فیض حمید نے طالبان دہشت گرد پاکستانیوں کے گلے کیسے ڈالے؟

معروف تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دور میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ہزاروں طالبان جنگجو ایک بار پھر ملک کے مختلف علاقوں میں واپس آ کر اپنے قدم جما چکے ہیں اور دہشت گردی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ انکا کہنا یے کہ فیض حمید نے ٹی ٹی پی سے جو مذاکرات کئے تھے ان میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے نمائندے بھی شامل تھے جس کے نتیجے میں ہمارے قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے دستوں کی آمد اور دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان پاکستان افغان بارڈر یا ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں، جسکے نتیجے میں سرحدی جھڑپوں میں آئے روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کی شہادت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی افغان پالیسی پر مکمل نظر ثانی کرے یا پھر نئے المیوں کیلئے تیار رہے۔ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں وہ اپنی خود کشی کا اہتمام کرتی ہیں۔ امتیاز کہتے ہیں کہ 16 دسمبر کو ایک نہیں بلکہ دو سانحے ہوئے، پہلا سانحہ مشرقی پاکستان اور دوسرا سانحہ اے پی ایس پشاور۔ مارچ سے دسمبر 1971 کے دوران مشرقی پاکستان میں بنگالی بھائیوں کی سفاکانہ نسل کُشی کی گئی جو تاریخ میں بدترین قتل عام کے طور پر جانی جاتی ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا قومیں اپنے گناہوں کا اعتراف کئے بنا اور اصلاح و اسباق بنا اپنے ناقابل معافی ماضی سے خلاصی پاسکتی ہیں؟ لیکن یہاں تو۔معاملہ ہی اُلٹ رہا، مشرقی پاکستان میں نسل کشی کرنے والے قاتلوں نے شکر ادا کیا کہ ہماری ”بھوکے بنگال“ سے جان چھوٹی۔ لیکن تاریخ کا ایک تازیانہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش اپنی قومی آزادی کی جنگ جیت کر معاشی و سماجی پر پاکستان سے ہر اعتبار سے آگے نکل گیا ہے۔ وہ بنگالی جنہوں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا، وہی غدار وطن ٹھہرائے گئے۔ ان کی اکثریت، قومی زبان بنگالی، ان کے ذرائع اور منفرد تاریخی مقام کو نہ صرف تسلیم نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ایک محکوم و مجبور کالونی میں بدل دیا گیا۔ نتیجتاً نہ یی پاکستان جمہوریہ بن سکا اور نہ 24 برس تک ایک حقیقی آئینی مملکت بن پایا، یوں 16 دسمبر 1971 کو متحدہ پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ جس جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے بنگالیوں کی نسل بدلنے کا عہد کیا تھا، اسےڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان بارے حمود الرحمان کمیشن کی غیر مکمل رپورٹ پر تو عمل درآمد کس کو کرنا تھا، اب جنگی جرائم میں ملوث افسران کی قربانیوں کے قصے سنائے جانے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ جنرل باجوہ نے تاریخ کی درستی کرتے ہوئے 1971ءکی جنگ کو فوجی شکست ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ عوامی نفرت کا شکار جنرل باجوہ سے گزارش ہے کہ وہ ملٹری سائنس کے عظیم چینی مفکر سن زو کی کتاب ”آرٹ آف وار“ سے رجوع کرتے ہوئے ذرا جنرل اروڑا اور جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکمت عملی پڑھ لیں۔ جنرل اروڑا نے سن زو کے اس مقولے پر عمل کیا کہ فتح یاب فوج پہلے کامیاب ہوتی ہے اور بعد میں جنگ لڑتی ہے۔ یہی ہوا کہ 8 ماہ کی خانہ جنگی کے بعد جب پاک فوج بالکل تنہا اور پسپا ہوگئی تو بغیر لڑے کامرانیاں لپیٹ کر فقط 13 روز کی باقاعدہ جنگ میں جنرل اروڑا نے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا حالانکہ وہ تین چار ماہ ابھی اور لڑسکتی تھی۔

