23 دسمبر کو دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوں گی

وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کیخلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد اب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے بھی اپنی اسمبلی تحلیل کرنے سے انکار کر دیا ہے، اس لیے اب عمران خان کے اعلان کے برعکس 23 دسمبر کو دونوں اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوں گی، یوں کپتان کو بظاہر ایک اور سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ حالانکہ خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ محمود خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل نہیں ہوئی لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی اسمبلی کی تحلیل کو پنجاب اسمبلی توڑنے سے مشروط کر دیا ہے۔

22 دسمبر کو سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اعلان کیا کہ اب پنجاب اسمبلی ٹوٹ نہیں سکتی، کیونکہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوچکی ہے، ابھی اس حوالے سے نوٹسز جاری ہوں گے، اور تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری  کا معاملہ جنوری کے پہلے ہفتے تک جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ میں نے جو حلف اٹھایا ہے اس کی پاسداری کررہا ہوں، وزیراعلیٰ کو بچانا میرا کام نہیں، حکومت جانے اور اس کا کام جانے، میں اس ایوان کا کسٹوڈین ہوں،ہر کوئی اپنے آئینی دائرے میں رہ کر اپنا اپنا کام کرے، گورنر پنجاب بھی کوئی غیر قانونی آرڈر پاس نہ کریں اور وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا سوچیں بھی نہ، انکا کہنا تھا کہ اگر گورنر آئینی ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں تو بطور سپیکر وہ بھی آئینی ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف کہتے ہیں کہ اگر پنجاب اسمبلی جمعے کو تحلیل نہ ہوئی تو پھر کے پی اسمبلی کو جمعے کو تحلیل کرنا بے معنی ہو گا۔ پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری بھی کہہ چکے ہیں کہ تحریکِ عدم اعتماد میں کامیابی کے بعد ہی پرویز الٰہی اسمبلی توڑنے کا اختیار استعمال کر سکیں گے، لہذٰا پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بیک وقت توڑی جائیں گی۔

خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی میں جلسے کے دوران انتخابات کی فوری تاریخ نہ ملنے پر پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چیئرمین تحریکِ انصاف نے 17 دسمبر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تاریخ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 23 دسمبر کو دونوں صوبائی اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی۔ لیکن پنجاب میں گورنر پنجاب اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے درمیان اجلاس بلانے کے معاملے پر اختلافات اور وزیرِ اعلٰی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آنے کے بعد جمعے کو اسمبلی تحلیل ہونے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ گورنر پنجاب نے وزیرِ اعلٰی پنجاب سے کہا تھا کہ وہ بدھ کی شام تک اعتماد کا ووٹ لیں، تاہم وزیرِ اعلٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی اب وزیرِ اعلٰی نہیں رہے۔

ماہرین کے مطابق پنجاب کی صورتِ حال کا لامحالہ اثر خیبرپختونخوا پر بھی پڑے گا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور وزرا 26 نومبر سے اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں سیاسی طور سرگرم دکھائی دیتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ محمود خان آئے روز پشاور سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے افتتاح کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرر ہے ہیں کہ وہ اور انکے ساتھی نئے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں ۔ تاہم تحریکِ انصاف کے کئی اراکینِ صوبائی اسمبلی وقت سے پہلے اسمبلی کی تحلیل پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ اسمبلیوں کی تحلیل کا مقصد وفاقی حکومت پر نئے انتخابات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا تو پھر پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب اور کے پی اسمبلی تحلیل ہونے سے 66 فی صد عوام نمائندگی سے محروم ہو جائیں گے، لہذٰا وفاقی حکومت کے پاس قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

البتہ پنجاب میں وزیرِ اعلٰی پنجاب کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ اب پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ لہذٰا خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اُن کے بقول اس معاملے پر حتمی فیصلہ عمران خان کا ہی ہو گا۔

پشاور کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عاصم شہزاد کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے مستقبل کا دارومدار اب پنجاب اسمبلی کی صورت حال پر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی محاذ آرائی کا محور پنجاب ہے، لیکن اس کے منفی اثرات سے خیبرپختونخوا کسی بھی طور الگ نہیں رہ سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ ایک طرف خیبر پختونخوا میں معاشی اور مالی بحران ہے اور دوسری طرف دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی رابطے ختم ہونے کے منفی اثرات سے عوام ہی متاثر ہوں گے۔

Back to top button