فیس بک نے انمول بلوچ کو مشہور اداکارہ کیسے بنا دیا؟

آج کل ڈرامہ سیریل ’’سیانی‘‘ سے عوامی توجہ کا مرکز بننے والی اداکارہ انمول بلوچ کو بچپن سے اداکاری کا شوق تھا لیکن انکی ایکٹنگ کی تربیت زیرو تھی کیونکہ انکا تعلق ایک گاؤں سے تھا، تاہم انہوں نے اپنے دل کا شوق پورا کرنے کیلئے اپنی فیس بک پروفائل پر خود کو اداکارہ لکھ دیا اور کچھ سیلفیاں بھی لگا دیںلیکن اسکے چند روز بعد جب انمول کو ایکٹنگ کے لیے ڈائریکٹر محسن مرزا کی کال آئی تو وہ حیران رہ گئیں۔
انمول نے بتایا کہ انہوں نے اداکاری کی تربیت حاصل نہیں کی اور نہ ہی کبھی وہ سکول یا کالج کے ڈرامہ میں شریک ہوئیں، لیکن انھیں ایکٹنگ کا شوق تھا، انمول نے بتایا کہ انہوں نے فیس بک پر اپنی آئی ڈی بنائی اور اس پر لکھ دیا ایکٹر اور ساتھ میں کچھ سیلفیز لگا دیں۔ اس کے بعد ڈائریکٹر محسن مرزا نے مجھے کال کی اور کہا کہ میرا ایک پراجیکٹ چل رہا ہے اس میں ایک کیریکٹر ہے اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ آپ کر سکتی ہیں۔ میں نے سوچا پتہ نہیں کون ہیں۔ مذاق کر رہے ہیں۔ میں نے پھر ان کی پروفائل دیکھی۔ انھوں نے کافی اچھے اچھے پراجیکٹ کیے ہوئے تھے۔ میں نے امی سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ نہیں نہیں، کیا ہو گیا ہے تمھیں۔
انمول بلوچ بتاتی ہیں کہ اپنی والدہ کی مخالفت کے باوجود انھوں نے محسن مرزا سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کہاں آنا ہے۔ جس پر جواب ملا کہ گھر آ جائیں۔ وہ تھوڑا نروس ہوئیں کیونکہ ’شوٹ کے لیے تو آفس بلانا چاہئے تھا۔ اس۔پر محسن مرزا نے کہا کہ بیٹا میرے گھر میں شوٹ بھی ہوتا ہے اور آگے جو پراجیکٹ کر رہا ہوتا ہوں اس کی سکرپٹ ریڈنگ بھی ہوتی ہے۔
آپ یہاں آ جاؤ، اس کے بعد میں والدہ کو لے کر اُن کے گھر چلی گئی۔ بس وہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور انھوں نے مجھے ایک کردار دیا اس کے بعد میں نے عرفان اسلم کا ڈرامہ سیریل ’کم بخت تنو‘ کیا۔ اس میں میں چھوٹا کردار تھا، میں نوشین کے دوست بنی تھی، میں واش روم میں روتی تھی، انمول بلوچ کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب کام شروع کیا تو بہت سارے ڈائریکٹرز سے بہت ساری ڈانٹ کھائی اور باتیں بھی سُنیں کہ صرف اچھی شکل ہونے سے ایکٹر نہیں بن جاتے۔ ایکٹر کے لیے ایکٹنگ آنا بھی ضروری ہے تم سے نہیں ہوگا، میں واش روم میں جا کر روتی تھی، گھر میں آ کر کہتی تھی کہ مجھے یہ کام نہیں کرنا، میں نہیں جاؤں گی لیکن اگلے دن میں خود ہی تیار ہو کر شوٹ پر چلی جاتی تھی کہ کوئی بات نہیں، آج میں اور اچھا کروں گی، آج مجھے ڈانٹ نہیں پڑے گی، ایسے کرتے کرتے میں آخر سیکھ گئی۔
انمول نے ڈرامہ سیانی میں اپنے کردار کے حوالے سے بتایا کہ پہلے یہ رول کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن بعد میں جب سکرپٹ پڑھا اور کرن کی چالاکیاں دیکھیں تو اسے کرنے کے لیے رضامند ہو گئیں، میں نے ابھی تک ایسا کردار نہیں کیا تھا۔ جب کام کیا تو لوگوں نے بہت تعریف کی ورنہ میں یہ سوچتی تھی کہ منفی کردار کرنے سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ انمول کہتی ہیں کہ ڈرامے کو ڈرامے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ’سیانی میں بھی ایک سبق ہے، اس میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اور والدہ کے ساتھ جو رویہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی زبان سے ہی اس کے کردار کو مزید نیگیٹو بنایا گیا ہے۔
سیانی میں انمول بلوچ کے ساتھ محسن عباس حیدر لیڈ رول کر رہے ہیں جن پر ان کی سابقہ بیوی نے گھریلو تشدد کا الزام عائد کیا تھا، انمول کہتی ہیں کہ اس معاملے کو لے کر انھوں نے کبھی خود کو غیر محفوط نہیں سمجھا کیونکہ ’محسن کو عورتوں کو عزت دینا آتا ہے۔ اُن کے ساتھ کام کر کے مزہ آیا جو بھی متنازعہ باتیں ہوتی ہیں میں اُن پر یقین نہیں کرتی کیونکہ وہ سچ بھی ہو سکتی ہیں تو جھوٹ بھی ہو سکتی ہیں۔ جو چیز آپ نے آنکھوں سے دیکھی اور کانوں سے سُنی نہ ہو، آپ کو اس بارے میں ردعمل کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔
انمول بتاتی ہیں کہ شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھ کئی دلچسپ واقعات پیش آتے ہیں، سیانی کے شوٹ میں جب انھوں نے شادی کا سیکوئنس مکمل کر لیا، اس کے دو تین دن کے بعد وہ ایک لوکشن پر آئے جو ایک بنگلہ تھا۔ وہ دلہن کے جوڑے میں تھیں اور محسن عباس نے شیروانی پہنی ہوئی تھی۔شیروانی کے نیچے محسن عباس نے شارٹس پہنے ہوئے تھے لیکن انمول نے سمجھا کہ انھوں نے نیچے کچھ نہیں پہنا ہوا اور یہ دیکھتے ہی انھوں نے منہ گھما لیا اور کہا کہ ’یہ کیا ہے؟‘ جس پر سب ہنسنے لگے اور ’محسن نے شیروانی ہٹائی اور کہا کہ میں نے شارٹس پہنے ہوئے ہیں جس پر ہم بہت دیر تک ہنستے رہے۔
انمول بلوچ کے خاندان کا تعلق سندھ کے دیہی علاقے سے ہے، بقول اُن کے وہاں بجلی اور گیس کی سہولت بھی اب پہنچی ہے تاہم ٹی وی اور انٹرنیٹ کا استعمال عام نہیں ہے، انمول کے مطابق ان کے والد نہیں البتہ والدہ ڈرامے دیکھتی ہیں۔ انموک نے بتایا کہ جب سیانی ڈرامے کے ٹیزر آئے تو انہیں دیکھ کر امی بہت ناراض ہوئیں اور مجھے ڈانٹا کہ تم اتنی غلط لڑکی کیوں بنی ہو؟ اب تم سے کوئی شادی نہیں کرے گا کیونکہ ان کو لگے گا یہ لڑکی پیسوں کے پیچھے بھاگتے ہے۔
