ارشد شریف قتل کیس عمران کے گلے کیوں پڑنے والا ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ارشد شریف قتل کیس عمران خان کے گلے میں استروں کا ہار ثابت ہوگا اور انہیں بے شمار جگہوں پر جواب دینا پڑے گا کیونکہ خان صاحب خاصے پھنس چکے ہیں۔ جاوید چودھری نے کہا کہ ارشد شریف قتل کی تحقیقات کرنے والا حکومتی کمیشن فیصل واؤڈا کو طلب کرے گا اور ان سے کہے گا کہ جو کچھ آپ نے ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے کہا ہے اسے ثابت کریں۔ اس واقعے سے متعلق آپ کے پاس جو بھی ثبوت ہیں، وہ ہمیں فراہم کیے جائیں۔ میرا خیال ہے کہ فیصل واؤڈا کے پاس ارشد شریف کے قتل سے متعلق انفارمیشن کے علاوہ کچھ تصویریں بھی ہیں، ان کے پاس کچھ مواد آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں بھی موجود ہے۔ فیصل واوڈا یہ سب کچھ حکومتی کمیشن میں جمع کروائے گا اور پھر عمران اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک پنڈورا باکس کھل جائے گا۔

جاوید چودھری نے کہا کہ فیصل واؤڈا کا تازہ مؤقف آنے والے دنوں میں عمران خان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا کیونکہ وہ اقرار کر چکے ہیں کہ ارشد شریف کو ملک سے باہر انہوں نے بھجوایا تھا۔ یہ ثابت کرنے میں بھی دیر نہیں لگے گی کہ دبئی میں عمران کا شہزاد اکبر کے ساتھ رابطہ تھا اور شہزاد اکبر کی ارشد شریف سے ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان کے علاوہ بھی کچھ ایسے لوگوں کے نام سامنے آئیں گےجنہوں نے ارشد شریف کو کینیا جانے کا کہا تاکہ وہاں پر اس کا کام تمام کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو کینیا میں جن لوگوں کے پاس ٹھہرایا گیا تھا جب ان کے چہرے سامنے آئیں گے اور ان کے پاکستان میں ہونے والے رابطے منظر عام پر آئیں گے تو اس سب کے بعد اس کہانی میں ایک نیا موڑ بھی ہمارے سامنے آئے گا۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ارشد شریف عمران خان کے بیانیے کی جنگ لڑتے ہوئے اتنی دور نکال گیا تھا کہ اس کی واپسی ممکن نہیں رہی تھی۔ آج عمران خان دعویٰ کر رہے ہیں ’’میں نے اسے بتایاتھا تمہاری جان کو خطرہ ہے لہٰذایہاں سے نکل جاؤ‘‘۔ یہ بات اگر درست تھی تو پھر عمران خان سے سوال بنتا ہے ’’کیا آپ ارشد شریف کے لیے دبئی سے برطانیہ‘ یورپ یا امریکا کے ویزے کا بندوبست نہیں کر سکتے تھے؟‘‘ کیا وہ اپنے کسی دوست سے کہہ کر اسے دبئی سے کسی محفوظ ملک میں شفٹ نہیں کر سکتے تھے؟ آپ نے اس وقت اس بے چارے کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا تھا لیکن آج آپ اس کا تابوت اٹھا اٹھا کر پھر رہے ہیں‘ آپ کو شاید اپنی سیاست چمکانے کے لیے زندہ ارشد شریف نہیں چاہیے تھا‘ ایک لاش چاہیے تھی اور آپ کو وہ مل گئی اور آپ اب اس لاش کو سیاست کے چوراہوں میں رکھ کر بیچ رہے ہیں۔ آپ کو اگر واقعی ارشد شریف سے ہمدردی تھی یا آپ اگر واقعی اسے پاکستان کا سب سے بڑا صحافی سمجھتے تھے تو آپ کو اس کا ہاتھ اس وقت پکڑنا چاہیے تھا جب اسے آپ کی ضرورت تھی‘ آپ اسے دبئی سے ملائیشیا ہی بھجوا دیتے‘ مہاتیر محمد آپ کا استاد تھا یا آپ اس کا رابطہ ڈونلڈ ٹرمپ سے کروا سکتے تھے جس کی الیکشن کمپیئن کر کے آپ نے اپنے ملک کی سفارت کاری تباہ کر لی یا آپ دبئی حکومت ہی سے بات کر کے ارشد شریف کے لیے سپیس پیدا کرا لیتے یا پھر آپ صدر عارف علوی کو درمیان میں ڈال کر ارشد شریف کی واپسی کا راستہ کھول دیتے‘ آپ نے اس وقت اپنے پسندیدہ ترین صحافی کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن اب آپ اسے جھنڈا بنا کر اپنے جلسوں میں لہرا رہے ہیں‘ کیا یہ ظلم نہیں؟

جاوید چوہدری کہتے ہے کہ ارشد شریف کی موت کے حوالے سے کئی سوالات جواب طلب ہیں۔ مثلا یہ کہ وہ دبئی سے کینیا کیوں گیا‘ وہ کینیا میں وقار احمد اور خرم احمد کے ساتھ کیوں رہتا رہا اور یہ لوگ کون تھے؟کیا وہ واقعی حادثے کا شکار ہوا یا پھر اسے کسی انٹرنیشنل فورس نے گولی مار کر پاکستان کے انتشار کا ایندھن بنا دیا یا پھر اس کا قتل اس کے سیاسی ماضی سے جڑا ہوا ہے‘ یہ کہانیاں آہستہ آہستہ کھلیں گی‘ ان سوالوں کا جواب وقت دے گا لیکن میں ارشد شریف کو ارشد شریف کا قاتل سمجھتا ہوں۔

ارشد شریف بدقسمتی سے صحافت کرتے کرتے بارودی سرنگوں میں داخل ہو گیا تھا اور یہ حقیقت ہے آج تک جو بھی صحافی اس علاقے میں داخل ہوا وہ زندہ واپس نہیں آیا‘ وہ خواہ ارشد شریف ہو یاجمال خشوگی ہو‘ انسان پوری دنیا سے لڑ سکتا ہے لیکن یہ خدا اور ریاست سے نہیں لڑ سکتا‘ہمیں ریاست کو ٹھیک ضرور کرنا چاہیے۔اس کی غلطیوں کی نشان دہی بھی ضرور کرنی چاہیے‘ مظلوم کا ساتھ بھی دینا چاہیے اور معاشرے کو بہتر بنانے کی جنگ بھی ضرور لڑنی چاہیے لیکن ریاست کے ساتھ نہیں ٹکرانا چاہیے‘ انسان اسٹیٹ لیس ہو کر زندہ نہیں رہ سکتا‘ ہم نے بھی اس کو اکیلا چھوڑ دیا تھا‘ کاش ہم ہی آگے بڑھ کر اسے روک لیتے‘ ہم ہی اسے سمجھا لیتے لیکن شاید ہم بھی تماش بین ہیں‘ ہم بھی اس کی صورت حال کو انجوائے کر رہے تھے‘ افسوس ہم ارشد شریف کو نہیں بچا سکے۔

Back to top button