یوتھیوں کا گمرانڈو گرو عمرانڈو کے بعد شطرانڈو بھی نکلا

ایک ہی دن میں عمران خان کی دو خواتین کیساتھ گندی گفتگو پر مبنی دو آڈیوز لیک ہونے کے بعد یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یوتھیوں کا گمرانڈو گرو عمرانڈو ہونے کے بعد اب شطرانڈو بھی ثابت ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دو مختلف خواتین کے ساتھ لیک ہونے والی غلیظ ترین ٹیلی فونک گفتگو کی آڈیوز نے ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار عمران خان کا رہا سہا بھرم بھی ختم کر دیا یے کیونکہ وہ جس قسم کی گھٹیا گفتگو کرتے سنائی دیتے ہیں، وہ کوئی نارمل شخص نہیں بلکہ جنسی ہوس کا مارا ہوا کوئی ذہنی طور پر بیمار شخص ہی کر سکتا ہے۔ ابھی چند ہی روز پہلے عمران خان نے ایک تقریر میں سوال کیا تھا کہ کیا خفیہ ایجنسیوں کا کام لوگوں کی خفیہ ویڈیوز اور آڈیوز تیار کرنا ہے، لہٰذا انہیں اپنے سوال کا جواب مل گیا لگتا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی جن دو خواتین کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو لیک ہوئی ہے وہ ان کیساتھ جنسی انکاؤنٹر کے دوران اور بعد کے تجربے پر مبنی یے۔ عمران خان دونوں خواتین سے ان کے جنسی تجربے کے حوالے سے گندے ترین سوالات کر رہے ہیں اور نہایت بے شرمی سے ہر طرح کی پوزیشن ڈسکس کرتے سنائی دیتے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک خاتون ماضی میں سیاست میں بھی رہی ہیں اور بعد ازاں ایک ٹی وی چینل پر کرنٹ افئیرز کا شو بھی کرتی رہی ہیں۔ موصوفہ مطلقہ ہیں، اسلام آباد میں مقیم ہیں، ایک بیٹی کی والدہ ہیں، ملک خاندان سے ہیں اور کچھ برس سے گوشہ نشینی اختیار کر چکی ہیں۔
خان صاحب کی لیک ہونے والی دوسری آڈیو میں جس خاتون کی آواز سنائی دیتی ہے ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا حصہ رہی ہیں لیکن اب وہ پارٹی سے دوری اختیار کر چکی ہیں۔ پہلی لیک شدہ فون کال میں خاتون عمران خان کو بتا رہی ہیں کہ انہوں نے ان کا اتنا برا حشر کیا ہے کہ وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جا کر اسے اپنا جسم بھی نہیں دکھا سکتیں۔ تاہم اس کے باوجود خان صاحب اصرار کرتے ہیں کہ تم واپس آؤ۔ ہھر خان صاحب خود ہی کہتے ہیں کہ ایک دو روز میں شاید میرے بچے آنے والے ہیں میں ان کو روکتا ہوں پھر تمہیں بتاتا ہوں۔ دوسری خاتون کے ساتھ گفتگو میں خان صاحب اس کے جنسی تجربات سن رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ وہ آئیندہ اس پر کون کون سے تجربات کریں گے۔ ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار عمران خان کی یہ گفتگو اتنی اخلاق بافتہ ہے کہ سننے والے کے کانوں سے دھواں نکل جاتا ہے تاہم یہ دو آڈیوز خان صاحب کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہیں۔
یاد رہے کہ آج کل پاکستانی سیاست میں قابل اعتراض خفیہ آڈیوز اور ویڈیوز لیک ہونے کا سیزن کا عروج پر ہے اور مخالفین ایک دوسرے کی ویڈیوز لیک کر رہے ہیں۔ عمران خود کئی بار بتا چکے ہیں کہ انکے مخالفین انکی گندی گندی آڈیوز اور ویڈیوز لیک کرنے کی تیاری میں ہیں لیکن وہ ڈیپ فیک ویڈیوز ہوں گی۔ ماضی قریب میں جیو ٹی وی پر کیپیٹل ٹاک میں حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے بتایا تھا کہ ان کے علم میں ہے کہ عمران کی کچھ نازیبا ویڈیوز اور آڈیوز موجود ہیں جن میں سے کچھ ویڈیوز تو وہ دیکھ بھی چکے ہیں۔ اس سے پہلے نون لیگ کے سینیئر رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے عمران خان پر الزام عائد کیا تھا کہ ان کی لاس اینجلس سے لے کر کالا باغ کے ریسٹ ہاؤس تک ہر جگہ ویڈیوز موجود ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے معروف اینکر پرسن جاوید چوہدری نے کہا تھا کہ عمران خان کے 2014 کے دھرنے کے دوران ان کی کنٹینر میں کچھ ویڈیوز بنائے جانے کی افواہیں بھی تھیں جو اب لیک ہو سکتی ہیں، اس کے علاوہ ان کے دور حکومت میں بھی کچھ ویڈیوز تیار ہونے کی خبریں ہیں، جو کسی بھی وقت لیک ہو سکتی ہیں۔
