مواخذہ غیرآئینی اور خطرناک ہے

مواخذے کے مقدمے میں امریکی صدر کے وکلا نے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے الزامات کو امریکی عوام پر خطرناک حملہ قرار دے دیا۔ قانونی ٹیم کے مطابق یہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں دخل اندازی کی شرمناک کوشش ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دفاعی قانونی ٹیم نے جاری بیان میں کہا ہے کہ مواخذے کی تحریک 2016 کے انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دینے اور 2020 کے آئندہ انتخابات میں مداخلت کی شرمناک اور غیر آئینی کوشش ہے۔ دفاعی ٹیم نے مواخذے کے قانون کی جن شقوں کے تحت صدر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ کیا گیا ہے، ان کو آئینی طور پر غلط قرار دیا ہے۔یہ شقیں صدر پر قانون کی خلاف ورزی، یا جرم کے ارتکاب کا الزام لگانے میں ناکام ہوگئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کا باضابطہ آغاز 21 جنوری سے ہو گا۔
گزشتہ ماہ ایوان نمائندگان نے ان دونوں الزامات پر مواخذے کی منظوری دیتے ہوئے معاملہ سینیٹ کو بھجوا دیا تھا۔ ایوان نمائندگان، جہاں حزب اختلاف ڈیموکریٹ کی اکثریت ہے، میں مواخذے کے حق میں 230 جب کہ مخالفت میں 197 ووٹ ڈالے گئے تھے۔
سینیٹ سے مواخذے کی منظوری کےلیے ڈیموکریٹک پارٹی کو دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔
صدر ٹرمپ پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے رفقا اور ذاتی وکیل نے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ڈیموکریٹس اور صدر ٹرمپ کے سیاسی حریف سابق نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف سیاسی مواد اکھٹا کرنے میں مدد کریں۔
صدر ٹرمپ پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایوان نمائندگان کی جانب سے اس واقعے کی انکوائری کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
آئندہ ہفتے سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کا آغاز ہو گا۔ وائٹ ہاؤس کے وکیل پیٹ سپولون اور ٹرمپ کے ذاتی وکیل جے سیکیولو قانونی ٹیم کی قیادت کریں گے۔
قانونی ٹیم میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے مواخذے کے دوران تفتیش کرنے والے وکلا کین سٹار اور رابرٹ رے بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایلن درشووتز بھی قانونی ٹیم کا حصہ ہیں جو ماضی میں فٹبال کھلاڑی او جے سمپسنز کے وکیل رہ چکے ہیں۔
