ستمبر 2022 میں طلاق ہوگئی تھی، دونوں کے دو بچے ہیں، جو اس وقت والدہ کے پاس ہیں۔ طلاق ہونے کے بعد علیزے فاطمہ نے کراچی کی مقامی عدالت میں بچوں کے اخراجات دلوانے کے لیے درخواست دائر کی تھی جب کہ فیروز خان نے اسی کورٹ میں بچوں کی حوالگی سے متعلق مقدمہ دائر کیا تھا۔دونوں کی درخواستوں پر اکتوبر سے سماعتیں جاری تھیں اور ابتدائی طور پر دونوں کے درمیان بچوں کے اخراجات کے حوالے سے تنازع تھا اور عدالت نے دونوں فریقین کو اپنی رضامندی کے تحت اخراجات کے معاملات حل کرنے کے لیے وقت دیا تھا، تاہم ان کے درمیان اخراجات کے حوالے سے صلح نہ ہو سکی تھی جس کے بعد اب عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے فیروز خان کو بچوں کے اخراجات کی مد میں ماہانہ 80 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

فیروز خان کے وکیل فائق علی جاگیرانی نے تصدیق کی کہ عدالت نے ان کے موکل کو اخراجات کی مد میں ماہانہ 80 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے موکل نے سابق اہلیہ علیزے فاطمہ کو ماہانہ ایک لاکھ جب کہ سالانہ 15 لاکھ روپے تک دینے کی پیش کش کی تھی مگر انہوں نے انکار کیا تھا اور تین لاکھ روپے ماہانہ مانگے تھے۔ فیروز خان کے وکیل نے بتایا کہ وہ اپنے موکل سے مذکورہ معاملے پر مشورہ کرکے ممکنہ طور پر اپیل بھی دائر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت کی جانب سے کسی رقم کا حکم دیا جاتا ہے تو فریق ہر حال میں اتنی رقم دینے کا قانونی طور پر پابند ہو جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مالی طور پر دیوالیہ بھی ہوجائے تو بھی انہیں رعایت نہیں مل سکتی۔

وکیل کے مطابق ہو سکتا ہے کہ فیروز خان عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرکے ماہانہ 80 ہزار روپے کے کو مزید کم کروائیں۔ فیروز خان کے وکیل کے مطابق عدالت نے اداکار کو ایک سال سے کم عمر بیٹی کے لیے ماہانہ 30 ہزار جب کہ بڑے بیٹے سلطان کے لیے ماہانہ 50 ہزار روپے اخراجات کی مد میں دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی عدالت نے فیروز خان کو پانچ دن کے لیے بیٹا حوالے کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے، اب اداکار 23 دسمبر کو بیٹے کو عدالتی احاطے سے ضمانت دے کر پانچ دن کے لیے اپنے ساتھ گھر لے جائیں گے۔ وکیل نے بتایا کہ ممکنہ طور پر فیروز خان بیٹے کے ہمراہ پانچ دن کے لیے شہر سے باہر گھومنے جائیں گے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

Back to top button