الیکشن کمیشن نے عمران کو نااہل کر نے کی وجہ بتا دی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی نااہلی کے فیصلے میں کہا ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نے الیکشن کمیشن میں جمع شدہ گوشواروں، ٹیکس ریٹرنز اور بنک سٹیٹمنٹس میں موجود تضادات کو کہیں بھی اتفاقیہ یا حادثاتی غلطی قرار نہیں دیا لہٰذا وہ خود کو بے گناہ یا معصوم ثابت کرنے میں ناکام رہے اور غلط بیانی پر نا اہلی کی زد میں آ گئے۔ اس بات کا اظہار الیکشن کمیشن نے 36 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں تین مختلف پیرا گرافس میں کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں لکھا کہ عمران خان کے گوشواروں میں موجود خامیاں اور بنک سٹیٹمنٹس سے عدم مطابقت الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 137 اور 173 کی خلاف ورزی ہے جو جھوٹا بیان اور غلط تفصیلات فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ آئین کے آرٹیکل 63 ون پی کے تحت ان کی نااہلی بنتی تھی۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق سال 2019-20 میں عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اثاثہ جات کے فارم بی میں جو تفصیلات جمع کرائیں انکے مطابق اس سال ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 14 کروڑ 21 لاکھ 19 ہزار 167 روپے تھی۔ پاکستان میں عمران خان کے اثاثہ جات کے مطابق غیر منقولہ جائیداد میں ہاؤس نمبر 2 زمان پارک لاہور سات کنال اور 8 مرلہ موروثی ہے، اس گھر کی تعمیراتی لاگت 4کروڑ 86 لاکھ 60ہزار روپے بتائی گئی ہے، اسکے علاوہ عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بنی گالا کے گاؤں موہڑہ اسلام آباد میں 300 کنال گھر تحفے میں سابقہ اہلیہ جمائمہ خان سے ملا۔ یہاں ٹیکس سال 2015 اور سال 2016 میں اضافی تعمیر پر آنے والی لاگت ایک کروڑ 14 لاکھ 71 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔
بنی گالا میں مالی سال 2020 میں گھر کی تزئین پر ہونے والے اخراجات 39 لاکھ 5 ہزار 479 روپے تھے، اسکے علاوہ بنی گالہ کے علاقے موہڑہ نور میں بھی عمران خان کی 6 کنال 16 مرلہ کی اراضی موجود ہے جس کی مالیت 50 لاکھ 50 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ اسکے علاوہ میانوالی میں عمران خان کے 10 مرلہ کے موروثی گھر میں بھی شیئر ہے، بھکر شہر میں عمران خان کی موروثی 115 کنال 8 مرلہ اراضی موجود ہے، اسکے علاوہ بھکر میں ان کی ایک اور موروثی اراضی بھی موجود ہے جسکا رقبہ 17 کنال اور 3 مرلے ہے، بھکر میں عمران کی ایک اور موروثی اراضی بھی ہے جسکا رقبہ 56 کنال اور 11 مرلے ہے، اسکے علاوہ میاں چنوں خانیوال میں بھی عمران خان کی 530 کنال اور 15 مرلے زرعی اراضی موجود ہے جس کی مالیت صرف 50 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔
