قاسم سلیمانی کے قتل کی داستان سنانے پر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرون حملے میں قتل کیے گئے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے واقعے کی ریپبلکن کے چندہ اکٹھا کرنے کے حوالے سے منعقد کیے گئے عشائیے میں کہانی سنادی۔ جس پر چند امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرامائی انداز میں وائٹ ہاؤس اسٹیشن کے کمرے سے قاسم سلیمانی کے قتل کے حوالے سے صورتحال پر نظر رکھنے کی داستان سنائی۔امریکی صدر نے فلوریڈا کے علاقے پام بیچ میں مار اے لاگو کلب کے بال روم میں یہ داستان سنائی جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے 2020 میں انتخابی مہم کے لیے منعقد کیے گئے چندہ اکٹھا کرنے کی تقریب میں ایک کروڑ ڈالر جمع کیا گیا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہیں فوجی حکام نے بتایا کہ ‘وہ یہاں ایک ساتھ ہیں سر، سر ان کے پاس 2 منٹ 11 سکینڈز ہیں جینے کے لیے، وہ گاڑی میں ہیں ایک بکتر بند گاڑی میں، سر ان کے پاس جینے کے لیے صرف ایک منٹ ہیں، 30 سیکنڈز، 10، 9، 8….’۔ان کا کہنا تھا کہ پھر اچانک دھماکے کی آواز آئی، سر وہ جاچکے ہیں، اب میں کاٹتا ہوں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘میں نے کہا یہ شخص کہاں ہے، یہ آخری بات میں نے اس سے سنی تھی’۔یہ انتہائی تفصیلی داستان تھی جو ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈرون حملے کے حوالے سے سنائی جس پر چند امریکی قانون سازوں نے تنقید کی کیونکہ نہ ہی امریکی صدر اور نہ ہی ان کے مشیروں نے عوام کو قاسم سلیمانی کو امریکی خطے کے لیے ‘خطرہ’ قرار دینے کے بیان کے حوالے سے وضاحت دی ہے۔ ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ قاسم سلیمانی ان کے لیے کس طرح خطرہ تھے۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘قاسم سلیمانی حملے سے قبل ہمارے ملک کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کر رہا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اس کے قتل کی اجازت دی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس طرح کی بکواس کب تک سنیں گے، اور کتنا سنیں گے’۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد تہران نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔بعدازاں ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں 8 جنوری کو عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے۔
