قندیل بلوچ کے بعد مفتی قوی حریم شاہ کے ساتھ پکڑے گئے

ابھی لوگ ماڈل قندیل بلوچ کے مقدمہ قتل میں نامزد ہونے والے نام نہاد عالم دین مفتی عبدالقوی کی مقتول سوشل میڈیا گرل کے ساتھ پہلی سیلفیاں نہیں بھولے تھے کہ اب ان کی بدنام زمانہ ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے ساتھ ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس نے قندیل بلوچ کی یاد تازہ کردی ہے۔
سوشل میڈیا پروائرل اس تصویر میں مفتی عبدالقوی اور حریم شاہ ساتھ ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ جب مفتی صاحب سے اس تصویر کے بارے میں پوچھا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ یہ لڑکی تو بڑی خطرناک ہے اورآپ تو پہلے ہی ایک سوشل میڈیا سٹار کا مقدمہ قتل بھگت چکے چکے ہیں تو انہوں نے کہا کہ حریم شاہ انہیں اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں ملی تھی اور اس نے میرے ساتھ تصویر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا چنانچہ میں نے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصویر 7 دسمبر کو بنائی گئی اور اس وقت تک حریم شاہ نے شیخ رشید پر نازیبا الزامات نہیں لگائے تھے اس لیے میں نے تصویر بنوانے میں کوئی مذائقہ نہیں سمجھا۔ تاہم مفتی قوی نے بتایا کے انھوں نے شیخ رشید کی نازیبا تصاویر اور وڈیو جاری ہونے کے بعد حریم شاہ کو خفیہ پیغام بھجوایا تھا کہ وہ ایک ذہین اور فطین لڑکی ہے لہٰذا اسے اس طرح کے قابل اعتراض کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جس میں نقصان کا احتمال ہو۔ مفتی قوی نے کہا کہ شاید ان کا یہ پیغام موصول ہونے کے بعد ہی حریم شاہ نے ان کے ساتھ اپنی تصویر مارکیٹ کردی ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین اس تصویر کے حوالے سے طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ قندیل کے بعد اب حریم شاہ کی اگلے جہاں جانے کی تیاری مکمل ہوگئی لگتی ہے۔ تو کچھ نے کہا کہ اب حریم مفتی قوی کا خانہ خراب کرے گی۔
یاد رہے کہ پاکستان کی پہلی سوشل میڈیا سٹاراورماڈل قندیل بلوچ نے مفتی قوی کے ساتھ اپنی ایک پرائیویٹ ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کردی تھی جن میں وہ مفتی صاحب کی ٹوپی سر پر سجائے ان کی جھولی میں بیٹھی دکھائی دے رہی تھی۔ مفتی قوی نے ان تصاویر کے وائرل ہونے پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف ایک سازش کا حصہ قرار دیا تھا۔ تاہم وفاقی حکومت نے انہیں اس واقعہ کے بعد رویت ہلال کمیٹی کی ممبر شپ سے فارغ کردیا تھا۔
تاہم سوشل میڈیا پر یہ تصاویر وائرل ہونے کے کچھ ہفتوں بعد ہی قندیل بلوچ کے بھائی نے جولائی2016 میں اپنی بہن کو ملتان کے گھر میں گلے میں پھندا ڈال کر غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
قندیل کے قتل کے بعد انکشاف ہوا تھاکہ اس کا قاتل بھائی وسیم عظیم دراصل قتل سے پہلے مفتی قوی کے ساتھ رابطے میں تھا اور اسے قتل پر اکسانے میں بھی مفتی صاحب کا ہاتھ تھا چنانچہ مقدمہ قتل میں مفتی عبدالقوی کو بھی نامزد کر دیا گیا اور تفتیش کے لئے گرفتارکرلیاگیا۔ ستمبر 2019 میں ملتان کی ایک ماڈل کورٹ نے قندیل کے بھائی کو قتل کے الزام میں سزائے موت سنادی اور مفتی قوی اور پانچ دیگر نامزد ملزمان کو عدم شواہد کی بنا پر بری کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button