قبائلی اضلاع میں داعش کی طالبان مخالف کارروائیاں تیز
افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد وہاں سے فرار ہونے والے داعش کے دہشت گردوں نے پاکستان کے قبائلی اضلاع میں افغان اور مقامی طالبان کی ٹارگٹ کلنگ شروع کر دی ہے جس سے علاقے کا امن متاثر ہو رہا ہے اور لوگ خوف میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ قبائلی اضلاع کے لوگوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ اگر داعش کو بروقت نہ روکا گیا تو ٹارگٹ کلنگ میں نہ صرف طالبان نشانہ بن سکتے ہیں بلکہ دوسرے لوگ بھی زد میں آسکتے ہیں اور یہ علاقہ ایک بار پھر جنگجووں کی آماجگاہ اور میدان جنگ بن جائے گا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی اضلاع میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے علاوہ داعش کی موجودگی ایک حقیقت ہے۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان کی سب سے خطرناک دشمن بھی داعش ہے اور اسے جب بھی موقع ملے گا وہ طالبان کو نشانہ بنائے گی۔ افغانستان میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد پاکستان کے قبائلی اضلاع میں نصف درجن سے زیادہ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں طالبان کو گھات لگا کر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں داعش نے اس کی ذمہ داریاں بھی قبول کی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر افغانستان میں حالت خراب ہوں تو قبائلی اضلاع براہ راست متاثر ہوتے ہیں کیونکہ سرحد کے آر پار قبائلیوں کا آپس میں میں نہ صرف کاروباری لین دین ہے بلکہ ایک دوسرے سے رشتہ داری بھی ہے۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پچھلے کچھ عرصے میں تین ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک افغان طالب اور ایک مقامی شخص نور زمان کو جن کا تعلق حقانی گروپ سے بتایا جاتا تھا، نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ بعد میں تینوں واقعات کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی۔ اس کے علاوہ گذشتہ دنوں قبائلی ضلعے خیبر میں انسداد دہشت گردی فورس نے کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو گرفتار کیا جن کا تعلق داعش سے بتایا گیا تھا۔
اس واقعے سے ایک روز قبل وانا بازار میں طالبان کمانڈر ملنگ کے دفتر کے باہر نصب کیے گئے ایک بم کو پولیس نے ناکارہ بنایا تھا۔ داعش کے تازہ حملوں سے قبل بھی باجوڑ، اورکزئی اور کرم میں داعش اور طالبان شدت پسندوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔ جنوبی وزیرستان کے مقامی صحافیوں کے مطابق داعش کے لیے قبائلی اضلاع میں طالبان کو نشانہ بنانا بہت آسان ہدف ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان داعش کے حملوں کے لیے پہلے سے تیار بیٹھے ہیں۔ پورے افغانستان میں جہاں بھی داعش کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ قبائلی اضلاع میں طالبان داعش کا پیچھا نہیں کرسکتے اور داعش چھپ کر ایک ایک کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
جنوبی وزیرستان کے رہائشی حالیہ واقعات کے بعد وانا میں خوف کی وجہ سے روزانہ ایک دوسرے سے حالات کے بارے میں پوچھتے ہیں کیونکہ شدت پسندی کے خلاف جنگ کی ابتدا وانا سے ہی ہوئی تھی اور گذشتہ دو دہائیوں سےلاکھوں لوگ نہ صرف اپنے گھروں سے باہر رہے بلکہ ان کے کاروبار بھی تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بہت کم عرصہ ہوا ہے کہ لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹے ہیں یا اپنا کاروبار دوبارہ بحال کیا ہے۔ اس طرح نہ ہو کہ لوگ خوف کی وجہ سے دوبارہ اپنے علاقے سے نکل جائیں۔ لوگ داعش کے نام سے ڈرتے ہیں۔ جب سے داعش نے علاقے میں کچھ واقعات کی ذمہ داریاں قبول کی ہے تب سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ابھی تک کسی نے داعش کے کسی رکن کو نہیں دیکھا ہے البتہ طالبان کے ارکان کو وانا بازار کے علاوہ گاؤں میں دیکھا گیا ہے۔ لوگوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ اگر داعش کو بروقت نہ روکا گیا تو ٹارگٹ کلنگ میں نہ صرف طالبان نشانہ بن سکتے ہیں بلکہ دوسرے لوگ بھی زد میں آسکتے ہیں۔
