چلغوزہ 10 ہزار روپے فی کلو سے 2500 کلو پر کیوں آگیا؟

پاکستان میں موسم سرما کی سوغات کہلانے والا چلغوزہ اس قدر مہنگا ہو چکا ہے کہ اب یہ عام پاکستانیوں کی پہنچ سے بہت دور ہو گیا ہے۔ تاہم ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے سے اس برس یہ سوغات سستی ہو کر متوسط طبقے کی رسائی میں بھی گئی ہے۔ جی ہاں، آپ کے لئے خبر ہے کہ چلغوزے کی قیمت اس برس 10 ہزار روپے فی کلو سے کم ہو کر 2500 روپے فی کلو پر آ گئی ہے۔

تاہم پاکستان میں چلغوزے کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس سال چلغوزے کی قیمت 50 سے 75 فیصد کم ہوجانے کے باعث ان کا کاروبار تباہ ہوگیا ہے جس سے ان کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اور کئی تاجر دیوالیہ ہو گئے۔ لیکن دوسری طرف متوسط طبقہ خوش ہے کہ ان سردیوں میں وہ رضائیوں اور کمبلوں میں گھس کر چلغوزے کے مزے لے سکیں گے۔ یاد رہے کہ چلغوزہ ہر سال موسم سرما میں تیار ہونے کے بعد پاکستان اور افغانستان سے ملکی و عالمی مارکیٹوں میں جاتا ہے۔ پاکستان میں چلغوزوں کا گڑھ چترال، شمالی وزیرستان اور سلسلہ کوہ سلیمان ہے جہاں سے ملک کا 75 فیصد چلغوزہ مارکیٹوں تک جاتا ہے۔

افغانستان میں شمالی وسطی صوبے جیسے پکتیا، پکتیکا، کنڑ، خوست، لغمان اور نورستان چلغوزوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہیں۔چلغوزوں کی کھیپ پاکستان میں تین منڈیوں سے گزر کر عالمی منڈی تک جاتی ہے۔شروع میں یہ میوہ بنوں کی ’آزاد منڈی’ سے ہوتا ہوا راولپنڈی اور پھر وہاں سے چین پہنچ جاتا تھا جہاں خطے میں چلغوزوں کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔ اسکی تیسری بڑی منڈی چلاس کی ہے جہاں سے صرف بلتستان کے چلغوزے چین کو برآمد کیے جاتے ہیں۔

اس سال چلغوزے کی قیمتوں میں 50 سے 75 فیصد کمی کی وجہ تین عوامل بتائے جا رہے ہیں۔ پہلی وجہ افغانستان میں طالبان حکومت کی چین لے ساتھ ڈائریکٹ چلغوزوں کی تجارت کا فیصلہ ہے خس نےبپاکستانی تاجروں کا زیادہ نقصان کیا یے۔ چلغوزوں کا کاروبار کرنے والے وزیرستان کے رہائشی مطیع اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے کئی دیگر کاروباری دوست چلغوزوں کے کاروبار میں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔ مطیع نے بتایا لہ پچھلے سال فی من چلغوزہ دو سے ڈھائی لاکھ روپے میں بکتا تھا جبکہ اس سال اس کی فی من قیمت 65 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہے۔ اسی طرح فی کلو چلغوزہ آٹھ ہزار روپے سے کم ہوکر 2500 سے 4000 ہزار روپے کے درمیان آ گیا ہے۔

مطیع اللہ کے مطابق قیمتیں گرنے کی سب سے بڑی وجہ چین اور طالبان حکومت کے درمیان براہ راست چلغوزوں کی تجارت ہے۔ اس سال طالبان حکومت نے چین کو براہ راست 45 ٹن چلغوزے پہنچائے جس کی وجہ سے ہمیں 80 فیصد تک نقصان ہوا۔ پاکستانی ڈیلرز اپنا سٹاک پورا نہ کر سکے چونکہ چین میں چلغوزے افغانستان سے براہِ راست پہنچ گئے اس لیے پاکستانی تاجروں کے پاس چلغوزوں کا زیادہ سٹاک پڑا رہ گیا اور طلب و رسد کے اصول کے تحت ان کی قیمت کم ہو گئی۔

مطیع اللہ نے مزید بتایا کہ چلغوزوں کے ڈیلرز مال لیتے وقت مرطوب یعنی نمی والے چلغوزے لیتے ہیں اور اسی وزن کے حساب سے پیسے دیتے ہیں لیکن جب مقررہ وقت میں تاخیر ہوتی ہے تو وہ راستے میں ہی خشک ہو جاتے ہیں جس سے چلغوزوں کا وزن کم ہو جاتا ہے اور تاجروں کا نقصان ہوتا ہے۔

حالیہ دنوں میں چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات میں افغانستان نے چین کو باہمی تجارت کی پیشکش کی تھی اور افغانستان نے درخواست کی تھی کہ چین ان کے ساتھ خشک میوے خصوصاً چلغوزے کو چینی مارکیٹ تک رسائی دی۔ چین اور روس کو اپنے علاقوں میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور داعش کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے کابل میں موجودہ حکمران طالبان کی حمایت درکار ہوگی یہی وجہ ہے کہ چین تجارتی معاہدوں کے ذریعے طالبان کو دوستی کا پیغام دینا چاہتے ہیں اور اسی لیے چلغوزہ ڈپلومیسی کو فروغ دے رہا ہے لیکن اس سے پاکستانی تاجروں کو نقصان ہو رہا ہے جو چین سے براہ راست چلغوزے حاصل کرتے تھے۔
[23:53, 12/11/2021] +92 314 4444999:

Back to top button