ٹوئیٹر کے مالک مسک کی مستعفی ہونے پر مشروط آمادگی

دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلون مسک ٹوئیٹر خریدنے کے بعد سے صارفین کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں تھے جس کے بعد انھوں نے ٹوئیٹر پر اپنے مستعفی ہونے سے متعلق سروے کرایا۔

سروے میں صارفین کی اکثریت نے ایلون مسک کو عہدہ چھوڑنے کی تجویز دی جسکے بعد مسک نے مشروط استعفیٰ دینے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں تب مستعفی ہو جاؤں گا جب مجھے ٹویٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ لینے والا کوئی بے وقوف مل جائے گا، ایلون مسک نے صارفین کا فیصلہ ’تسلیم‘ کرتے ہوئے ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان تو کر دیا مگر ’شرط` یہ رکھی کہ اس کے بعد میں سافٹ ویئر اور سرورز کی ٹیم سنبھالوں گا، ایلون مسک 27 اکتوبر سے ٹوئٹر کے مکمل مالک ہیں اور سی ای او کی حیثیت سے بار بار تنازعات کا شکار رہے ہیں۔

وہ اب تک ٹوئٹر کے نصف عملے کو برخاست کر چکے ہیں اور انتہائی دائیں بازو کے افراد کو پلیٹ فارم پر منتقل کر چکے ہیں۔شاید انہی تنازعات اور تنقید کی وجہ سے انہوں نے بطور چیف ایگزیکٹیو مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے پیر کو ٹوئٹر پر ایک پول بھی کروایا تھا۔

اس پول میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ ٹوئٹر اکاؤنٹس میں سے مجموعی طور پر 57.5 فیصد نے ایلون مسک کے عہدہ چھوڑنے کے حق میں ووٹ دیا، ٹوئٹر کے پولنگ فیچر کا سہارا لینا مسک کی پسندیدہ حکمت عملی رہی ہے تاکہ پالیسی فیصلوں کو آگے بڑھایا جا سکے، جس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ٹوئٹر صارفین کو بتایا گیا تھا کہ وہ اب دیگر سوشل میڈیا سائٹس سے مواد کی تشہیر نہیں کر سکیں گے۔

Back to top button