دوسری جانب جنرل یحییٰ خان نے سن زو کے اس مقولے پر عمل کیا کہ ”شکست خوردہ فوج پہلے جنگ لڑتی ہے اور بعدازاں جیت کی طلب گار ہوتی ہے“۔ جنرل باجوہ کے فوجی شکست تسلیم کرنے سے انکار کے قطع نظر آپ پاکستانی سلیبس اٹھا کر دیکھ لیجئے کہ 1971کی جنگ کو کیسے خود فریبی کیلئےاستعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تو شکریہ ادا کریں ذوالفقار علی بھٹو کا جس نے شملہ معاہدہ کرتے وقت یہ شرط منوا لی تھی کہ پاکستان سے تاوان جنگ وصول نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی بنگلہ دیش جنگی جرائم میں مقدمات چلائے گا۔ انہوں نے نہ صرف مغربی پاکستان کے مفتوحہ علاقے واگزار کروائے بلکہ 93 ہزار جنگی قیدیوں کی باعزت واپسی یقینی بنوائی، لیکن اس سب کے اعتراف میں بھٹو کو نشان حیدر تو کیا ملتا، نشان عبرت ضرور بنادیا گیا۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ اگر مشرقی پاکستان کے المیہ سے کوئی سبق سیکھا ہوتا تو بلوچستان میں دو دہائیوں سے جاری فوج کشی کیوں ہوتی؟ دو بار مارشل لا اور پھر ہائبرڈ رجیم یوں گھڑے جاتے اور عوام کی حکمرانی کیوں ایک خواب بن کے رہ جاتی۔ دسمبر 2014 میں اے پی ایس پشاور کے 148 معصوم طلبا و اساتذہ کو طالبان دہشت گردوں نے انتہائی سفاکی سے گولیوں سے بھون ڈالا تھا اور سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں تاحیات غم و اندوہ سے بھر دی تھیں۔ پانچ دہائیوں سے جہاد کے نام پر سرکاری سر پرستی میں جاری دہشت گردی سے صبح شام نوالہ بنتی نہتی قوم جاگی تو معصوم طلبا کے سفاکانہ قتل عام سے معصوم بچوں کے خون اور چیخوں نے پوری قوم کوہلا کر رکھ دیا۔

نتیجتاً دہشت گردی کو بطور حکمت عملی وقتی طور پر بدلنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور مسلح افواج کے اتفاق رائے سے ایک نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیا اور آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت ڈیورنڈ لائن پار ہجرت پر مجبور ہوگئی اور جہاں تحریک طالبان پاکستان کو تحریک طالبان افغانستان خاص طور پر حقانی نیٹ ورک نے محفوظ کمیں گاہیں فراہم کیں۔ جنرل مشرف کی اور جنرل کیانی کی غضب کی دہری حکمت عملی نے جہاں افغان طالبان کی فتح کیلئے ضروری کمک پہنچائے رکھی، وہیں ٹی ٹی پی نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور امریکہ کے خلاف افغان جہاد میں اپنا حصہ ڈالا۔ داعش اور القاعدہ کو پاکستان میں غزوہ ہند اور خراسان کی حکومت کیلئے شام و عراق سے پسپا ہونے کے بعد ان کو افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں میسر آگئیں۔

افغان طالبان نے نہایت کامیاب حکمت عملی اور سفارت کاری سے امریکیوں کے ساتھ دوحہ میں امن معاہدہ کر کے صدر اشرف غنی کی حکومت اور اس کے تمام تر جدید نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچوں کو فارغ کردیا۔ امریکہ کی بیس سالہ ریاستی تعمیر خاک میں مل گئی اور اس کے ساتھ ہی جدید پڑھی لکھی مڈل کلاس دربدر ہوگئی۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ایک بڑے انخلا اور ریاستی مسماری کے بعد بچا بھی ہے تو پتھر کے زمانے کا افغانستان اور اس پر طالبان کا نظام۔ مظلوم افغان عوام بدترین افلاس اور قحط کی نذر ہورہے ہیں، اوپر سے طالبان کا شدت پسندانہ نظام انہیں جلا وطنی پہ مجبور کررہا ہے۔ لاکھوں افغان ہر ماہ پاکستان نقل مکانی کررہے ہیں اور اربوں ڈالرز اور درآمد شدہ گندم، کھاد افغانستان اسمگل ہورہی ہےجبکہ افغان ٹریڈ سے پورا پاکستان بھرا پڑا ہے۔

افغانستان پاکستان کی محفوظ پشت بننے کی بجائے پاکستان کے لئے بڑا قبرستان بننے جارہا ہے۔ افغان طالبان نظریاتی، حربی اعتبار سے تحریک طالبان پاکستان کے حقیقی اتحادی ہیں اور وہ کسی صورت میں ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں، نہ انہیں کسی امن سمجھوتے پہ مجبور کرسکتے ہیں۔ الٹا افغان حکومت انہیں پاکستان پر دباؤ کیلئے استعمال کررہی ہے اور ہر طرح کی کمک پہنچا رہی ہے۔ جنرل فیض حمید نے ٹی ٹی پی سے جو مذاکرات کئے تھےاس میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے کارندے بھی شامل تھے جس کے نتیجے میں ہمارے قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے دستوں کی آمد اور دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔ اس لیے آرمی پبلک اسکول کے بچوں کی شہادت کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی افغان پالیسی پر مکمل نظر ثانی کرے یا پھر نئے المیوں کیلئے تیار رہے۔ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں وہ اپنی خود کشی کا اہتمام کرتی ہیں، آخر کب تک؟

Back to top button