پرویز الٰہی خود اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط نہیں کریں گے

وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر پی ڈی ایم اتحاد نے صوبائی اسمبلی بچانے کے علاوہ پرویز الٰہی کی خواہش بھی پوری کی ہے جو خود بھی اسمبلی نہیں توڑنا چاہتے تھے کیونکہ وہ اپنے ڈیتھ وارنٹ پر خود دستخط کرنے کے حق میں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار زاہد حسین روزنامہ ڈان میں لکھتے ہیں کہ طویل انتظار کے بعد عمران خان نے پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ وزیرِاعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے واضح کردیا ہے کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ پرویز الٰہی کے اس بیان کی وجہ ممکنہ طور پر سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف عمران خان کی غیرمناسب گفتگو ہے۔ ایسے میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان اور پرویز الٰہی کی راہیں جدا ہونے والی ہیں۔ ان تازہ ترین واقعات سے سیاسی ڈرامے میں نیا موڑ آگیا ہے۔ سیانے وزیرِاعلیٰ کی واپسی ہوچکی ہے اور اب وہ خود پر بولی لگانے والے کی تلاش میں ہے۔ اس وقت ان کے پی ٹی آئی کے علاوہ پی ڈی ایم سے بھی مذاکرات جاری ہیں اور لگتا ہے کہ عمران خان کو چیک میٹ کردیا گیا ہے۔ لیکن شطرنج کا یہ کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ یہ سیاسی چکر اور لین دین کا ایک نیا دور ہے، جس کا نتیجہ غیریقینی ہے۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ جس بات کی توقع تھی وہی ہوا۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے عمران خان کے 23 دسمبر کو اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر جوابی وار کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ پنجاب کے خلاف اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔ ایک جانب پنجاب میں گورنر راج لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی بات کی جارہی ہے چونکہ انہوں نے گورنر کے حکم کے باوجود پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا۔ قبل ازوقت انتخابات کی تمام تر کوششیں ناکام ہونے کے بعد اسمبلی تحلیل کرنا عمران خان کا آخری حربہ تھا۔ 2 بار اسلام آباد تک مارچ کی کوشش بھی انتخابی عمل کو تیز نہیں کرپائی تھی۔ عمران خان نے اب اپنی آخری چال چل دی ہے۔ ان کے خیال میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد پی ڈی ایم حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور وہ آخرکار ان کے مطالبات مان لیں گے۔ اسی زعم میں سابق وزیرِاعظم عمران خان نے پنجاب میں اتحادی حکومت کے درمیان ہونے والے اختلافات کو بھی اہمیت نہیں دی۔ مسلم لیگ (ق) جس کا اس اتحاد میں سب سے اہم کردار ہے، وہ اسمبلی کی تحلیل سے متعلق شکوک میں مبتلا تھی۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تحریک انصاف کے کچھ صوبائی اراکینِ اسمبلی کو بھی ایوان کی مدت ختم ہونے سے محض چند ماہ قبل تحلیل کے اس فیصلے پر تحفظات ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے عناصر ہیں جنہیں عمران خان نے قبل از وقت انتخابات کے لیے اپنے سخت فیصلوں میں بالکل نظرانداز کردیا ہے۔ دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا جتنا پی ٹی آئی چیئرمین سمجھ رہے تھے۔
زاہد حسین کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی خود اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط نہیں کریں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ صوبائی حکومت ختم ہونے کے ساتھ پی ٹی آئی سے ان کے اتحاد کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ سابق آرمی چیف کے خلاف عمران کے طنزیہ بیانات اور الزامات نے پرویز الٰہی کو اختلافات کا اظہار کرنے کا بہانہ فراہم کردیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے عمران سے قومی اسمبلی کی 15 اور پنجاب اسمبلی کی 30 نشستوں پر اگلے انتخابات کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کردیا ہے۔ اس دوران پی ڈی ایم بھی پنجاب کے حکومتی اتحاد کے بیچ پیدا ہونے والی دراڑوں کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے اور پرویز الٰہی سے بیک ڈور چینل کے ذریعے خفیہ رابطوں کا عمل جاری ہے۔ پی ڈی ایم کا صوبائی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کروانا سوچا سمجھا اقدام تھا، جس کے تحت انہوں نے عمران خان کی اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ سے چند روز قبل پنجاب کے گورنر سے کہا کہ وہ وزیرِاعلیٰ پنجاب کے خلاف ایوان میں عدم اعتماد کا ووٹ کروائیں۔ اس کا اصل مقصد عمران خان کی چال کو ناکام بنانا ہے۔ اگرچہ گورنر کے اس مشورے پر متعدد سوالات اٹھیں گے جو ایک طویل قانونی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود پی ڈی ایم کے تمام مقاصد پورے ہوجائیں گے۔
