قائمہ کمیٹی نے اکثریتی ووٹ کے ساتھ سی پیک اتھارٹی کا بل کلیئر کردیا

اپوزیشن اراکین کی جانب سے مخالفت کے دوران ایک پارلیمانی کمیٹی نے اکثریتی ووٹ سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)اتھارٹی (ترمیمی) بل 2020 کو کلیئر کرلیا۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کا اجلاس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رکن قومی اسمبلی کی سربراہی میں ہوا جس میں حکومی بل پیش کیا گیا، یہ بل گزشتہ اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے بلاک کردیا تھا۔ اجلاس کے آغاز میں کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی سے سوال کیا کہ سی پیک اتھارٹی کے موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو کتنی تنخواہ دی جارہی تھی۔ جس پر وزارت نے جواب دیا کہ چونکہ رواں برس مئی میں سی پیک آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد انہوں نے مفاہمت کی کسی یادداشت پر دستخط نہیں کیے تھے اس لیے انہیں کوئی تنخواہ نہیں دی جارہی تھی۔ اپوزیشن اراکین نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کی تشکیل پر ان کے تحفظات دور نہیں کیے گئے اور نئی اتھارٹی کی تشکیل سی پیک منصوبوں کو تیز کرنے کے بجائے ان پر اثر انداز ہوگی۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے پاس کوئی اختیار نہیں اور تمام کام متعلقہ وزارتیں کریں گی، اتھارٹی کے افعال وزارتوں کے کام سے نہیں ٹکرائیں گے۔ کمیٹی چیئرمین نے بل پر ووٹنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاسوں کے دوران جامع بات چیت ہوچکی ہے، کمیٹی نے 7:5 کی نسبت سے بل کو قومی اسمبلی سے منظور کروانے کی اجازت دے دی۔ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) تعلق رکھنے والے اراکین محمد سجاد، احسن اقبال، محمد جنید انور چوہدری اور سردار محمد عرفان ڈوگر اور پیپلز پارٹی کے سید آغاز رفیع اللہ نے اپنا اختلافی نوٹ پیش کیا۔
سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سی پیک اتھارٹی کی تشکیل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل غیر ضروری اور بے جا ہے کیوں کہ ماضی میں وزارت منصوبہ بندی یہ کردار بہت مؤثر طریقے سے ادا کرتی رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین کا ماننا تھا کہ سی پیک اتھارٹی بہت کم افادیت اور حقیقی کردار کے ساتھ ایک متوازی پلاننگ کمیشن بن جائے گی اور دوسرا ‘سفید ہاتھی’ ثابت ہوگی۔ احسن اقبال نے کہا کہ پلاننگ کمیشن نے کسی اتھارٹی کے بغیر اور دیگر وزارتوں کے تعاون سے 29 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کو راستہ فراہم کیا تھا اور جسے کامیابی سے جاری رہنا چاہیئے۔ تاہم وزارت منصوبہ بندی نے سی پیک اتھارٹی کی تشکیل کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سی پیک سے متعلق سرگرمیوں پر عملدرآمدر یقینی بنانے کےلیے منصوبہ بندی، سہولت کاری، تعاون، نگرانی اور جائزوں کی ذمہ دار ہوگی۔ وزارت نے بتایا کہ اتھارٹی بین الوزارتی اور بین الصوبائی تعاون کو یقینی بنانے کوآرڈینیشن کمیٹی اور کوائنٹ ورکنگ گروپس کے اجلاس منعقد کرنے اور اس کا انتظام بھی کرے گی۔ ساتھ ہی سی پیک اتھارٹی طویل المدتی منصوبہ بندی اور بہتر فیصلے لینے کےلیے شعبہ جاتی تحقیق کرنے کی بھی ذمہ دار ہوگی اور ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً سی پیک سے متعلق بیانیے کی تشکیل اور رابطے اور دیگر سرگرمیاں بھی کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button