فیصل واوڈا کی بغاوت سے پی ٹی آئی میں توڑ پھوڑ کا آغاز

فیصل واوڈا کی جانب سے ارشد شریف کے قتل میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کا عمران خان کا الزام سختی سے رد کیے جانے سے نہ صرف تحریک انصاف کے سازشی بیانیے کو بڑا دھچکا پہنچا ہے بلکہ پارٹی کے اندر توڑ پھوڑ کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھاتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ عمران خان کا لانگ مارچ خونی ہوگا اور اس میں لاشیں ہی لاشیں گریں گی۔ فیصل واوڈا کے اس دعوے کے بعد جمعہ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کی کامیابی بھی مشکوک ہوگئی ہے۔ واوڈا کی پریس کانفرنس کے اگلے روز ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ کی گئی پریس کانفرنس سے معاملات اور بھی گمبھیر صورت اختیار کرتے نظر آرہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان بالآخر پہلی مرتبہ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے فوج پر مسلسل حملے کرنے والے عمران کو پہلی مرتبہ منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر لانگ مارچ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو فوج ڈٹ کر حکومت کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ کینیا میں ارشد شریف کے پراسرار قتل کے بعد عمران کی جانب سے مسلسل یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ اس قتل میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ قتل کے فورا ًبعد عمران نے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا تھا جو وہ پچھلے پانچ ماہ سے ملتوی کرتے چلے آرہے تھے۔ ایسے میں فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا بیانیہ الٹا دیا اور الزام لگایا کہ ارشد کے قتل سے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ ارشد اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین رابطہ کار تھے اور دونوں رابطے میں تھے۔ 27 اکتوبر کی پریس کانفرنس میں بھی ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ ارشد شریف اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھے اور پاکستان واپس آنے والے تھے۔
عمران خان نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کو اپنے خلاف بغاوت گردانتے ہوئے انہیں فوری طور پر پارٹی سے برخاست کر دیا ہے کیونکہ واوڈا نے واضح طور پر کہا تھا کہ ارشد کو دشمنوں نے نہیں بلکہ ان کے دوستوں نے مروایا ہے۔ واوڈا کا ااشارہ شاید عمران کے اس دعوے کی جانب تھا کہ ارشد کو بیرون ملک انہوں نے بھجوایا تھا۔ واوڈا نے کہا ہے ارشد کی موت قتل ہے جس کی سازش پاکستان میں تیار ہوئی۔ ارشد کو سازشیوں نے ڈرایا اور پھر مجبور کیا کہ ملک سے چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق تمام شواہد مٹا دیےگئے ہیں۔ ارشد بھاگنے والا نہیں تھا لیکن اسے جھوٹی کہانیاں سنا کر ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور پھر اسے اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔واوڈا کے مطابق یہ کہنا کہ ارشد شریف کو اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان سے نکلوایا بالکل بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد کی موت کے بعد لانگ مارچ کے اعلان سے یوں لگتا ہے جیسے لاشیں گرانے کی کوئی سازش رچائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد کو باہر بھجوانے اور قتل کرانے والوں کو میں اگلے دو روز میں نام لے کر بے نقاب کروں گا۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ارشد شریف کو قتل کیا گیا اور گولی یا تو گاڑی کے اندر ہی موجود کسی شخص نے چلائی یا پھر انہیں بہت قریب سے نشانہ بنایا گیا۔ انکے مطابق ارشد کو سینے اور سر پر جو دو گولیاں ماری گئیں وہ لانگ رینج سے نہیں چلائی گئیں، وہ قریب سے فائر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے ارشد شریف کو باہر بھجوایا، انہوں نے ہی انکا قتل کروایا۔ انہوں نے کہا کہ اب نہ تو ارشد شریف کا موبائل ملےگا، اور نہ لیپ ٹاپ کیونکہ شواہد مٹا دیے گئے ہیں،یہ بھی کہا گیا کہ ارشد شریف لندن چلا گیا ہے، لیکن اصل میں اسے دبئی سے کینیا بھیج دیا گیا تھا۔ اسکے لیے کینیا کا انتخاب کرنے والوں نے ہی اسکے قتل کی سازش تیار کی تھی۔ ارشد کو جو بھی شخص گائیڈ کر رہا تھا اس نے اس کا سو فیصد یقین کیا جیسے میں اپنے چیئرمین کا سو فیصد یقین کرتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آخری دن تک ارشد سے رابطے میں تھا، اور اپنے موبائل فون کے فارنزک کے لیے تیار ہوں، ارشد کو پاکستان میں کسی سے کوئی خطرہ نہیں تھا، اس کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پازیٹو تعلق تھا، انہوں نےکہا کہ مجھے عمران کے لانگ مارچ میں خون ہی خون، جنازے ہی جنازے نظر آرہے ہیں، لانگ مارچ کے بیانیےکی آڑ میں سازش رچائی جارہی ہے، اور آنے والے دنوں میں مارچ کی آڑ میں کئی لاشیں گرنے والی ہیں۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سائفر اور ارشد کی موت سے جڑے حقائق کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے، کیونکہ اس معاملے میں اداروں کوبدنام کرنے کی کوشش کی گئی، انہوں نے کہا کہ اے آر وائی نیوز نے اداروں کیخلاف رجیم چینج کا مخصوص ایجنڈا پروان چڑھایا، ارشد شریف کی موت پرجھوٹا بیانیہ بنایا گیا، لوگوں کو گمراہ کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ارشد شریف کو باہر بھیجنے کے لیے ٹکٹ سلمان اقبال نے کٹوا کر دیا تھا اسلئے اسے واپس لا کر ارشد قتل کیس میں شامل تفتیش کرنا چاہیے۔ دوسری جانب وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ خان نے بھی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ ارشد شریف کینیا میں وقار احمد اور خرم احمد نامی جن دو بھائیوں کے ساتھ قیام پذیر تھے وہ سلمان اقبال کے ملازم ہیں اور گولڈ اور اسلحے کا کاروبار کرتے ہیں۔