زاہد حسین کے بقول قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ پی ڈی ایم کے اس عمل کو وزیرِاعلیٰ کی کھلی حمایت حاصل ہے کیونکہ اس طرح وہ پنجاب میں اپنی حکومت ٹوٹنے سے روک سکتے ہیں۔ تختوں کے اس کھیل میں اب کچھ بھی حیران کُن نہیں رہا۔ جبکہ غیرجانبدار ہونے سے متعلق اسٹیبلشمنٹ کے مسلسل دعوے کے باوجود ان کا کردار بھی مشکوک ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِاعلیٰ پنجاب نے جنرل باجوہ کے معاملے پر عمران مخالف اپنے متنازعہ ٹی وی انٹرویو سے قبل راولپنڈی کا دورہ کیا تھا۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے سابق آرمی چیف کے خلاف غیر مناسب گفتگو کرنے پر عمران کو آڑے ہاتھوں لیا جس نے اس تمام معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ پرویز الٰہی نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے مسلسل روابط کی تصدیق کردی ہے اور اشارہ دیا ہے کہ طاقتور ادارہ ملک کو مزید سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے بچانے کے لیے صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے حق میں نہیں۔ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ پی ٹی آئی چیئرمین اپنی حکومت کے خاتمے میں سابق آرمی چیف کے مبیّنہ کردار کے حوالے سے تنقید کرتے آئے ہیں لیکن گزشتہ ماہ فوج کی کمان میں تبدیلی کے بعد ان کے بیانات مزید سخت ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں عوام سے اپنے خطاب میں جہاں عمران نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا وہیں انہوں نے جنرل باجوہ پر تنقید کے نشتر برسائے اور انہیں اپنی حکومت میں ہونی والے تمام غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اس سے عمران خان کے ’رجیم چینج‘ کے بیانیے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اب وہ بیرونی سازش کا ذکر نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ سابقہ فوجی قیادت نے انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش کی اور پی ڈی ایم حکومت کو اقتدار دیا۔ عمران خان کے بیانیے کی اس تبدیلی نے ان کی حکومت پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کردیے ہیں جو ہائبرڈ نظام کے نتیجے میں آئی تھی۔ عمران اب ان واقعات کو نئی شکل دے رہے ہیں جنہوں نے ان کی ساڑھے تین سالہ حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ یہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی اور سابق حکومت کی انتظامیہ پر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اثرانداز تھی۔ سیاست میں ادارے کی اتنی گہری مداخلت تھی کہ اس نے پورے جمہوری عمل کو مسخ کردیا ہے۔ بلاشبہ سابق آرمی چیف گزشتہ چند سالوں میں ہونے والی بہت سی کوتاہیوں کے ذمہ دار ہیں جس میں ہائبرڈ نظام کھڑا کرنے میں ان کا کردار بھی شامل ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نظام کا سب سے زیادہ فائدہ عمران کو ہوا۔ ان کا دونوں صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ ایک ایسے سیاستدان کے مایوس کُن رویے کی ترجمانی کرتی ہے جو مکمل طور پر فوجی سپورٹ پر منحصر تھا۔ لیکن اب جب اسٹیبلشمنٹ نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو وہ سخت غصے میں ہیں۔
زاہد حسین کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ عمران خان نے واقعی اپنے تجربے سے کوئی سبق سیکھا ہے۔ جمہوری سیاسی نظام پر ان کا یقین اب بھی متنازع ہے۔ اس سے تو کوئی انکار نہیں کہ قبل ازوقت انتخابات کا مطالبہ ایک جمہوری مطالبہ ہے مگر غیر سیاسی مدد کے انتظار کے بجائے انہیں اپنی جنگ منتخب جمہوی ایوانوں میں لڑنی چاہیے۔ عمران خان صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ آنے والے چند دنوں میں جو کچھ ہوگا اس سے پاکستان میں سیاسی استحکام ہرگز پیدا نہیں ہوگا۔ اگر پی ٹی آئی پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تب بھی ضروری نہیں کہ ملک میں قبل ازوقت عام انتخابات کا فوری انعقاد ہو پائے۔ اس بات کا بھی کوئی امکان نہیں کہ دباؤ میں آکر وفاقی حکومت قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر رضامند ہوجائے گی۔ لیکن خدشہ ہے کہ یہ ملک میں موجود سیاسی تقسیم میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔
